قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا حفاظتی تدابیر کے ساتھ سیاحت کا فروغ کیسے۔۔۔

سیاحتی مقامات جو آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے ویران ہیں اور کرونا بحران کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد ایک ناقابل بیان نقصان سے دوچار ہیں، جبکہ اب عوام بھی اس صورتحال سے بیزار ہوچکے ہیں اور اب مسلسل لاک ڈائون اور کرونا کے خوف سے باہر آکر کسی پرفضا مقام کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں کرونا وائرس سے محفوظ رہتے ہوئے سیاحتی مقامات کو عوام کے لئے کھولنے کے حوالے سے جو حکومتی اقدامات کئے جا رہے ہیں ان میں تفریح کی غر ض سے آ نے والی عوام کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ببل ٹور ازم کے ا یسے اصولوں پر مبنی ایس او پیزتشکیل دی گئی ہیں جس سے سیاحت کے لئے آئے ہوئے سیاحوںمیں کرونا وائرس کی منتقلی کی شرح کو کم سے کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔



ببل ٹور ازم سے مراد مخصوص افراد کو کچھ مخصوص علاقوں میں سیاحت کے غرض سے رسائی دینا ہے۔ کرونا کی موجودہ صورتحال میں ببل ٹور ازم کے تحت حکومتی اقدامات کی روشنی میں سیاحت کی اجازت احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط ہیں۔ان مخصوص علاقوں میں ببل ٹورازم کی اجازت نہ صرف مشروط ہوتی ہے بلکہ اعلیٰ حکام صحت عامہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سیاحت کے لیے کھولے گئے کسی بھی علاقے کو بند کرنے کے مجاز بھی ہوتے ہیں اور صرف ایسے علاقے یا سیاحتی مقامات ، سیاحوں کے لیے کھولے جارہے ہیں جہاں پر کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات کم سے کم ہیں۔
سیاحت یا سیر و تفریح کرنے والے افراد چاہے وہ کسی بھی عمر یا جنس سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے لیے ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ سیاحوں کی گاڑیوں کو سیاحتی مقامات پر پہنچنے اور وہاں سے واپسی پر جراثیم کش اسپرے کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جائے گا جبکہ گاڑیوں کے اندر حفاظتی اصولوں پر مبنی مواد ہر سیٹ پر لگائے جائیں گے اور ہر گاڑی میں موجود مسافروں کی ذاتی صفائی کے لئے حفاظتی جراثیم کش اسپرے اور ہینڈ سینیٹائزر کی موجودگی لازمی ہوگی۔
سیاحتی مقام پر موجود ہوٹلز یا گیسٹ ہائوسز میں داخلے سے پہلے مہمانوں کے جسم کا درجہ حرارت چیک کرنا لازم ہوگا جبکہ اس دوران مہمانوں کے سامان پر بھی حفاظتی جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا اور کسی بھی فرد کو بغیر ماسک کے ہوٹل میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ ہوٹل میں ایک فرد کے کمرے میں دو افراد کو کسی بھی صورت میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کمروں کو صبح اور شام حفاظتی اسپرے کے ذریعے جراثیم سے پاک کرنا لازمی ہوگا۔
کھانے پینے کے لیے ایک بار استعمال ہونے والے یعنی ڈسپوزیبل برتنوں کا استعمال کیا جا ئے گا جبکہ ڈائننگ ہال میں بھی کھانا کھانے کے لئے موجود میز اور کر سیاں سماجی فاصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی جائیں گی۔ ہوٹلز یا گیسٹ ہائوسز میں موجود لفٹ میں دو لوگوں سے زیادہ افراد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور سیڑھیوں پر بھی اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہاں زیادہ لوگ جمع نہ ہوں اور لوگ قطار میں اتریں۔ ہوٹلز یا گیسٹ ہائوسز میں موجود تمام سٹاف کو بھی کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد لازم ہوگا جبکہ سٹاف کی بھی کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسی نیشن اور مکمل طبی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔    
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے پاکستان میں کرونا وائرس سے بچائو کے مشروط اور حفاظتی اقدامات کے تحت سیاحت کو کھولنے کے لیے جو نکات رکھے ہیں ان میں سیاحتی مقامات پر جانے والے تمام افراد کا صحت مند  ہونا بھی لازم ہے جبکہ ان تمام سیاحوں کو اپنے ساتھ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اوراپنا قومی شناختی کارڈ رکھنا لازم ہوگا جبکہ کرونا وائرس  ویکسی نیشن کارڈ بھی لازمی ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ مختلف مقامات پر موجود چیک پوسٹس پر ان سے یہ رپورٹس طلب کی جا سکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہوٹلز یا گیسٹ ہائوسز میں پچاس سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بغیر ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ بکنگ نہیں ہوسکے گی جبکہ سیاحتی مقامات کے داخلی راستوں پر آنے والے تمام لوگوں اور سیاحوں سے صحت سے متعلق فارم یا ہیلتھ ڈیکلریشن فارم بھروایا جائے گا جبکہ ٹور آپریٹرز اور ہوٹلز انتظامیہ تمام مسافروں کا ڈیٹا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں گے۔ 
 بیرون ملک سے آنے والے تمام سیاحوں یا مسافروں کو کرونا ٹیسٹ، قرنطینہ اور ویکسی نیشن کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا تاکہ کرونا وائرس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو کنٹرول کیا جا سکے ۔     
  سیاحت کے دوران کرونا وائر س سے محفوظ رہنے کے لئے مندرجہ بالا حکومتی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ایک الگ مرحلہ ہے جس میں ان تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے ہوٹلز یا گیسٹ ہائوسز کے تمام سٹاف کے ساتھ ساتھ ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنسیز سے منسلک افراد کے لئے ورکشاپز یا ٹریننگ سیشنز ناگزیر ہیں اورتمام تر انتظامات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
 اس کے علاوہ ان تمام احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں سیاحتی مقامات پر موجود عوام یا تفریح کے لیے آنے والے افراد کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ بے احتیاطی برتے بغیر ان تمام ہدایات پر سختی سے عمل کر تے ہوئے سیاحت کے شعبے کو دوبارہ فروغ دینے میں مدد کریں۔ ||


 مضمون نگارمائیکرو بیالوجسٹ ہیںاورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں .
۔[email protected]

یہ تحریر 297مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP