اداریہ

سماجی فاصلوں کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت

کروناوائرس کی وجہ سے جہاں دنیا بھرمیں حکومتی، کاروباری اور دیگر معمولات میں تبدیلی آئی ہے وہاں عوام الناس کے مابین سماجی فاصلوں (Social Distancing) کی بھی تاکید کی گئی ہے ۔ اس کی ضرورت بھی ہے اور اہمیت بھی، کیونکہ ضرورت سے زیادہ سماجی تعلقات اور میل جول نہ صرف اُس معاشرے کے لئے بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے انسانوں کے لئے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔پاکستان میں کرونا وبا، الحمدﷲ اس تیزی اورخطرناک شرح سے اس لئے بھی نہیں پھیلی کہ ہمارے یہاں لوگوں نے اپنے طور پر حفاظتی اقدامات بروئے کار لاکر ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ بہرطور کرونا کی وجہ سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں اور سامنے آنے والے کیسز سے یہی نتائج برآمد ہوئے ہیں کہ بعض افراد نے کسی نہ کسی طور سے دی گئی ہدایات کو نظر اندازکیا۔ سماجی فاصلوں اور دیگر حفاظتی اقدامات سے متعلق دنیا کی دیگر حکومتوں کی طرح حکومتِ پاکستان نے بھی ایس او پیز جاری کیں۔ اس میں کاروباری حضرات کے لئے ہدایات بھی ہیں اور اُن اداروں میں کام کرنے والوں کے لئے رہنما اصول بھی وضع کئے گئے ہیں۔ شروع میں سخت لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایا گیا جسے بعد ازاں سمارٹ لاک ڈائون میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ عوام الناس کی روزمرہ زندگی بھی بہت زیادہ متاثر نہ ہو اور وہ اس وبا سے بھی حتی الامکان محفوظ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ماسک اور ہینڈ سیناٹائزر کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر فیملی اجتماعات کو بھی بہت محدود پیمانے اور سمجھ داری کے ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے دوسری صورت  میں اس وباء کے پھیلنے کے خدشات بہت بڑھ سکتے ہیں۔
یہاں یہ امر سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ صرف سماجی فاصلے برقرار رکھنے سے ہی مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے ساتھ سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کروناکی وجہ سے بعض لوگوں کے کاروبار زندگی بہت بُری طرح سے متاثر ہوئے ہیں ایسے میں ضرورت ہے کہ اپنے آس پاس نگاہ رکھی جائے اور جہاں کہیں کوئی ایسا خاندان دکھائی دے جنہیں مالی مشکلات کا سامنا ہو تو محلے، قصبے اور شہری سطح پر لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں۔ بہت سے لوگ اس مشکل گھڑی میں یہ کام کر بھی کر رہے ہیں، اس خدمت کو اور بھی منظم انداز سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
 لہٰذا صرف حکومتی سطح پر کئے گئے اقدامات اور ہدایات ناکافی ہوں گی۔ لوگوں کو انفرادی طور پر بھی اپنے سماجی رویوں میں تبدیل لانی ہو گی۔ وہ خود کو ہر اس امر کا پابند بنائیں جن سے وہ خود ، ان کے خاندان اور اہل علاقہ اس وباسے محفوظ رہیں۔ خود کو صبر اور قناعت کے راستے پر رکھتے ہوئے ایسے افراد کی مدد ضرور کریں جو بے روزگار ہونے، کرونا میں مبتلا ہونے یا کسی اور ناگہانی بیماری کا شکار ہونے کی بناء پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہوں۔ ان حالات میں ہر فرد اور خاندان دوسرے افراد اور خاندانوں کی مدد اور معاونت کو کسی نہ کسی طوریقینی بنا سکتا ہے کہ سماجی فاصلوں کے اس دور میں ہم نے سماجی رویوں کو بہتر انداز میں استعمال میں لاتے ہوئے اخوت، رواداری اور باہمی محبت کو فروغ دینا ہے۔ یقینا یہی رویے ہمیں ایک بہتر سماج اور بہتر معاشرہ بنانے میں معاون ثابت ہوں گے اور کرونا سمیت دیگر جان لیوا وبائوں سے نمٹنے کا حوصلہ بھی مہیا کریں گے۔

یہ تحریر 500مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP