شعر و ادب

مکافات

''تم دیکھتے ہو کہ فطرت ہر گوشہ وجود میں اپنا قانون ِ مکافات رکھتی ہے۔ ممکن نہیں کہ اس میں تغیر یا تساہل ہو۔ فطرت نے آگ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جلائے، اب سوزش و تپش فطرت کی ہو مکافات ہوگئی جو ہر اس انسان کے لیے ہے جو آگ کے شعلوں میں ہاتھ ڈالے گا۔ ممکن نہیں کہ تم آگ میں کودو اور اس کے قانونِ مکافات سے بچ جائو۔ پانی کا خاصہ ٹھنڈک اور رطوبت ہے یعنی ٹھنڈک اور رطوبت وہ مکافات ہیں جو فطرت نے پانی میں ودیعت کردی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ تم دریامیں اُترو اور اس کے مکافات سے بچ جائو۔ پھر جو فطرت کائنات ہستی کی ہر چیز اور ہر حالت میںمکافات رکھتی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ انسان کے اعمال کے لیے مکافات نہ رکھے۔ یہی مکافات جزا و سزا ہے ۔ آگ جلاتی ہے۔ پانی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ سنکھیا کھانے سے موت، دودھ سے طاقت آتی ہے۔ کُنین سے بخار رُک جاتا ہے۔ جب اشیاء کی ان تمام مکافات پرتمہیں تعجب نہیں ہوتا کیونکہ وہ تمہاری زندگی کی تعینات ہیں تو پھر اعمال کے مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے؟ افسوس تم پر، تم اپنے فیصلوں میں کتنے نا ہموار ہو۔''
کتاب: ابوالکلام آزاد ۔ احوال و آثار
مرتب: مسعود الحسن عثمانی۔ 
(مقدمہ ترجمان القرآن کا ایک ٹکڑا)
 

یہ تحریر 116مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP