قومی و بین الاقوامی ایشوز

دفاعی سفارت کاری اور افواجِ پاکستان کا کردار

گزشتہ چند برسوں سے بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نئی طرز کی سفارت کاری کا اضافہ ہوا ہے جس کو دفاعی سفارت کاری یا عسکری سفارت کاری بھی کہا جاتا ہے۔یہ خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے جس کی اہمیت دنیا بھر میں مسلمہ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق اس سفارت کاری میں دوست ممالک کی افواج عسکری تعلقات بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کرتی ہیں جن میں فوجی مشقوں کا انعقاد، امن مشن میں افواج کی نمائندگی اور فوجی ساز وسامان کی خریدوفروخت کی جاتی ہے ۔اس طرح دوست ممالک کے درمیان جذبہ خیر سگالی کے تحت باہمی دفاعی تعاون کو فروغ دیا جاتا ہے۔      
دفاعی سفارت کاری کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے ہمیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کے مابین جاری رہنے والی نصف صدی پر محیط سردجنگ (1940 -1990) کے خاتمے کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے اس امر کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی گئی کہ کسی بھی ملک کی افواج کو تنگ نظری سے دیکھنے کے بجائے اگر خارجہ تعلقات مضبوط بنانے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عالمی امن و امان کے قیام میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ دفاعی سفارت کاری کاباقاعدہ آغاز 1998میں برطانیہ کے اسٹر یٹجک ڈیفنس ریویوسے ہوا جس کو دنیا بھر میں خوب پذیرائی ملی۔ 
دور حاضر میں یہ خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔اس کی بدولت نہ صرف کسی بھی ملک کی دفاعی استعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے بلکہ یہ اس روائتی نظرئیے کو بھی رد کرتی ہے جس کے پیش نظر ماضی میں افواج کے کردار کو جنگی یا جارحانہ مقاصد کے استعمال کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افواج کی ذمہ داریوں میں صرف جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانا بھی ہوتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے افواج پاکستا ن کی اعلیٰ قیادت کے بیرون ممالک کے دوروں پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں حالانکہ دیگراعلیٰ عسکری قیادتوں سے ملاقاتیں کرنا دفاعی سفارت کاری ہی کا حصہ ہیں جنہیں متنازع بنا کر دفاعی اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا کسی حوالے سے بھی ٹھیک نہیں ہے۔   
افواج پاکستان کی ملک و قوم اورعالمی قیام امن کے لیے پیش کی جانے والی خدمات اور قربانیوں کے پیش نظراسے دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جنگ کا میدان ہو یادہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا، ملکی سرحدوں کا دفاع ہو یا قدرتی آفات میںلوگوں کی بحالی کے اقدامات، افواج پاکستان ہر چیلنج میں سرخرو ہوئی ہیں۔ عسکری سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج ہم کئی ممالک جن میں چین، روس، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، برطانیہ اورا مریکہ شامل ہیں،کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار رکھے ہوئے ہیں۔    
دفاعی سفارت کاری کو فروغ دیتے ہوئے دیگر ممالک کی افواج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کر نا افواج پاکستان کے لیے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ نہ صرف دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ باہمی تعاون اور قوموں کے درمیان دوستی کے روابط کو پروان چڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کے حصول کی راہ بھی ہموار کرتی ہیں۔ روس کے ساتھ سفارتی اور عسکری تعلقات کی بحالی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو وطن عزیز کے لیے بلا شبہ ایک گراں قدر کامیابی ہے۔روس کے ساتھ عسکری تعلقات کی داغ بیل سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 2011 میں روس کا کامیاب دورہ کر کے ڈالی تھی جس کو پاکستان کے موجود ہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2017 اور 2018 میں روس کے ساتھ ایک مشترکہ ملٹری کمیشن بنا کر امر کردیا ۔اسی طرح پاک آرمی ہر سال چین، اردن، سعودی عرب، مصر، بحرین، برطانیہ، ترکی اور نائجیریا کے ساتھ ساتھSCO کے پلیٹ فارم سے کئی ممالک کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لیتی ہے ۔
 پاک فوج کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ نے بھی دفاعی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاک بحریہ کی'' امن نیول ایکسرسائز''دفاعی سفارت کاری کا ایک نادر نمونہ ہے۔گزشتہ برس اس مشق میں کل 46 ممالک کی افواج نے حصہ لیا تھا جن میں امریکی اور برطانوی فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ ان کے روایتی حریف روس کے فوجی دستے بھی شامل تھے ۔مارچ 2022میں پاکستانی اور امریکی فضائیہ کے درمیان''فالکن ٹالن 2022'' کے کامیاب انعقاد کے بعد باہمی اشتراک و تعاون اور سفارتکاری کے ایک نئے دورکا آغاز ہو ا۔  
بین الاقوامی عسکری مقابلے بھی دفاعی سفارت کاری میں شامل ہیں جن میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی وجہ سے افواج پاکستان دنیا بھر میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتی ہیں۔ 2017 اور 2018 میں برطانیہ میں''مشق کیمبرین پٹرول '' میں 31 ممالک کی 134 ٹیموں نے حصہ لیا مگر گولڈ میڈل پاک فوج کے حصے میں آیا۔ برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ کے ''پیس اسٹکنگ''مقابلوں میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی ٹیم نے حال ہی میں تیسری دفعہ کامیابی حاصل کی۔ مارچ 2021 میں نیپال میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ''ایڈونچر مقابلے''میں پاک فوج نے گولڈ میڈل اپنے نام کیا تو دوسری طرف 2021میں روس میں منعقد ہ ''ورلڈ ملٹری باکسنگ چیمپئن شپ'' میں طلائی تمغہ باکسر سپاہی بلال کے حصے میں آیا۔  
بین الاقوامی افق پر اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو نقش کرنے کے بعد پاکستان میں ''انٹرنیشنل ملٹری کمپی ٹیشن '' کا کامیاب انعقاد کسی سنگ میل سے کم نہ تھا۔ پاکستان میں ہی نومبر 2021 میں تیسرے بین الاقوامی فزیکل ایجیلیٹی اینڈ کامبیٹ ایفی شنسی سسٹم (PACES) جیسے میگا ایونٹ میںچھ ممالک کے فوجی دستوں جن میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات شامل تھے،نے حصہ لیا۔اسی طرح لاہور میں منعقد ہونے والی 53 ویں عالمی ملٹری شوٹنگ چیمپئن شپ (شاٹ گن) کے مقابلوں میں روس، فرانس، سری لنکا، فلسطین اور کینیا کے 41  شوٹرز نے حصہ لیا۔  
 جذبہ خیر سگالی کے تحت اقوام متحدہ کے امن مشن میں عالمی قیام امن کے حوالے سے پاک فوج کا کردار مثالی رہا ہے جس کو اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے ممالک نے سراہا ہے۔ اپنی خدمات کے عوض پانچویں نمبر پر آنے والے بڑے ملک پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا احترام کیا ہے۔ افواج پاکستان 1960 سے لے کر اب تک مسلسل اقوام متحدہ کی کثیر القومی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی 15 فیصد خواتین SOs کی تعیناتی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج نے فلاح انسانیت، اداروں کی تعمیر اور امن و امان کے قیام کو اپنا شعار بناتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔کانگو کے سیلاب میں 2,000 افراد کو بچانا اور COVID-19 کے دوران خواتین امن دستوں کی خدمات کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اب تک مختلف مہمات میں 200,000 سے زائد پاکستانی فوجی اپنا کردار ادا کر چکے ہیں جبکہ 168 جوان فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریس نے 17 فروری 2020کو اپنے ایک خطاب میں پاکستانی امن افواج کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا: ''پاکستان دنیا بھر میں ہونے والی امن کی کوششوں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد اور تعاون کرنے والا ملک ہے۔'' 
دفاعی سفارت کاری سے ایک طرف ملکی دفاعی استعداد کار میں اضا فہ ہوا ہے تو دوسری جانب اس کی بدولت ملکی معیشت کی بحالی اور ترقی کے بیشتر اہداف حاصل ہوئے ہیں۔ دفاعی برآمدات کے ساتھ ساتھ اسلحے کی برآمدات میں بھی اضا فہ ہوا ہے۔ وزارت دفاع کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دفاعی سفارت کاری کے ذریعے گزشتہ پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات میں 60 بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے نائیجیرین فضائیہ کو JF-17 تھنڈر طیاروں کی فراہمی کی مد میں 184 ملین ڈالر کما کر ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی منڈی سے ایک تہائی کم قیمت پر الخالد ٹینکوں کی مقامی طور پر تیاری کر کے ملکی معیشت کو تقویت پہنچائی۔ 
دفاعی سفارت کاری نے بلا شبہ پاکستان کے لیے کامیابیوں کے مزید دروازے کھولے ہیں جن کے اثرات ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بھی نظر آتے ہیں۔ چین کی طرف سے پاک فوج کو CPEC کی سکیورٹی دینے پر اعتماد کااظہار کرنا اور پاک چائنا جوائنٹ ملٹری کو آپریشن کمیٹی کی تشکیل پاک فوج کی اعلیٰ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ امریکہ کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے فورم اور انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (IMET) کا احیاء ، ترکی، سعودی عرب، روس، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ دفاعی مذاکرات کا آغاز جبکہ کرتار پور راہداری کے ذریعے مذہبی سیاحت کو فروغ ملنا ،کامیاب دفاعی سفارت کاری ہی کے نتائج ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افواج پاکستان کے اقدامات پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔ ||


مضمون نگار شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور حالات حاضرہ سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]

 

یہ تحریر 137مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP