یوم دفاع

چونڈہ محاذپر مَیں نے 25 بار موت کو قریب سے دیکھا

شیردل جوانوں نے بہترین عسکری ٹیکٹس اور جذبہ ایمانی کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کوشکست دی
ہمارے سپوتوں نے دشمن کے خوفناک عزائم چونڈہ گائوں کی خاک میں ملاد یئے تھے
  جنگ ستمبر کے ہیرو ، میجر جنر ل شفیق احمد  (ر) (ستارہ ٔجرأت )کی یادیں     

میجر جنرل (ر)شفیق احمد 1934 ء میں وادی سون سکیسر(خوشاب پنجاب) کے ایک گائوں نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔1952ء میں پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوئے اورمیجرجنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔میجر جنرل شفیق احمد جنگ ستمبر65ء کے موقع پر کیپٹن تھے اور انہوں نے اس جنگ میں چونڈہ کے مقام پر بڑی جرأت کے ساتھ اپنی یونٹ ''تھری ایف ایف ''کی ایک کمپنی کی قیادت کرتے ہوئے حصہ لیا۔اس خوفناک لڑائی میں میجر جنرل شفیق احمد کی کمپنی کا سامنا انڈین آرمی کی 20راجپوت رجمنٹ اور 5 جموں کشمیر بٹالین سے رہا۔انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی کمپنی اور بٹالین کے جوانوں کو شہید اور زخمی ہوتے دیکھا۔ موت کئی مرتبہ انہیں قریب سے چھوکر گزر گئی۔ایک موقع پر توانہوں نے خود کو ٹٹول کر کنفرم کرناچاہا کہ میں واقعی زندہ بھی ہوں یا نہیں۔
 میجر جنرل (ر)شفیق احمد کوطویل عسکری کیریئر کے دوران تین بڑے فوجی اعزازات سمیت بہت سے میڈلز سے نوازا گیا۔فیلڈ مارشل ایوب خان نے جنگ ستمبر میں بہادری سے لڑنے پر انہیں ''ستارہ جرات'' عطاکیا۔آرمی چیف جنرل محمدضیاء الحق نے ''ہلال امتیاز''( ملٹری) دیا اورایف سی بلوچستان میں بطور آئی جی عمدہ کارکردگی پر آرمی چیف جنرل محمد اسلم بیگ نے ''ستارہ بسالت''سے نوازا۔
ذیل میں میجر جنرل شفیق احمد کے ساتھ کی گئی اس نشست کا احوال قارئین کے ذوق کی نذر کیا جا رہا ہے۔ سوال اس انداز سے کیے گئے کہ ایک دلچسپ سٹوری وجود میں آگئی ہے۔ لیجیے جنگ ستمبر کی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
 میں1952ء میں پاک فوج میں بھرتی ہوااور عسکری تربیت کے بعد انفینٹری یونٹ ''تھری فرنٹیر فورس''کا حصہ بنا۔ جنگ ستمبر 65ء کے موقع پرمَیں کیپٹن تھااور سٹاف کالج کوئٹہ میں کورس کر رہا تھا ۔جنگ شروع ہوئی تو یہ کالج بند کردیاگیا او ر تمام افسروںکو اپنی یونٹوں میں بھیج دیا گیا۔اس وقت میری یونٹ ''تھری فرنٹیر فورس '' چونڈہ کے محاذ پر تعینات تھی ۔ مجھے حکم ملا کہ فوری طور پر چونڈہ پہنچ کراپنی یونٹ میں رپورٹ کروں۔ میں کوئٹہ سے تین دن کا سفرکر کے چونڈہ پہنچا ۔ اس وقت میری جوانی عروج پر تھی اور میں اُس دشمن کے خلاف لڑنے کے لئے بہت پُرعزم تھا جس نے میرے وطن پر حملہ کردیاتھا۔میں جلد از جلد محاذ جنگ پر پہنچنے کے لیے بے تاب تھا۔
9 ستمبر کومَیں چونڈہ پہنچا اور مجھے ایک کمپنی کی کمانڈ دے دی گئی ،یہ کمپنی  150جوانوں پر مشتمل تھی ۔ مختصر طور پر بتاتاچلوں کہ ایک پلٹن میں پانچ کمپنیاں ہوتی ہیں اورہرکمپنی کی کمانڈایک کیپٹن یا میجر کے پاس ہوتی ہے ۔اس طرح پانچ کمپنی کمانڈروں میں سے ایک میں بھی تھا۔اصولی طور پر ہماری پلٹن میں کل850لوگ ہونے چاہئیں تھے لیکن نفری کی کمی کی وجہ سے ہماری پلٹن میں500سے بھی کم لوگ تھے۔ جونیئر کمیشنڈ آفیسرزکی بھی شدید کمی تھی اوران کی تعداد صرف14تھی۔جنگ میںہماری پلٹن کے کل72جوان شہید ہوئے جبکہ میری کمپنی کے 25جوان شہید اوردوزخمی ہوئے ۔
میرے نائب کمپنی کمانڈر کیپٹن عبدالوحید کاکڑ تھے ( جوبعد میں پاک فوج کے آرمی چیف بنے)۔ یہ اس جنگ میں دومقامات پر شدید زخمی بھی ہوئے۔ایک موقع پر دشمن نے ہم پر ٹینک کا فائر کیا جس کے نتیجہ میں ہمارے دو جوان شہید ہوگئے۔ میں بالکل محفوظ رہا اورکیپٹن کاکڑ زخمی ہوگئے۔ دوسرے موقع پر وہ ایک جیپ حادثے میں شدید زخمی ہوئے ۔عبد الوحید کاکڑ بہت اچھے اور بہادر افسرتھے۔انہوں نے کمانڈاینڈکنٹرول کا بہترین مظاہرہ کیا۔
جنگ ستمبر لاہورمیں تو چھ تاریخ کوشروع ہو گئی تھی لیکن سیالکوٹ میں چونڈہ کے مقام پر یہ لڑائی سات تاریخ کوشروع ہوئی۔یہ ایک بڑی بھیانک اور خطرناک جنگ تھی۔انٹرنیشنل بارڈر سے چونڈہ گائوں دس میل کے فاصلے پر ہے ۔ یہ جنگ اس دس میل کو شامل کر کے اور دائیں بائیں علاقوں کو ملا کر تقریباًبیس میل کے اندر ہو رہی تھی۔ بیس میل کے علاقے میں ہر طرف انفینٹری دستے ، توپیں ، ٹینک اور مورچے دکھائی دیتے تھے۔جب گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہوتو کبھی دشمن آگے آتا ہے تو کبھی آپ آگے بڑھتے ہیں۔چونڈہ کے گائوں میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا لیکن یہ محض اللہ کی مدد اور نصرت تھی کہ ہمارے جوانوں نے دشمن کو چونڈہ گائوں سے آگے نہ آنے دیااور اس کے خوفناک عزائم چونڈہ گائوں کی مٹی کے اندر دفن کر دیئے۔ہمارے ہاں عام طور پریہی مشہور ہے کہ چونڈہ کی لڑائی صرف ٹینکوں کی لڑائی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر ہمارے انفینٹری دستوں نے بھی کمال جرأت کامظاہرہ کیا اور ناقابل فراموش قربانیاں پیش کیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چونڈہ کی جنگ میں میرے تمام جوانوں اور افسروں کی کارکردگی مجھ سے بہرحال بہت ہی اچھی رہی۔ میرے نزدیک یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ اس لڑائی میں کون زیادہ دلیری سے لڑا اور کون کم دلیری سے۔میرے سامنے سبھی جوان بہت زیادہ بے جگری سے لڑ رہے تھے اور وہ اپنی دھرتی کی خاطر مرمٹنے پر تیار تھے،اس لیے میں کسی کوبھی کم یازیادہ دلیر نہیں کہہ سکتا۔میری نظر میں آج بھی سب برابر ہیں۔
ہم نے دس ستمبر کو ہر لحاظ سے چونڈہ کا دفاع مضبوط کر لیاتھا اور جب سیز فائر ہوا تو اس وقت ہم اپنے اسی پوائنٹ پر موجود تھے جہاں سے ہم نے دفاع لیا تھا۔یعنی اس پوری لڑائی میں ہمارے جوانوں نے دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا۔ گھمسان کی اس لڑائی میں دشمن کے بھی بہت سے لوگ مارے گئے اور ہمارے بھی کافی جوان شہید اور زخمی ہوئے۔اگرآپ میرا اور جوانوں کا جذبہ پوچھیں گے تو حقیقت یہ ہے کہ ایک فوجی کے اندر لڑائی کا اور اپنے وطن کے دفاع کا جذبہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور پھر وہ فوجی مسلمان ہو تو اس کے اندر یہ جذبہ مزید ابھر کر سامنے آتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر میں مارا گیا تو شہید ہو جائوں گا اور بچ گیا تو غازی۔
 ہمیں ٹریننگ میں بتایا گیا تھا کہ اگر کسی وقت لڑائی چھڑتی ہے تو کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ ایک فوجی کی ٹریننگ اس کے سارے کیریئر میں جاری رہتی ہے اور وہ ہردم تیار و بیدار رہتا ہے۔اسلحہ کااستعمال، سخت جسمانی ٹریننگ ، ایکسر سائز، واٹر کراسنگ کورس،سوئمنگ کورس سمیت درجنوں کورسز ہوتے ہیں جو ایک فوجی کرتا رہتا ہے ۔پھر فوج میں بہت سے مختلف گروپس ہوتے ہیں اورہر گروپ کی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔انفینٹری کا جوان کیا کرے گا،کمانڈو نے کیا کرنا ہے، آرٹلری اور آرمرڈ کاجوان کیا کرے گا ، میڈیکل کور ، سگنل و انجینئرنگ اورسروس کور کے لوگ کیاکریں گے۔ایک منظم فوج کاکام بھی یہی ہے کہ وہ امن میں بھی حالت جنگ میں رہتی ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایک تسلسل کے ساتھ جنگی تیاریوں میں لگی رہتی ہے۔جو لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ''فوج زمانہ امن میں کیا کام کرتی ہے ؟''تو ایسے لوگ در حقیقت احمقوں کی جنت میں بستے ہیں ۔ امن ہو یا جنگ فوج سال کے بارہ مہینے اور چوبیس گھنٹے حرکت میں رہتی ہے۔ جنگ ستمبر کے موقع پر ہمارے پاس وسائل توواقعی بہت کم تھے لیکن ہماری فوج میں چونکہ تنظیم سازی کاعمل بہت پائیدار تھا اس لیے جب لڑائی چھڑی تو ہر جوان اپنی اپنی ڈیوٹی پر بڑے ڈسپلن اور پورے جذبے کے ساتھ موجودتھا۔
 فوجی افسر ایک لیڈر کی طرح ہوتا ہے اور سپاہی اس لیڈر کے ساتھی اور کارکن ہوتے ہیں۔میں چونڈہ کے محاذ پر کمپنی کمانڈر تھا اورڈیڑھ سو جوانوں کی قیادت میرے ہاتھ میں تھی۔ مجھے ایک علاقے کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی۔میں نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر بھرپو رمنصوبہ بندی کی ، پچاس سے ساٹھ مورچے بنائے۔جوانوں کو ہدایا ت دیں کہ آپ نے فائر کہاں کہاں کرنا ہے ۔ رات کو کیسے ڈیوٹی کرنی ہے اور دن کے وقت کیاکرنا ہے۔ جوانوں کی ڈیوٹیاں تقسیم کی گئیں ۔ سونے اور کھانے کے اوقات مقررہوئے۔اپنے مورچوں کو کیموفلاج کیا ۔ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا بھی کمپنی کمانڈر کی ذمہ داری ہے ۔ میں نے اور نائب کمانڈر کیپٹن عبدالوحید کاکڑ نے دشمن پر کڑی نظر رکھی ۔ ہم رات کے وقت دشمن کے مورچوں کے بالکل قریب چلے جاتے اور ان کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ۔ انہی باتوں اور دیگر انٹیلی جنس معلومات سے علم ہو اکہ ہمارے مد مقابل دشمن کی ''20راجپوت بٹالین'' اور ''فائیو جموں کشمیر بٹالین''ہیں۔
ہمارے اور دشمن کے مورچوں کے درمیان کوئی ایک ہزار گز کا فاصلہ تھا۔بعض مقامات پر یہ فاصلہ چارسوگزبھی تھا۔ ایک دومواقع ایسے آئے کہ دشمن ہم سے صرف ایک سو گز کے فاصلے پر بھی تھا ۔ ایک رات اچانک دشمن کے ٹینک ایڈوانس کرتے ہوئے آگے بڑھے اور ہم پر ہلہ بولنے کی کوشش کی ۔ دشمنکا خیال تھا کہ ہم ہڑ بڑا کر مورچے چھوڑکر بھاگ جائیں گے لیکن اللہ کے فضل سے جری جوان ڈٹ گئے ، اللہ نے ہمیں استقامت دی اور دشمن کوکامیابی نہ ملی ۔ اس لڑائی میں بھارتی فوج کے بہت سے لوگ مارے گئے اور صبح ہونے سے پہلے دشمن اپنی پوزیشنوں پر واپس چلا گیا۔ایک رات دشمن کی کئی کمپنیوں نے ہم پر حملہ کیا اور ہمارے بہادروں نے ایسی حکمتِ عملی کے ساتھ جواب دیا کہ دشمن اپنی لاشیں چھوڑ کربھاگ گیا، کچھ لوگوں کو ہم نے قیدی بھی بنالیا۔ دو دن بعد دشمن نے صرف ایک رات میں دو بڑے حملے کیے جنہیں پسپا کر دیا گیا۔پہلا حملہ رات کے وقت کوئی آٹھ بجے کیاگیا، اس حملے کو ہمارے جوانوں نے پسپاکر دیا ۔ دوسرا حملہ ایک بجے کیااوروہ بھی ناکام ہوا۔ایک موقع پر دشمن نے ہمارے بٹالین ہیڈکوارٹر پر حملہ کیااور گھمسان کارن پڑا، آخر کار دشمن کو بھاری نقصان کے ساتھ واپس جانا پڑا۔
  دشمن اس لیے پے درپے حملے کرتا تھا کہ چونڈہ سے آگے بڑھنا اس کے باقاعد ہ جنگی پلان میں شامل تھا۔اس نے صرف چونڈہ کے محاذ پرجو ٹینک براہ راست جنگ میں جھونک دیئے تھے ان کی تعداد پانچ سو تھی۔ دیگر فوجی قوت انفینٹری، بکتر بند دستے، توپ خانہ وغیرہ اس کے علاوہ تھے ۔ دراصل دشمن چونڈہ کو ایک مضبوط مرکز بنا کر پورے پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ 
 ایک رات میں دشمن کے مورچوں کے پاس چلاگیا۔ میں انہیں دیکھ تو نہیں سکا لیکن ان کی باتیں سن کر اندازہ ہواکہ وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں فوری طور پرواپس آیا اور اپنے جوانوں کو الرٹ کیا۔ ہم نے دشمن فوج کی ''20راجپوت بٹالین'' اور ''فائیو جموں کشمیر بٹالین''کو بہت نقصان پہنچایا۔فائیوجموں کشمیر بٹالین کے چند سپاہی اور ان کے کمانڈر کوبھی ہم نے پکڑ لیا۔ایک مرتبہ  20راجپوت بٹالین نے ہم پر حملہ کیا، اس معرکے میں دشمن کاایک میجر اور چندسپاہی مارے گئے۔ 
ایک اور جھڑپ کے دوران میں نے دشمن کے ایک کمپنی کمانڈر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ا س کا نام لیفٹیننٹ چوہان تھا اور اس کا تعلق'' فائیو جموں کشمیر بٹالین ''سے تھا۔ لڑائی میں وہ میرے بالکل سامنے آگیا ، میں نے اسے ''ڈس آرم''کر کے قید کرنے کی کوشش کی تو اس نے سرنڈرکرنے کے بجائے فرار ہونا چاہاتومیں نے اپنی سٹین گن سے اس پر سیدھا فائر کھو ل دیا اور وہ موقع پر مر گیا۔
  چونڈہ کی جنگ میں مَیں نے کم از کم 25 بار موت کوبہت قریب سے دیکھااورہر بار مجھے ایسالگا کہ بس یہ آخری لمحہ ہے اور چند سانسیں باقی رہ گئی ہیں۔ایک مرتبہ میں نے کسی دوسرے علاقے میں جاناتھا ۔راستے میں میری نظری دشمن کے ایک ٹینک پر پڑی جو صرف سو گز کے فاصلے پر تھا۔ڈگنگ کر کے اسے جھاڑیوں کے ساتھ کیمو فلاج کیا گیاتھا۔میری اچانک اس پر نظر پڑ ی لیکن مجھ سے غلطی یہ ہوئی اور میں سمجھاکہ تیزی سے بھاگ کرآگے نکل جائوں گا اورٹینک والا مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔اگر دیکھ بھی لیاتو جب تک وہ تیارہوگا میں اس کی رینج سے دور نکل جائوں گا۔ میں بھاگ کر ٹینک کے آگے سے نکلا تواس نے مجھے نہیں دیکھا۔ تھوڑاا گے جا کر پانی کاایک نالہ تھا،اس میں گھٹنے تک پانی تھا۔ میں اس نالے میں داخل ہوا تو پانی کی وجہ سے میرے بھاگنے کی سپیڈ کم ہوگئی ، اسی لمحے ٹینک والے نے مجھے دیکھ لیااور ٹینک پر نصب چھوٹی مشین گن سے مجھ پر فائرنگ شروع کر دی ۔ گولیاں میرے آس پاس گر رہی تھیں۔ میں بڑی مشکل سے نالہ کراس کر کے ایک مورچے میں گھس گیااور اس نے ٹینک کی مین گن سے میرے مورچے پر گولہ داغ دیا۔گولہ مورچے کے کنارے پرلگا ، ایک زور داردھماکہ ہوالیکن مجھے اللہ نے محفوظ رکھا۔میں کافی دیر مورچے میں بیٹھا رہا ،میں مورچے سے نکلاتو وہ میری تاک میں تھا اور اسی طرح تیار بیٹھا تھا ۔اس نے ٹینک پر لگی مشین گن سے پھر فائرنگ شروع کردی۔میں بہت تیز ی سے بھاگ رہا تھا ۔جب فائر بہت تیز ہوا تو میں نے سوچا کہ میں لیٹ جاتا ہوں اور دشمن سمجھے گا کہ مجھے گولی لگ گئی ہے اور وہ فائر بند کر دے گا۔چنانچہ میں لیٹ گیا لیکن وہ پھر بھی فائر کرتارہا۔ اب مجھے موت بالکل قریب نظر آرہی تھی۔ میں ایک بار پھر اٹھا اوربھاگتے ہوئے قریب موجود گنے کی فصل میں گھس گیا۔اس جنگ میں کئی مرتبہ گولے ایسے ہم پر گرے کہ بچنے کی کوئی امید نہ تھی لیکن اللہ نے زندگی باقی رکھنی تھی تو دشمن ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ایک مرتبہ ایک گولہ ہمارے قریب گرا، میں لیٹ گیا اور میرے قریب کھڑا جوان فضا میں بلند ہوااور دوٹکڑوں میں تقسیم ہو کر شہیدہوگیا۔مجھے آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اوراپنے جوانوں کی بے پناہ قربانیاں یا د آجاتی ہیں۔
چونڈہ محاذ پر کامیابی کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ ہم مسلمان تھے اور ہمارے اندر جو جہادفی سبیل اللہ کاجذبہ تھاظاہر ہے دشمن ایسے جذبات سے یکسر محروم تھا ۔دوسری وجہ یہ تھی کہ ہماری ٹریننگ اچھی تھی اور ہمارے لیڈر بہت اچھے تھے۔جنگ ستمبرمیں قدم قدم پر اللہ نے ہماری مدد ونصرت کی اورہم نے اپنے عسکری ٹیکٹس اور جذبہ ایمانی کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کوشکست سے دوچار کیا۔میرے عسکری پروفیشن کی یادیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن جنگ ستمبر کے جو خاص واقعات میرے ساتھ پیش آئے وہ میں نے مختصر طورپر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
 چونڈہ پر میری کارکردگی کے پیش نظر میریکمانڈنگ آفیسر نے میرے لیے ''ستارہ جرات''کی سفارش کی اور فیلڈ مارشل ایوب خان نے مجھے یہ اعزاز عطا کیا۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 127مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP