اداریہ

تکمیل پاکستان کا سفر

قومیں اپنی سالمیت کے لئے صدیوں لڑتی ہیں اور کٹھن آزمائشوں سے نبردآزما ہوتی ہیں۔ قوموں کو بسااوقات ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن وہ حوصلہ ہار کر بیٹھ نہیں جاتیں بلکہ جدوجہد جاری رکھتی ہیں۔ اگر مقاصد عظیم اور عزمِ صمیم  ہو تو کوئی بڑی سے بڑی رُکاوٹ بھی اُس قوم کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ 1947میں برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمدعلی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان کی صورت میں ایک آزاد مملکت حاصل کر لی تو مختلف ریاستوں اور قبائلی علاقہ جات کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ اس وقت بہاولپور، حیدرآباد، جونا گڑھ، قلات اور قبائلی علاقہ جات نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد پر بھارت نے قبضہ کر لیا۔ کشمیر پر بھی جعلسازی کے ذریعے قبضہ جما لیا گیا۔ سب سے آخر میں جونا گڑھ پر قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے اگلے ہی روز 12ستمبر 1948کو  بھارت نے فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا۔ اب ظاہر ہے دشمن پاکستان کے ساتھ دیگر ملحقہ علاقوں پر قبضے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا تو اس نے سازشوں کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص قبائلی علاقہ جات، صوبہ بلوچستان اور کراچی میں اپنے مخصوص عناصر کے ذریعے سازشوں کا جال پھیلائے رکھا لیکن پاکستان کے محبِّ وطن عوام اور اداروں نے اُنہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ نائن الیون کے بعد جب نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو پاکستان دشمن عناصر نے اپنی کوششیں پھر سے تیز کر دیں اور پاکستان میں شدّت پسندی، دہشت گردی اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر کے ریاست پاکستان کی سالمیت کو زک پہنچانے کی قبیح سازشیں کی گئیں لیکن قوم اور اس کی افواج ڈٹی رہیں۔ پاکستان کے اسی ہزار شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ثابت قدم رہے۔ قبائلی علاقہ جات میں موجود پاکستان دشمن عناصر کے خلاف خود قبائلی علاقہ جات کی عوام اور پاکستان کے دیگر علاقوں پر مشتمل عوام نے اپنی افواج کے ساتھ یک جان ہو کر شکست فاش دی۔ اس دوران قبائلی علاقہ جات کے لوگوں کو عارضی طور پر بے گھر ہونا پڑا اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُن کی اولوالعزمی میں کمی نہیں آئی۔ یہی وجہ تھی کہ فاٹا کے عوام اور افواج پاکستان سُرخرُو ٹھہریں اور آج نہ صرف فاٹا کے عوام کی کثیر تعداد اپنے اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہے بلکہ فاٹا کا انضمام صوبہ خیبرپختونخواکے ساتھ عمل میں آ چکا ہے اور اس کی توثیق قومی اسمبلی، سینٹ آف پاکستان سے ہونے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کی پارلیمنٹ سے بھی ہو چکی ہے۔

بلاشبہ فاٹا کا قومی دھارے میں آنا نہ صرف فاٹا کے غیور اور محب وطن عوام کی خواہش تھی بلکہ پاکستان بھر کے عوام یہی خواہش رکھتے تھے کہ اسی میں ریاستِ پاکستان اور عوام کی بھلائی مضمر تھی۔ الحمدﷲ اگست 1947 کے بعد مئی 2018میں پاکستانی قوم نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاک سرزمین سے دل و جان سے محبت کرتی ہے اور اس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے ہر اس اقدام کے ساتھ کھڑی ہے جو پاکستان کی سالمیت،  مضبوطی اور وقار میں اضافے کا باعث ہو۔ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے ایک پڑوسی ملک کے تحفظات سامنے آئے جنہیں ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے اداروں اور عوام نے جس طرح سے فاٹا کے انضمام کے حوالے سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اُن تمام بیرونی اور اندرونی عناصر (جو پاکستان کے خلاف نبردآزما ہیں) کے لئے ایک پیغام ہے کہ یہ قوم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ چکی ہے۔ اب یہ ایک متحد اور باصلاحیت قوم کے طور پر ابھر رہی ہے جو کسی بڑے سے بڑے چیلنج سے ٹکرانے کے ہُنر سے آشنا ہو چکی ہے اور پاکستان کے عوام تکمیل پاکستان کے اس سفر میں باہمی اتحاد اور یگانگت کے رشتے میں مٹھی کی مانند ایک ہو چکے ہیں۔ خدا اس قوم کو ایسے ہی متحد اور توانا رکھے۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔

یہ تحریر 678مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP