شعر و ادب

ہنستے پھولو، ہنستے رہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا
دھوم ہے گھر گھر آج تمہاری
تم ہو پاک وطن کا گہنا
خوشبو کی نہریں ہیں جاری
شاخوں نے پھر گہنا پہنا
ہنستے پھولو، ہنستے رہنا
پھول ہیں تھوڑے خار بہت ہیں
پردے میں اغیار بہت ہیں
ہنستے پھولو، ہنستے رہنا
تم ہو شہیدوں کا نذرانہ
تم کو قسم ہے سر نہ جھکانا
آپس کے دکھ مل کر سہنا
ہنستے پھولو، ہنستے رہنا
راوی اور چناب کے پیارو
جہلم، سندھ کی آنکھ کے تارو
آج سے میرے دل میں رہنا
ہنستے پھولو، ہنستے رہنا
(ناصر کاظمی)
 

یہ تحریر 280مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP