علم و دانش

مذہبی منافرت کیسے ختم ہو سکتی ہے؟

 مذہب کے عنوان سے فساد ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ تاہم دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو فساد کاعلم بردار ہو۔ ہر مذہب کی تعلیمات میں اعلیٰ انسانی اخلاق کو اساس بنایا گیا ہے اور مذہبی تجربے کا حاصل اخلاقی تطہیر کو قرار دیا گیا ہے۔ جب لوگ ایک طرف مذہب کی تعلیمات کو پڑھتے اور دوسری طرف اہل مذہب کے رویے کو دیکھتے ہیں تو انہیں بُعد المشرقین دکھائی دیتا ہے۔ اس پسِ منظر میں اس سوال کا پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر مذہب خیر کا علم بردار اور امن کا پیامبر ہے تو پھر انسانی تاریخ میںمذہب کے نام پر فساد کیوں برپا رہا؟

 

عالمی سیاسی تناظر ہی میں نہیں، یہ سوال ایک معاشرے کے داخلی ساخت کے حوالے سے بھی اٹھتا ہے۔مشاہدہ یہ ہے کہ ایک مذہب کے ماننے والے کئی گروہوں میں بٹ جاتے ہیں اور پھر ان کے مابین بھی ایسا ہی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے کہ جو فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسے فرقہ واریت، مسلکی تقسیم کا نام دیا جاتا ہے۔فرقہ واریت نے معاشروں کو کمزور کیا اور اس سے خود مذہب کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔ اسی تجربے کی کوکھ سے اس خیال نے جنم لیا کہ مذہب کو ریاست و معاشرت سے بے دخل کرنے ہی میں عافیت ہے۔ اس نقطۂ نظر کو قبول کیا جا سکتا تھا مگر انسانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی بالیدگی اور تطہیر کے لئے مذہب نے ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔ مذہب کو لاتعلق کر دینے سے انسانی معاشرہ ایک بڑی خیر سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ بات اہم ہے کہ مذہبی منافرت کے مسئلے کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔ اس مضمون میں اس سوال کو اسلام اور مسلم معاشرے کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔

 

مسلم تاریخ میں دو طرح کے اختلافات پیدا ہوئے۔ ایک کی بنیاد وہ سیاسی تنازعات تھے جو اسلام کے صدرِ اوّل ہی میں نمودار ہو گئے۔ دوسرے اختلافات وہ ہیں جن کا تعلق بنیادی مذہبی ماخذات کی تعبیر و تفہیم سے ہے۔ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں جو اہم حادثات ہوئے، ان میں سیاسی اختلافات کا کردار بنیادی تھا۔ مثال کے طور پر سیدنا عثمان کی شہادت کے محرکات سیاسی تھے۔ اس کے بعد اسلامی ریاست میں ایک خلفشار پیدا ہوا جو تدریجاً بڑھتا چلا گیا۔سیاسی نقطہ ہائے نظر کا یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ ان کی بنیاد پر مسلمانوں میں باقاعدہ فرقے وجود میں آ گئے۔

 

دوسرا اختلاف دین کے مصادر کی تفہیم میں ہوا۔ یہ اختلاف بھی ابتداء ہی سے موجود تھا۔ قرآن مجید کی آیات کو سمجھنے میں ایک سے زیادہ آراء سامنے آئیں اور اسی طرح رسالت مآب ۖ کے ارشادات کی تفہیم میں بھی اختلاف ہوا۔ اگر آج قدیم تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے تو ایک آیت کی تفسیر میں متعدد اقوال ملتے ہیں۔بعض آیات کے ذیل میں ایک صحابی کی تفسیر دوسرے صحابی سے مختلف ہے۔ ابتداء  میں اس اختلاف کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ بعد کے ادوار میں یہ اختلاف بڑھ گیا۔علمی سرگرمی کے طور پرامت کے چند جیّد اور بڑے علماء نے مصادر دین سے استنباط کے اپنے اپنے اصولوں کو  مدَوِّن کر دیا اور ان پر ان کے بہت سے ہم خیال بھی پیدا ہو گئے۔ یوں مسلمانوں میں باضابطہ طور پر مسالک وجود میں آ ئے۔

 

سیاسی اختلاف کی بنیاد پر جو فرقہ واریت پیدا ہوئی ، اس نے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو نقصان پہنچایا اور ان کے مابین وہ وحدتِ فکر و عمل باقی نہ رہی جو ان کو متحد رکھ سکتی تھی۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے اختلاف کے باعث مسلم سماج خانہ جنگی کی کیفیت سے دو چار رہا، جس کا مسلمانوں کو نقصان ہوا۔اس کا ایک ناگزیرنتیجہ مسلمانوں کے سیاسی اقتدارکا خاتمہ تھا۔ سقوطِ بغداد کے بعد بھی اگرچہ مسلمانوں کی حکومت بعض علاقوں میں قائم رہی ، لیکن ان کا وہ رعب اور دبدبہ باقی نہیں رہا جو ایک عالمی قوت ہونے کے ناتے انہیں پہلے حاصل تھا۔

 

 یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ابتدائی صدیوں میں مسلکی اختلاف سے مسلمانوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ ابتداء میں لوگ ایک دوسرے سے علمی اختلاف کرتے تھے لیکن اسے فطری سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے ۔ مسلکی اعتبار سے شوافع اور احناف کا اختلاف مشہور ہے۔  اس کے باوجود دونوں مسلکوں کے علماء ایک دوسرے سے محبت کا تعلق رکھتے تھے۔ امام شافعی کا مشہور واقعہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے اور وہاں انہوں نے فجر کی نماز پڑھی۔ شوافع فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں، لیکن امام شافعی نے وہاں دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ کسی نے سوال کیاکہ کیا آپ نے اپنا مسلک چھوڑ دیا۔ ان کا جواب تھا  '' نہیں''۔ مجھے صاحبِ قبر ( امام ابو حنیفہ) سے حیا آ گئی۔ یعنی میں نے ان کے مسلک کے احترام میں دعائے قنوت نہیں پڑھی۔

 

اس اختلاف کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی علمی روایت آگے بڑھی۔ قرآن مجید پر غور و فکر کے دروازے کھل گئے اور لوگوں نے مختلف زاویوں سے اﷲ کی کتاب کو سمجھا۔ یہی معاملہ اﷲ کے رسولۖ کی سنت و حدیث کا بھی رہا۔ اس اختلاف کی وجہ سے مسلمانوں کی علمی روایت مستحکم ہوئی

فرمانِ قائد

میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میراضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔

(قائدِ اعظم محمدعلی جناح21اکتوبر 1939)

 

اور اسلام میں اجتہاد کا اصول مستحکم ہوا۔ اس نے اسلام کی آفاقیت کو واضح کیا اور یہ بات ایک علمی حقیقت کے طور پر قبول کی گئی کہ اسلام  ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اور قابلِ عمل ہے۔ تاہم بعد میں ایسے لوگ آئے جنہوں نے ان بزرگوں کی رائے  اور تفہیم کو حتمی سمجھا اور ان سے اختلاف کرنے والوں کو گمراہ قرار دیا۔ اجتہاد کی جگہ تقلید نے لے لی۔ لوگوں نے حَنَفیت اور شافعیت پر مورچے لگا لئے۔ برصغیر میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے اور یوں وہ مسلکی اختلاف جو دینی ماخذات کی تعبیر کے حوالے سے پیدا ہوا، اور فطری تھا، اس نے مسلک کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کر دیا۔

 

آج صورت ِ حال یہ ہے کہ وہ اختلاف جو تاریخی اعتبار سے سیاسی امور میں واقع ہوا،اس کی بنیادپرمستقل فرقے وجود میں آچکے ہیں۔اسی طرح وہ اختلاف جو ماخذات کی تعبیر میں تھا اور فطری تھا،اسے بھی فطری دائرے سے نکال کر ایک مذہبی شناخت بنا لیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں مذہبی منافرت پیدا ہوئی جس نے مسلم سماج کو منقسم کر دیا۔اس سے نجات ممکن ہے اگر ان اختلافات کا صحیح تناظر واضح ہو اورعصری مسائل کے حل کو لمحہئِ مو جود کی دانش کی روشنی میں حل کیا جا ئے۔اس ضمن میں،چند ایسے اقدامات تجویز کئے جا سکتے ہیں جومذہب کی اصل حیثیت کو بحال کرتے ہوئے اسے سماجی تعمیر میں معاون بنا سکتے ہیں۔مثال کے طور پر:

 

٭  تاریخ کے باب میں اختلاف کو ایک علمی سرگرمی کے طور پر محدود کر دیا جائے۔یہ اہلِ علم کے ہاں تو زیرِ بحث رہے،گلی اور بازار کا موضوع نہ بنے۔

٭  ان سیاسی و سماجی مسائل کے حل کو ، جن کا تعلق مذہب سے ہے،اجتماعی دانش کے سپرد کر دیا جائے ۔خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں ایسے ادارے قائم ہو چکے ہیں،جہاں سب مسالک کے لوگ مل بیٹھ کر رائے قائم کر رہے ہیں۔مثال کے طورپراسلامی نظریاتی کونسل،وفاقی شرعی عدالت۔ان کو زیادہ سے زیادہ موثر اور نمائندہ بنانا چاہئے۔سماجی سطح پر بھی ایسے ادارے بنائے جائیں۔

٭  ہماری دینی تعلیم مسلکی بنیادوں پر کھڑی ہے۔مثالی حل تو یہی ہے کہ اس کی تشکیل ِ نو ہو۔تاہم جب تک ایسا نہیں ہو تا،مسلکی ہم آہنگی کومدارس کے نصاب کا حصہ بنایا جائے اور اس بات کی تعلیم دی جائے کہ مصادر کی تفہیم اورفقہی مسائل میں ایک سے زیادہ آراء کی موجودگی فطری ہے۔یہ پہلے بھی موجود تھی اور اسے قبول کر نا چاہئے۔

٭  ہر مسلک کا دارالافتاء ہو جہاں دین کے جید علما رائے دیں۔انہیں آزادی ہو کہ وہ شخصی معاملات میں اپنے مسلک پر عمل کریں۔

٭  معاشرتی سطح پربین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بلدیاتی اداروں کی سطح پر ادارے بنائے جائیں۔ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت کو فروغ دیا جائے۔

٭  میڈیا میںمذہبی تعلیمات پر سنجیدہ پروگرام ہوں جن میں بتایا جائے کہ کس طرح تمام مذاہب فرد کی اخلاقی تطہیر کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔

مذہبی منافرت کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ریاست اور معاشرہ دونوں،اس حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ جب شہری قانون کے دائرے سے تجاوز کریں۔ریاست قانون کے نفاذ سے فساد کو روک سکتی ہے۔معاشرہ نظام ِ اقدار اور سماجی رویوں کی تطہیر سے مذہب کے تعمیری کردار کو نمایاں کر سکتا ہے۔


مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور

کالم نویس ہیں۔ 

[email protected]

یہ تحریر 482مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP