یوم پاکستان

پیغام پاکستان:دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خلاف قومی بیانیہ 

 چند سال پہلے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سو علمائے کرام کی جانب سے جاری کیاجانے والا پیغام پاکستان صرف ایک پیغام ،ایک کتاب اورفتویٰ ہی نہیں بلکہ یہ مملکت پاکستان سے وفاداری کا عہد اورقومی بیانیہ تھا،جس میں ہرقسم کی دہشت گردی کوحرام قراردیاگیاہے ۔یہ درست سمت میں ایک قدم تھا۔جس میں چونکہ، چنانچہ، اگر،مگراوریعنی کہ شامل نہیں ۔ایک ہی قومی بیانیہ ہے کہ دہشت گرد ی ہرشکل میں حرام ہے۔یہ قومی بیانیہ تبدیل نہیں ہوا،اس کی ضرورت آج بھی بڑی شدت سے محسوس کی جارہی ہے،دہشت گردوں کوایک بارپھریہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے پیچھے چٹان بن کرکھڑی ہے۔


پیغام پاکستان میں عہد کیاگیاہے کہ ملک کودہشت گردوں اورانتہاپسندوں سے نجات دلوائیں گے۔اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگا کہ 1973ء کے متفقہ آئین کے بعد یہ ایک بڑاکارنامہ اور اہم قومی دستاویزہے جوملک کوانتہاپسندی کے بھنورسے نکال کرپاکستان کوایک جدیدفلاحی اسلامی ریاست بناسکتی ہے،ایک مضبوط اورخوشحال پاکستان عالمی برادی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتاہے ۔


 پیغام پاکستان سے پہلے بھی دہشت گردی کے خلاف کئی فتوے جاری کیے گئے تھے جومؤثر ثابت نہ ہوئے ،لیکن اس مرتبہ ریاست،تمام ادارے ،سیاسی ومذہبی جماعتیں، تمام طبقات اورعلماء کرام ایک پیج پرتھے۔سب چاہتے تھے کہ دہشت گردی کے اس عفریت سے نجات حاصل کی جائے جوقومی سلامتی کونقصان پہنچا رہا ہے۔ بھائی کوبھائی سے لڑا رہاہے۔پیغام پاکستان ایک مکمل بیانیہ ہے دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی اورفرقہ واریت سے نمٹنے کا ۔پیغام پاکستان میں عہد کیاگیاہے کہ ملک کودہشت گردوں اورانتہاپسندوں سے نجات دلوائیں گے۔اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگا کہ 1973ء کے متفقہ آئین کے بعد یہ ایک بڑاکارنامہ اور اہم قومی دستاویزہے جوملک کوانتہاپسندی کے بھنورسے نکال کرپاکستان کوایک جدیدفلاحی اسلامی ریاست بناسکتی ہے،ایک مضبوط اورخوشحال پاکستان عالمی برادی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتاہے ۔


ایک ہی قومی بیانیہ ہے کہ دہشت گرد ی ہرشکل میں حرام ہے۔یہ قومی بیانیہ تبدیل نہیں ہوا،اس کی ضرورت آج بھی بڑی شدت سے محسوس کی جارہی ہے،دہشت گردوں کوایک بارپھریہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے پیچھے چٹان بن کرکھڑی ہے۔


 پیغام پاکستان کے قومی بیانیے کوچند سال پہلے اس وقت کے صدرمملکت ممنون حسین نے ایک کانفرنس میں کتابی شکل میں جاری کیاجس میں اٹھارہ سوعلماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔اس قومی بیانیہ کا تمام سیاسی ودینی جماعتوں نے بھرپوراانداز میں خیرمقدم کیا،کسی سیاسی ودینی جماعت کااختلاف سامنے نہیں آیا ۔قوم دہشت گردی سے تنگ تھی اوراس سے نجات چاہتی تھی۔یہ حقیقت ہے بعض دہشت گردوں نے فرقہ پرست جماعتوں میں پناہ لے رکھی تھی اوربعض دینی جماعتوں اورمدرسوں کانام استعمال کر رہے تھے ،یہ پروپیگنڈا کیاجارہاتھا کہ انھیں بعض مذہبی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے ۔ایسے میں ضرورت تھی کہ تمام مسالک کے علماء کرام مل کرایک متفقہ فتوی جاری کریں تاکہ دہشت گردوں کوتنہاکیاجاسکے اگرکسی جانب سے ایسے گروپوں کی حمایت بھی ہے تواسے ختم کیاجائے۔پیغام پاکستان میں ہرقسم کی دہشت گردی، قتل و غارت، خودکش حملوں،ٹارگٹ کلنگ اوربم دھماکوں کو حرام قراردیاگیاہے ،اوراس کی شدیدمذمت کی گئی ہے۔پیغام پاکستان میں جن جیدعلماء کرام کے دستخط شامل تھے ان میں پانچ بڑے مدارس وفاق والمدارس العربیہ،تنظیم المدارس اہلسنت،وفاق المدارس سلفیہ،وفاق المدارس شیعہ اوررابطہ المدارس پاکستان شامل ہیں ۔دہشت گردی حرام قراردینے کے فتوے پرتمام جید علماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔اس دستاویز کی تیاری میں پاکستانی جامعات اوربڑے دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے علماء نے حصہ لیا۔ان میں دارالعلوم کراچی،دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف،جامعہ المنتظرلاہور،جامعہ اشرفیہ لاہور،جامعہ بنوریہ کراچی،جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک،جامعہ محمدیہ اسلام آباداورجامعہ فریدیہ اسلام آبادشامل تھے۔قارئین کویاد ہوگا پیغام پاکستان کاابتدائی مسودہ ادارہ تحقیقات اسلامی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے محققین نے تیارکیاتھا۔میں یہاں اس کے چند نکات ایک بارپھرآپ کے لیے دوہرا دیتاہوں۔ 
پیغام پاکستان کے بیانیہ میں درج ہے''پاک فوِج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی حد تک سرخرو ہو گئی، اگرچہ یہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، نظریاتی میدان خالی پا کر دشمن نئے دہشت گرد بھرتی کرتا رہے گا – یہ جنگ کبھی ختم نہ ہو گی جب تک نظریاتی محاذ پر پاکستان کے دانشور ، علمائ، سیاست دان، حکمران،عوام اور میڈیا اپنا کردار ادا نہ کریں۔دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ میں اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی اسلامی شریعت کی رُو سے ممنوع ہے۔خود کش حملے حرام ہیں جبکہ ان کے مرتکب اسلام کی رُو سے باغی ہیں۔متفقہ فتوے دیے گئے کہ پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کارروائیاں بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ شرعاً بالکل حرام ہیں۔ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے،جہاد صرف ریاست کا اختیار ہے۔ انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل کا قلع قمع ضروری ہے۔دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔''پیغام پاکستان'' کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہادکا وہ پہلو جس میں جنگ و قتال شامل ہیں، اس کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اورسرزمین پاکستان اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت ہے جسے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔علماء و مفتیان دین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اسلامی ریاست میں پر امن طریقے سے رہنے والے غیر مسلموں کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے اوراسلام کی رُو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاسداری مردوں کے لیے لازم ہے۔متفقہ فتوی میں یہ بھی درج ہے کہ مسلح بغاوت میں شرکت یا اس کی حمایت نبی آخر الزماں حضرت محمدۖ کے ارشادات کی کھلی نا فرمانی ہے۔متفقہ فتویٰ و اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مسالک کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء مشائخ سمیت تمام طبقات ریاست اور افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ضمن میں پوری قوم ان سے غیرمشروط تعاون کا اعلان کرتی ہے''۔
 ہمیں یاد ہے یہ وہ دورتھا جب سکیورٹی فورسزاور عوام کے خلاف دہشت گرد حملے بڑھتے جارہے تھے۔ان افسوسناک واقعات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ایک دونہیں ہزاروں پاکستانی پاک سرزمین پرقربان ہوگئے۔پیغام پاکستان ایک عہد ہے کہ دہشت گردوں کے آگے سرنہیں جھکائیں گے۔قوم کویاد ہے آرمی پبلک سکول پشاورمیں جب بزدل دشمن تمام حدیں پار کرگیا،سول اورملٹری قیادت نے فیصلہ کیاکہ بس اب بہت ہوگئی کسی دہشت گرد کونہیں چھوڑا جائے گا۔پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑی تھی ۔
 دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے ایسا لگ رہاہے کہ بعض دہشت گرد گروپ ایک بارپھرسرگرم ہوگئے ہیں جن کی ڈوریں بیرون ممالک سے ہلائی جارہی ہیں ۔دہشت گرد گروپوں کواُن کے غیرملکی آقاؤں کی مددحاصل ہے جوانھیں مسلح تربیت ،اسلحہ اورپیسہ فراہم کررہے ہیں،جن سے لوگوں کوخبردار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ وقت ہے ایک بارپھریہ یادکرایا جائے کہ دہشت گردی قابل مذمت ہی نہیں بلکہ حرام ہے،دہشت گرد اوران کے حامی حرام کی موت مرتے ہیں ،اس دنیا میں بھی ذلیل وخوار اوراورمرنے کے بعد دوزخ ان کی منتظر ہے۔
 پیغام پاکستان دشمنوں کے لیے دوٹوک پیغام ہے کہ اب انھیں چھپنے کے لیے کہیں جگہ نہیں ملے گی اوروہ اپنے انجام کوپہنچیں گے۔ دہشت گردی کے واقعات کے باعث ایک طرف توعوام میں خوف وہراس پھیل رہاتھادوسری طرف معیشت کوبھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتھا۔عالمی سطح پربھی پاکستان کی ساکھ متاثرہوئی۔ ریاست کی کمزورہوتی رٹ کوبحال کرنے کاایک ہی راستہ تھا کہ دوٹوک فیصلہ کیاجائے اورتمام دہشت گردگروپوں کے خلاف راست اقدام کیاجائے۔جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی مدد سے ملک بھرمیں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں۔ایک طرف دہشت گردوں کاصفایاکیاگیاتودوسری طرف انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے۔مذہبی انتہاپسندی اورفرقہ واریت کے باعث ہرمحب وطن پریشان تھا ،یہ بات ثابت ہے کہ یہ فرقہ پرستی اندرسے نہیں تھی بلکہ فرقہ پرستی کی آگ بیرون ممالک سے بھڑکائی جارہی تھی۔ایک ملک کسی ایک دہشت گرد گروپ کوسپورٹ کررہاتھا تواس کاحریف دوسرا ملک دوسرے گروپ کوسپورٹ کررہاتھا،ایسی خبریں بھی آئیں کہ دشمن آپس میں برسرپیکاردونوں گروپوں کوسپورٹ کررہاہے ، بھارت اوراسرائیل دونوں دہشت گردی کوہوا دے رہے ہیں اورفرقہ پرست تنظیموں کو لڑا کرپاکستان میں انتشارپھیلاناچاہتے ہیں۔پاکستان میں بسنے والے مختلف فرقوں کی ایک مشترکہ تاریخ اورتہذیب وثقافت ہے،ایک دوسرے سے خونی رشتہ داریاں ہیں۔ایک نہیں لاکھوں گھرایسے ہیں جہاں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک چھت تلے رہ رہے ہیں۔ایک دوسرے کی خوشی اورغمی میں شرکت کرتے ہیں۔سچی بات ہے مجھے اپنابچپن یاد ہے محلے میں ایک مسجد تھی جس میں سنی اورشیعہ اکٹھے نمازپڑھتے تھے، شانہ بشانہ کھڑے ہوتے تھے ۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان آنیوالے کسی مسلمان کی گردن کاٹنے سے پہلے یہ نہیں پوچھاگیاتھاوہ شیعہ ہے یاسنی؟ پنجابی ہے یااُردوبولنے والایابلوچی یاپشتو بولتاہے۔
 نوے کی دہائی میں پاکستان میں غیرملکی سازشوں میں اضافہ ہوا۔پاکستان کے دشمن خوف زدہ تھے کہ پاکستان خطے کاایک بڑا اورطاقت ورکھلاڑی بن کر ابھر رہا ہے، اس وقت پاکستان کی ترقی کی رفتار بھی ترقی پذیر ممالک سے بہت بہتر تھی۔ دنیا پاکستان کواسلام کاقلعہ کہتی تھی اورپاکستان عالم اسلام کی آنکھوں کاتارا تھا۔ پھر سازشوں کاکھیل شروع ہوگیا۔بعض دوست ممالک بھی اپنے مفادات کے لیے اس کھیل کاحصہ بن گئے۔ پاکستان کوکمزورکرنے اورانتشارپھیلانے کے لیے دہشت گردوں کواسلحہ اورپیسہ فراہم کیا گیا۔ ایسالگ رہاہے یہ خونی کھیل ایک بارپھر شروع ہوگیاہے۔ تحریک طالبان پاکستان اوربلوچستان کے بعض دہشت گرد گروپ اس کی مثالیں ہیں جن کی ڈوریں آج بھی افغانستان اوربھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔افغان طالبان کے آنے کے باوجود افغانستان میں اب بھی دہشت گردوں کے کئی گروپ موجود ہیں۔کچھ گروپ مذہب کااوربعض قوم پرستی کاسہارا لے کر دہشت گردی کررہے ہیں۔ان کانشانہ خاص کر سکیورٹی فورسز ہیں۔
پیغام پاکستان بیانیہ سے قبل بعض گروپ یہ سمجھتے تھے کہ کوئی مذہبی جماعت یا عالم دین تنہا بھی جہاد کاحکم دے سکتاہے،لیکن جید علمائے کرام نے یہ واضح کردیاکہ جہاد کاحکم صرف ریاست دے سکتی ہے کہ کرناہے یانہیں کرنا۔ اگرمختلف تنظیموں یاعلماء کرام کویہ اجازت دیدی جائے کہ وہ اپنی مرضی اورسوچ کے مطابق جہاد کاحکم دیں تواس سے سوائے انتشار اورلاقانونیت پھیلنے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ریاست کایہ اختیار کسی تنظیم اورکسی ایک عالم دین کونہیں دیاجاسکتا۔
 ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے میں امن و استحکام نہ ہو،تمام شہری بغیر کسی خوف اورروک ٹوک کے کام کریں۔غربت اورجہالت بھی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہے،بعض نوجوان غربت اوربعض جہالت کے باعث دہشت گردتنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں اوراپنی زندگیاں برباد کربیٹھتے ہیں۔
 ریاست کی جانب سے پیغام پاکستان کانفرنس کے بعد علماء کرام اورمختلف تنظیموں نے اس پیغام کوگھرگھرپہنچانے کااہتمام کیا،اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی تمام مکاتب فکر کے علما کرام کواکٹھا کیااورایک بیس نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کیا۔اس ضابطہ اخلاق میں یہ بات شامل تھی کہ پاکستان کے تمام شہری ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری نبھائیں گے،کوئی ایسی بات نہیں کی جائے گی جس سے کسی دوسرے فرقے کی دل آزاری ہوتی ہو۔علماء مشائخ اورہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد قانون نافذ کرنیو الے اداروں کی حمایت کریں تاکہ تشدد ختم کیاجاسکے،کسی کویہ حق نہیں کہ وہ حکومتی،مسلح افواج یادیگراداروں کے افرادکوکافرقراردے۔اسلام کے نفاذ کے نام پرجبر،مسلح کارروائی، تشدداورانتشارکی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں ۔
 ملک سے دہشت گردی اورانتہاپسندی کوجڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہم سب کواپنی اپنی سطح پرکردار ادا کرناہوگا۔یاد رکھیے ہرفردہے ملت کے مقد کا ستارہ، ہرشخص اپنی سطح پرکرداراداکرسکتاہے۔ہم سب نے مل کرپاکستان کوآگے لے کر جانا ہے، سبزہلالی پرچم سربلندرکھناہے،پاکستان کوترقی پذیرملک سے ترقی یافتہ ملک اورایشین ٹائیگربناناہے۔بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کوایک فلاحی ،ترقی یافتہ،جدید اسلامی ریاست بناناچاہتے تھے،وہ چاہتے تھے پاکستان تمام مسلم ممالک کی قیادت کرے۔یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ملک میں امن واستحکام ہواورملک معاشی ترقی کرے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرتاجب تک تما م شہریوں کومساوی حقوق اورمواقع حاصل نہ ہوں۔مذہب اورفرقے کی بنیاد پرکسی سے تعصب نہ برتاجائے اوردوسرے درجے کے شہری کاسلوک نہ کیا جائے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جس کے لیے اس کے تمام بچے ایک جیسے ہوتے ہیں،جس طرح ماں اپنے بچوں میں تفریق نہیں کرتی اسی طرح ریاست کاکام بھی یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے شہریوں میں تفریق کرے۔پاکستان کاآئین بھی تمام شہریوں کواس بات کی اجازت دیتاہے کہ وہ خودبھی ترقی کریں اورملک وقوم کی ترقی میں بھی اپناکردار ادا کریں۔یہ بات پیغام پاکستان کی روح بھی ہے۔کسی سے بھی اس کے مذہب ،فرقے یازبان کی بنیاد پربراسلوک نہ کیاجائے ۔دشمن اورمفاد پرست ممالک ان کمزوریوں کافائدہ اٹھاتے ہیںاورایسے گروپوں کی پشت پرہاتھ رکھ کران کی حوصلہ افزائی کرتے ہیںاوراپنامطلب نکالتے ہیں ۔
 ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان کے کچھ علیحدگی پسند گروپوں نے ایک اتحاد قائم کرلیاہے،وہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیمیں جوایک دوسرے کے خلاف تھیں اب متحد ہوتی نظرآرہی ہیں،یہ سب واقعات خودبخود نہیں ہورہے بلکہ ان کے پیچھے دشمن ممالک کاسوچاسمجھامنصوبہ ہے، یعنی افغانستان میں اپنی شکست کابدلہ لینا۔پاکستان کوایک مشکل صورتحال سے دو چار کرنا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں یکدم اضافہ ہوگیاہے۔ٹی ٹی پی کے دہشت گرد کہہ رہے ہیں کہ ان کاہدف صرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہیں ،اس سال صرف جنوری کے مہینے میں بلوچستان میں دہشت گردی کے دس واقعات ہوئے جبکہ دو فروری کی شام دہشت گردوں نے پنجگوراورنوشکی میں سکیورٹی فورسزکے کیمپوں پرحملہ کیا ۔ان حملوں سے ظاہرہوتاہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کوپھرسے منظم کیاجارہاہے اوراس کے پیچھے غیرملکی خفیہ ایجنسیاں ہیں۔پاک فوج اوردیگرسکیورٹی فورسز دہشت گردی کی اس نئی لہر سے منظم طریقے سے نمٹ رہی ہے ،قو م بھی اپنی فورسز کے پیچھے کھڑی ہے۔
 دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سی پیک منصوبے بھی ہیں ،بعض ممالک سی پیک اورگوادرکی ترقی سے خائف ہیں،یہ گیم چینجرمنصوبہ ان کے سینے پرمونگ دل رہاہے ۔افغانستان میں شکست اورخطے کی صورتحال نے پاکستان کے دشمنوں کوخائف کردیاہے۔خدشہ ہے کہ وہ دہشت گردی پھیلانے کے بڑے منصوبے بنائیں گے۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے،سی پیک منصوبے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے راستے کھل جائیں گے،گوادرپورٹ کے بارے میں پیش گوئی کی جارہی ہے کہ یہ چند سال میں ہی خطے کی مصروف ترین پورٹ بن جائے گی ،جس کااثر دوسرے ممالک پربھی پڑے گا،مغربی ممالک اوربھارت سی پیک منصوبے سے خوفزدہ ہیں اوراسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سی پیک منصوبے بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پرہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے تحفظ اورتعمیر وترقی میں فوج اہم کردار ادا کررہی ہے،دشمنوں کی کوشش ہے کہ اس ادارے کومتنازع بنایاجائے اورعوام کااعتما دکم جائے۔کون نہیں جانتا پاکستانی عوام میں فوج سے محبت کوٹ کوٹ کربھری ہے۔اس کی مثال بھی دنیامیں کم ہی ملتی ہے۔
 پیغام پاکستان یعنی تمام مسالک کے علماء کرام کایہ متفقہ بیانیہ اس بات کاثبوت ہے کہ عام آدمی کی طرح علماء کرام بھی دہشت گردی اورانتہاپسندی کاخاتمہ چاہتے ہیں، اس حوالے سے ان کی دورائے نہیں۔کسی قوم میں اتحادہوتووہ بڑے سے بڑے چیلنج اوربحران کامقابلہ کرسکتی ہے۔سچی بات تویہ ہی ہے کہ دنیا حیران تھی پاکستان نے بہت کم وسائل کے باوجود دہشت گردوں کوشکست دی ،جبکہ ان دہشت گردتنظیموں کو کئی ممالک کی خفیہ مدد حاصل تھی۔افغانستان کی صورتحال کے بعد اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں کوئی نیاانسانی بحران پیدا ہونے سے روکے۔افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بعض ممالک نے لاتعلقی کارویہ اختیارکرلیاہے،وہ افغانستان کی نہ سفارتی مدد کے لیے تیارہیں اورنہ انسانی بنیادوں پرخوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے کوئی کردار ادا کررہے ہیں،اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی متعددبار اپیلیں کرچکاہے کہ افغانستان کی مدد کی جائے،خدشہ ہے کہ اگرافغان طالبان کی گرفت کمزورہوئی توداعش ،ٹی ٹی پی جیسے گرو ہ دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں جس سے نہ صرف خطے کابلکہ دنیا کاامن تباہ ہوسکتاہے۔دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کورائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے عالمی برادری کوآنکھیں بند کرنے کے بجائے اپناکرداراداکرناچاہیے۔
ہمیں اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں پربھی ایک نظرڈالنی چاہیے جب تک غلطی کاادراک نہیں ہوگااصلاح بھی ممکن نہیں،ماضی کی بعض حکومتوں نے انتہاپسنداورفرقہ پرست تنظیموں سے نرم رویہ اختیارکیا،جس کانتیجہ یہ نکلاکہ ان فرقہ پرست تنظیموں نے دہشت گردوں کی ایک پوری کھیپ تیارکی ۔قوانین میں سقم اوردہشت گردوں کوسزائیں نہ ملنے کے باعث ،دہشت گردوں کومزید شہ مل گئی ۔ایک وقت ایسابھی آیاکہ لگتاتھااب اس منہ زورگھوڑے کوقابونہیں کیاجاسکے گا۔لیکن قوم کے عزم اور قربانیوں کے باعث دہشت گردوں کے خلاف جنگ شروع کی گئی جوآخری دہشت گردکے خاتمے تک جاری رہے گی ۔مجھے یقین ہے کہ منبرومحراب نے جس طرح پہلے قوم میں یکجہتی پیدا کرنے میں اپناکردار ادا کیا،اورفورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکردہشت گردوں کامقابلہ کیا ایک بارپھر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے میدان میں نکلیں گے۔سکیورٹی فورسز پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کونشان عبرت بنائیں گے۔ پیغام پاکستان بیانیہ پوری قوم کے دل کی آوازہے جس پرعمل درآمد جاری رہناچاہیے۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ان دنوں ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 504مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP