متفرقات

شکریہ پاکستان

اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے بوسنیا ہرزیگوینا میں تعینات  پاکستان پولیس سروس کے آفیسر ڈی ایس پی منصورالحسن کی ایک تحریر

''ہم رب ذوالجلال سے دعا کرتے ہیںکہ غم میں امید، قصاص میں زندگی اورماؤں کے آنسوؤں میں چھپی دعاوں کاواسطہ کہ سریبرینیتسا پھر نہ ہو''
(بوسنیا ہرزیگوینا کے ایک شہر سریبرینیتسا Srebrenica سے 6 کلومیٹر دورایک گاؤں دونی پوٹو چاری Donji Potocari کے پاس 8 ہزار مسلمان شہداء کی یادگارپرایک لوح نصب ہے جس پر رئیس العلماء بوسنیا کی طرف سے یہ ''دعائے سریبرینیتسا'' رقم ہے)

بائیس جون2006 آج الفا کیمپ پریسٹینا میں معمول سے زیادہ ہلچل تھی اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل مختلف ممالک کے پولیس افسران کے چہروں پر تناؤ اور تھکاوٹ کے آثار نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے تھے ۔ عالمی عدالت انصاف کی طرف سے یوگوسلاویہ کی جنگ کے قتل عام میں مبینہ شامل افراد پر جنگی جرا ئم کا مقدمہ چل رہا تھا اور بین الاقوامی پولیس افسران کی اس یونٹ جس کے ذمے جنگی قیدیوں کی ترسیل اور عدالت میں سماعت کے دوران ان کو حفاظت فراہم کرنا تھی میں ،میں بطور ٹریننگ آفیسر خدمات سرانجام دے رہا تھا لیکن معاملے کی حساسیت دیکھتے ہوئے یونٹ کے امریکن چیف جیمزکچنز نے مجھے بھی آج کی سماعت میں بطور پرسنل پروٹیکشن آفیسر شامل ہونے کو کہا تھا۔ ایک دن پہلے منعقدہ بریفنگ میں جنگی مجرم کے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا گیا تھا لیکن اتنا ضرور بتایا گیا تھا کہ سرب گوریلوں نے اسے مار دینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
یوگوسلاویہ کی شکست و ریخت کے بعد خطہ بلقان نے نسل کشی کے وہ واقعات دیکھے کہ انسانی تاریخ کے اس دور کا صفحہ صفحہ زخمی اور سطر سطر کٹی پھٹی ہے۔ 11جولائی 1995ء کو یہ سرب افواج ہی تھیں جنہوں نے سربیرینیتسا پر قبضہ کرلیا اور لگ بھگ دو ہفتوں کے دوران 8,000 سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیاگیا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی طرف سے سریبرینیتسا کو محفوظ علاقہ قرار دینے کے بعد یہ شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر اقوام متحدہ کے نیلے پرچم تلے ہالینڈ کی افواج کے ہاتھ میں آگیا تھا۔ بوسنیائی افواج کے غیر مسلح ہوتے ہی، ہالینڈ افواج کی موجودگی میں، سرب افواج نے شہر پر قبضہ کر لیا  اور ہالینڈ کی فوج نے کوئی ردِ عمل نہ دکھایا۔ شہر پر قبضے کے بعد سرب 14 سال سے 70 سال تک کے تمام مردوں کو عورتوں سے علیحدہ کرتے اور ایک عمارت جس کا نام انہوں نے وائٹ ہاؤس رکھا ہوا تھا، میں لے جاتے اور پھر اس وائٹ ہاؤس سے لاشوں کے بھرے ٹرک برآمدہوتے اوران مردہ اجسام کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا جاتا۔ حتی کہ بیشمار زندہ لوگ بھی بلڈوزروں کی مدد سے دفن کر دیئے گئے جن میں اَن گنت بچے بھی شامل تھے۔ 12 اور 13 جولائی کو ان کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے تقریباً بیس ہزار افراد جن کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش میں تھی، تزلہ اور دونی پوٹو چاری کے پہاڑوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ 
عالمی عدالت انصاف کی طرف سے یوگوسلاویہ کی جنگ کے قتل عام میں مبینہ طور پر شامل سرب، بوسنیائی اور البانوی  افراد پر جنگی جرا ئم کا مقدمہ کوسوو کے شہر جیلان(Gnjilane) میں چل رہا تھا۔۔۔ ایک دن پہلے منعقدہ بریفنگ میں کانوائے پر کسی بھی امکانی حملے کی صورت میں لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا تھا۔۔۔بلٹ پروف گاڑیوں کی ترتیب، درمیانی فاصلہ، رفتار اور 101 پولیس افسران کو مختلف ذمہ داریوں کی تفصیلات بتا دی گئی تھیں۔۔۔جنگی مجرم کے پرسنل پروٹیکشن آفیسر کی حیثیت سے مجھے اپنے آسٹرین اور جرمن کولیگ کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں سفر کرنا تھا۔۔۔۔شدید برف باری اور خون جما دینے والی سردی میں یہ کارواں صبح پانچ بجے یورپ کی دوسری بڑی جیل ڈبراوا (Dubravë)  سے اس قیدی کو لے کر جیلان عالمی عدالت انصاف روانہ ہوا۔ اسی ڈبراوا جیل پر 1999 میں سرب افواج نے حملہ کر کے ایک ہزار البانوی قیدیوں کو لائن میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا تھا۔۔۔سائرن بجاتی اقوام متحدہ کی سفید گاڑیاں برف سے ڈھکی بل کھاتی پہاڑی سڑک پر کسی فلمی منظر کی طرح رواں دواں تھیں ہر تنگ موڑ پر قافلے کی رفتار آہستہ ہوتی تو بکتر بند گاڑیوں پر مشین گنوں کے پیچھے بیٹھے فوجی کسی ممکنہ حملے کو بھانپتے ہوئے مزید چوکنا ہو جاتے۔۔۔دو گھنٹے کی مسافت کے بعد یہ کارواں بخیر و عافیت عدالت کے احاطے میں داخل ہو گیا۔۔۔نیلی ٹوپیاں پہنے بین الاقوامی پولیس اور فوج کے مستعد جوانوں نے عدالت کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا تھا۔چھتوں پر چاق چوبند ماہر نشانہ بازوں کی آنکھیں کسی انجانے دشمن کی تلاش میں مسلسل متحرک تھیں۔۔کمرہ عدالت کے سامنے پہنچتے ہی میں نے جنگی مجرم کی ہتھکڑیوں کو چیک کیا اورسکیورٹی پر مامور دیگربین الاقوامی پولیس افسران کے گھیرے میں عدالت کے اندر جا پہنچا۔۔۔ شدید برف باری کی وجہ سے ججز کے پینل میں سے ایک جج بروقت نہ پہنچ پائے اور عدالتی کارروائی میں تاخیر کی وجہ سے جنگی مجرم کو دوبارہ بلٹ پروف گاڑی میں لے جانے کو کہا گیا۔۔۔ گاڑی میں موجود آسٹرین اور جرمن کولیگ  حفاظت کی غرض سے ہتھیار تھامے گاڑی کے باہر جا کھڑے ہوئے اور گاڑی کے اندر میں اور جنگی مجرم تنہا رہ گئے۔ سارا رستہ انتہائی اعصاب شکن خاموشی میں گزرا تھا اور جنگی مجرم اس سفر کے دوراں البانوی زبان کی کوئی کتاب مسلسل پڑھتا رہا تھا۔۔۔تھکاوٹ اور علی الصبح روانگی کی وجہ سے بھوک کا احساس بھی ہونے لگا۔۔۔طویل سفر اور رات گئے  عدالتی کارروائی کے پیش نظرہم سب چھوٹے تھیلے ہمراہ رکھتے تھے جن میں ہلکی پھلکی کھانے کی اشیا بھی رکھی جاتی تھیں۔ اپنے پاس ہی رکھے تھیلے کوکھول کر میں نے سلاد اور ایک چکن نگٹ کھا کر تھیلا بند کر دیا کہ اچانک مجھے شدید شرمندگی کا احساس ہونے لگا کہ یہ جو کوئی بھی ہے مجھے اس کے سامنے اس طرح اولاً  کچھ کھانا نہیں چاہیے تھا ثانیاً اگر کھا ہی لیا تھا تو اسے بھی اخلاقاً کھانے کا پوچھنا چاہیے تھا ۔ یہ سوچ کرمیں نے کھانے کا ڈبہ دوبارہ نکال کراس جنگی مجرم کے آگے کر دیا اور اس نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ نگٹس کا ایک ٹکڑا اٹھا لیا۔۔۔گاڑی میں ایک مرتبہ پھر خاموشی تھی ۔ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے خلاؤں میں کسی گہری سوچ میں گم جنگی مجرم اچانک گویاہوا۔۔۔کس ملک کے ہو۔۔۔تھوڑے توقف بعد میں نے جواب دیا۔۔۔۔پاکستان۔۔۔اگلے ہی لمحے مجھے جنگی مجرم کی آنکھوں میں واضح نمی تیرتی نظر آئی۔۔۔میں ورطہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ پھر بولنے لگا۔۔۔۔میں جنرل بدری زبیری (General Bedri zyberaj) ہوں۔میرا تعلق البانیہ سے ہے میں سربوں کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل رہا ہوں۔۔۔ پھر ذرا توقف کے بعد کہا ۔۔۔میں پاکستانی پیس کیپرز (اقوامِ متحدہ کے تحت بوسنیا میں خدمات سرانجام دینے والے پاکستانی فوج کے دستے) کا بہت معترف ہوں۔ انہوں نے اپنے فرائض انتہائی چابکدستی اور پیشہ ورانہ انداز میں نبھاتے ہوئے بوسنیا کے شہریوں کو سربوں سے بچانے میں کردار ادا کیا۔ اگر پاکستانی پیس کیپرز نہ ہوتے توبوسنیا اور کوسوو کا ہر قصبہ اورہرشہر سریبرینیتسا ہوتا۔۔۔نیٹو تو بہت بعد میں آئی۔۔۔یہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔اپنے ہاتھ میں تھامی اپنی ہی شاعری کی کتاب پر میرا نام تحریر کر کے میرے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔جب پاکستان واپس جائوتو خطہ بلقان کے ایک مسلمان فوجی افسر کی طرف سے غم میں امید، قصاص میں زندگی اور ماؤں کے آنسوؤں میں چھپی دعاؤں کا واسطہ دے کے صرف اتنا کہہ دینا۔۔۔شکریہ پاکستان۔۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 287مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP