قومی و بین الاقوامی ایشوز

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: بھارتی جبر و استبداد کا شاخسانہ

5 اگست2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور35Aکے خاتمے کے تناظر میں قلمبند کیاگیا تجزیہ
تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات مخاصمت اور دشمنی سے بھرپور رہے ہیں  اور اب تک دونوں ممالک نے چار جنگیں لڑی ہیں جن میں تین کشمیر کے لیے لڑی گئیں۔ کشمیر کے محاذ پر ماسوائے چند وقفوں کے دونوں اطراف کی افواج ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مگن رہتی ہیں۔بھارت پاکستان پر اپنے علاقے میں دراندازی کے الزامات لگاتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ ایک متنازع علاقہ ہے جس کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حق رائے دہی سے کیا جانا ہے اور یہی پاکستان کا مؤقف ہے۔کشمیر ہی وہ تنازع ہے جس نے ڈیڑھکروڑ لوگوں کے اس خطے کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کی وجہ بھارت کی علاقے پر سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی خواہش ہے اور اب انتہا پسندہندو قوم پرستوں کی سیاسی نظام میں شمولیت اور اقتدار تک رسائی نے خطے میں امن کو ایک خواب بنا کر رکھ دیا ہے۔انتہا پسند ہندو قومیت کے پرچارک کے اقتدارمیں آنے کے بعد بھارتی حکومت ایک فاشسٹ رجیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔


قانونی طور پر اس آرٹیکل نے تعین کیا کہ بھارتی آئین کا کتنا حصہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نافذالعمل ہوگااور ریاست جموں و کشمیر کاالگ جھنڈا، آئین اور اندرونی معاملات میں خودمختاری  ہو گی۔ ایک نہایت اہم شق اس آرٹیکل کی یہ تھی کہ ریاست کشمیر یا بھارت دونوں میں سے کوئی بھی یکطرفہ طور پر اس آرٹیکل کا خاتمہ نہیں کر سکتا، یہ صرف دونوں کی رضامندی سے ہی ممکن ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات میں ریاست کی کوئی منظوری یارضامندی شامل نہیں تھی بلکہ ریاست کے تمام سیاسی قائدین بشمول بھارت نواز سیاستدانوں کو اس آرٹیکل کے خاتمے سے پہلے ہی  پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔ 


بھارت کی اقلیتیں خصوصاً مسلمان ہندوفاشزم کے بدترین متاثرین ہیں۔ ہندوتوا کے نفرت انگیز،نسل کش اور انتہا پسندانہ نظریات  دنیا بھر میں بھارت کا تعارف بن چکے ہیں۔ 
اس نظریے کے تحت بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے کشمیر کے مسئلے کا ایک  ہی حل نکالا ہے اور اس حل کے اندر مرکزی خیال کشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں  تبدیل کرنا  اور اس کے لیے مقامی مسلمانوں کی نسل کشی کرنا،آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرنا شامل تھا تاکہ وادی میں آبادی کے تناسب کو بدلا جا سکے اور اسی مقصد کے لیے  5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا۔
کشمیر میں بھارتی عزائم کو سمجھنے کے لیے ان دو قوانین اور انکی کشمیر کے حوالے سے اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ جہاں تک آرٹیکل 370 کا تعلق ہے یہ بھارت کے آئین کے جس حصے میں شامل کیا گیا ہے  وہ XXI کہلاتا ہے۔ اس کے ذریعے ریاست کشمیر کو یہ پاور دی گئی کہ وہ اپنا  الگ ریاستی جھنڈااستعمال کریں اور ان کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل  ہو۔ لیکن  بھارتی آئین کے اس مخصوص حصے کا عنوان ہی اس کی اصل کہانی بتانے کے لیے کافی ہے جس کے مطابق یہ  ''خصوصی اختیارات عارضی اورٹرانزیشنل ہیں۔''قانونی طور پر اس آرٹیکل نے تعین کیا کہ بھارتی آئین کا کتنا حصہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نافذالعمل ہوگااور ریاست جموں و کشمیر کاالگ جھنڈا، آئین اور اندرونی معاملات میں خودمختاری  ہو گی۔ ایک نہایت اہم شق اس آرٹیکل کی یہ تھی کہ ریاست کشمیر یا بھارت دونوں میں سے کوئی بھی یکطرفہ طور پر اس آرٹیکل کا خاتمہ نہیں کر سکتا، یہ صرف دونوں کی رضامندی سے ہی ممکن ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات میں ریاست کی کوئی منظوری یارضامندی شامل نہیں تھی بلکہ ریاست کے تمام سیاسی قائدین بشمول بھارت نواز سیاستدانوں کو اس آرٹیکل کے خاتمے سے پہلے ہی  پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔ 
اب ہم آتے ہیں آرٹیکل35 اے کی طرف۔ اس کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر میں مستقل رہائش کا تعین کیا گیاا ور مقامی لوگوں کو چند خاص حقوق دیئے گئے۔اس آرٹیکل کے تحت کوئی بھی غیر مقامی شخص ریاست کے اندر کسی قسم کی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔
ان دونوں آرٹیکلز کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل تک اس کی آئینی اور قانونی و جغرافیائی حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا مگر بھارت نے ان تمام شقوں کی کبھی بھی پاسداری نہیں کی کیونکہ اس نے لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج کو ریاست میں قبضے کے لیے آباد کیا، ان کے رہائشی علاقے تعمیر کیے، اوران کے رہنے کے لیے چھاؤنیاں بنائیں لیکن اس سب کے باوجود کم ازکم آئینی طور پر ان دونوں آرٹیکلز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سیاسی اور قانونی طور پر کشمیر کی ایک مخصوص حیثیت تھی۔
بھارت نے ان آرٹیکلز کے ہوتے ہوئے پوری ریاستی مشینری انتظامیہ اور مقامی پولیس پر قبضہ کرلیا اور ان آرٹیکلز کے خاتمے سے پہلے بھی بھارت کشمیر میں ایک لاکھ لوگوں کا قتل کر چکا تھا جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ہی کیے گئے وعدے کی  یاد دہانی کروا رہے تھے۔
اگست 2019 میں ان آرٹیکلز کے خاتمے کے اثرات کا جائزہ لینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ہندتوا کے سیاسی نظریے اور اس کے تحت چلنے والے مختلف ''پراجیکٹس''پر ایک نظر ڈال لیں۔
گو کہ سیاسی طور پر ایک خالص ہندو ریاست کا تصور بہت پرانا ہے مگر موجودہ تاریخ میں ہندتوا کی اصطلاح سب سے پہلے 1927 میں وینائک  دامودار سیوار کر  نے استعمال کی۔ تب سے لے کر آج تک، اس نظریے کو بھارتی جنتا پارٹی،آر ایس ایس،وی ایچ پی اور دوسری ہندو سیاسی جماعتیں جن کو مشترکہ طور پر سنگھ پریوار کہا جاتا ہے،نے  اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیاہے۔سیوار کر کا نظریہ بنیادی طور پر تین چیزوں پر محیط ہے۔مشترکہ ثقافت، مشترکہ قومیت اور مشترکہ نسل۔ 
یہ بات تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے کہ سوارکر  کا بنیادی نظریہ ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب، ثقافتوں اور اور علاقوں کو اکٹھا کرنا تھا مگردائیں بازو کے انتہا پسندوں فاشسٹ سیاسی گروہوں نے اس نظریے کو ہائی جیک کر لیا اور اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے یہ خالص مذہبی رنگ دے دیاجو آج تک جاری ہے بلکہ بھارتی سیاسی اور سماجی دھارے میں اس نے تشدد کا رنگ بھی شامل کر دیا ہے۔
مذکورہ بھارتی ہندو انتہا پسند سیاسی جماعتوں کامشترکہ ایجنڈا خالص ہندو ریاست کا قیام ہے۔بی جے پی اور آر ایس ایس نے تو اپنے سیاسی منشور میں بھی اس چیز کو شامل کر رکھا ہے اور عام انتخابات کی مہم کے دوران اس کا برملا اظہار بارہا کیا جا چکا ہے۔دونوں جماعتیں 2014 سے اقتدار میں ہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دنیا نے بھارت میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا شکار دیکھا ہے جبکہ بھارت کی دیگر اقلیتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ 
سنگھ پریوار کا حتمی منصوبہ موجودہ بھارت کے مختصر تہذیبی رنگوں کو فنا کرکے محض ایک ہندو تہذیب کے رنگ کو غالب کرنا ہے۔ حکمران بی جے پی اور آر ایس ایس اس منصوبے کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہیں۔
اس تحریک میں ہندتوا گینگ نے بھارت بھر میں آزادانہ رائے دہی کے حق کوبری طرح سلب کرنا شروع کردیا ہے۔پہلے مرحلے میں ایسے تمام صحافیوں کا ناطقہ بند کیا جارہا ہے جو بھارتی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں،ان پر سفری پابندیاں لگائی جارہی ہیں،ان کا میڈیا بلیک آؤٹ کیا جارہا ہے حتیٰ کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں تک دی جارہی ہیں۔آزادانہ رائے دہی کے حق پر یہ  حملے دراصل سنگھ پریوار کی جانب سے ہندوتوا کی نظریاتی اساس کے تحت چلنے والے مختلف مسلم کش پراجیکٹس پر پردہ پوشی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یہ  تمام پروجیکٹس دراصل ایسے فروعی فسادات کا دوسرا نام ہیں جہاں مسلمانوں کی املاک جان و مال اور عزت کو نقصان پہنچایا جانا ہو۔اقلیتوں کے اوپر ہونے والے ان حملوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے جیسا کہ پولیس، بھی حملہ آور ہندوتوا گروہوں کی پشت پناہی کرتے نظر آتے ہیں۔
اس طرح کا پہلا پروجیکٹ 1996 میں پیش آنے والا بابری مسجد کا واقعہ تھا۔  جس کا  ذکر مندل کمشن رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مندرجات اور اس پر اعلیٰ ذات کے سیاسی ہندو پنڈتوں کا ردعمل بھی ہندوتوا کے بھارت میں سیاسی غلبے کی داستان میں ایک اہم باب ہے۔ مندل رپورٹ میں،جو کہ وزیراعظم وی پی سنگھ کی حکومت نے شائع کی تھی،بھارت کے اونچی ذات کے برہمن طبقے کو نچلی ذات کے پسے ہوئے شودر وں کے اندر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا ''خطرہ'' واضح طور پر محسوس ہوا۔ یہ شودر دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت میں بھی لمبے عرصے سے سماجی عدم انصاف،تعلیم اور روزگار کے مواقع کی عدم موجودگی کی وجہ سے کسمپرسی کا شکار تھے۔ دوسری جانب ریاست کو بھی بے چینی تھی کہ اتنی بڑی آبادی ملک کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر پا رہی۔
اس رپورٹ کی روشنی میں بھارت کی عدلیہ نے حکومت کو حکم دیا کے تعلیمی اداروں میں پچاس فیصد نشستیں اور ملازمتوں میں پچاس فیصد مواقع پسماندہ طبقات یعنی شودروں کو دیئے جائیں۔بھارت کے برہمن طبقے کے لیے یہ سب کرنا اپنی سماجی حیثیت کو داؤ پر لگانے کے مترادف تھا۔ 


•    بھارت پہلے ہی اسرائیل کی طرز پر اپنے زیر تسلط کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر چکا ہے۔
•   بھارت میں کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے اوپر کسی قسم کی تنقید کی اجازت نہیں  جس میں  بڑی تعداد میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈے بھارتی فوج کا لباس پہن کر اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
•   اس سلسلے میں 2021 میں شمالی امریکہ کے جنوبی ایشیا سے متعلق ماہرین نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے ہندوؤں کو کسی قسم کی ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے ان سے بچاؤ کا ایک ہدایت نامہ بھی مرتب کیا۔
•    ہر روز پانچ دس کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے۔
•    بین الاقوامی میڈیا کی بھارتی زیرتسلط جموں کشمیر میں کوئی رسائی ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے بھارت کو پوری دنیا کی نظروں سے بچ کر مسلم نسل کشی کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
•    بھارت کے اندر درسی کتب کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ تاریخ کو ہندوتوا کے سیاسی مقاصد کے تناظر میں از سر نو مرتب کیا جا سکے۔


بابری مسجد کی تحریک میں برہمن طبقے کو شودروں کے اندر سماجی ناانصافی کے خلاف پائی جانے والی بے چینی پر قابو پانے کے لیے ایک مذہبی سکیم نظر آئی جس کی مدد سے بھارت پر قابض ہندو انتہا پسند اپنے دو بڑے مسائل حل کر سکتی تھی۔ یعنی بابری مسجد سے چھٹکارہ تاکہ رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا سکے اور شودر طبقے کی حوصلہ افزائی کر کے ان کے اندر اٹھنے والی بے چینی کا علاج بھی کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے لوگوں میں اکثریت انہی شدت پسند لوگوں کی تھی جن کو اعلیٰ ذات کے ہندو برہمن مذہبی عصبیت اور منافرت کی رسی سے کھینچ کر بابری مسجد تک لائے تھے اور ان کو ایک اعلیٰ مذہبی خدمت انجام دینے کا موقع فراہم کر دیا۔تب سے لے کر آج تک سنگھ پریوار نے اپنے سیاسی مقاصد کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے اسی طبقے کو استعمال کیا ہے۔بابری مسجدپر حملہ، بھارت مسلمانوں پر کھلے عام  سماجی ظلم و ستم کا نقطہ آغاز تھا۔آج کے بھارت میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے مختلف پروگرام جیسا کہ 'لوو جہاد'،'گاؤ رکھشہ' اور' گھر واپسی'جیسے منصوبوں کا سامنا ہے۔ 
اب تک مودی سرکار کے ہوتے ہوئے بھارت میں درجنوں مذہبی فسادات ہوچکے ہیں جہاں ہمیشہ الزام مسلمانوں پر آتا ہے مگر بدقسمتی سے تمام ظلم و ستم اور تشدد کا نشانہ بھی وہی بنتے ہیں۔ 
آرٹیکل 370 اور 35اے کشمیر میں بھارتی دائیں بازو کی انتہا پسند اشرافیہ کا ایک پروجیکٹ ہی ہے۔تمام مقاصد سیاسی ہیں مگر ان کو حاصل کرنے کے لیے ہندوازم کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔
بھارت ، جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے دنیا کو دھوکہ دینا چاہ رہا ہے اور اس پروگرام کے لیے ایک لمبے عرصے سے تیاری جاری تھی اور اس کے لیے آئینی،قانونی اور سیاسی سطح پر ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن سے اس ہدف کا حصول ممکن ہو سکے۔
عام الفاظ میں اس کا خلاصہ یو ں کیا جاسکتا ہے کہ
•    بھارت پہلے ہی اسرائیل کی طرز پر اپنے زیر تسلط کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر چکا ہے۔
•   بھارت میں کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے اوپر کسی قسم کی تنقید کی اجازت نہیں  جس میں  بڑی تعداد میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈے بھارتی فوج کا لباس پہن کر اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
•   اس سلسلے میں 2021 میں شمالی امریکہ کے جنوبی ایشیا سے متعلق ماہرین نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے ہندوؤں کو کسی قسم کی ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے ان سے بچاؤ کا ایک ہدایت نامہ بھی مرتب کیا۔
•    ہر روز پانچ دس کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے۔
•    بین الاقوامی میڈیا کی بھارتی زیرتسلط جموں کشمیر میں کوئی رسائی ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے بھارت کو پوری دنیا کی نظروں سے بچ کر مسلم نسل کشی کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
•    بھارت کے اندر درسی کتب کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ تاریخ کو ہندوتوا کے سیاسی مقاصد کے تناظر میں از سر نو مرتب کیا جا سکے۔
پاکستان نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے پر بہت سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔عام سفارتی کوششوں کے علاوہ پاکستان نے اس مسئلے پر اقوام متحدہ میں ایک بہت مضبوط مؤقف اختیار کیا اور اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھارت کے منصوبوں اور ہندو ذہنیت کو دنیا کے سامنے طشت از بام  کیا۔ انہوں نے نہ صرف کشمیر پر بات کی بلکہ ہندوتوا کے پرچارکوں کی  بھارت کے اندر جاری سرگرمیوں پر کڑی تنقید کی۔ یہ ایک لمبے عرصے بعد ایسا ہوا تھا کہ کسی پاکستانی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلہ کو اتنی شدت سے اٹھایا ہو اور اس کا اور اس جارحانہ خارجہ پالیسی کا ایک اثر یہ ہوا کہ جلد ہی چین،ترکی اور ملائیشیا کے وزرائے اعظم نے بھی بھارت کے کشمیر کے اندر اس اقدام کی شدید مذمت کی اور خود اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق اور اس کی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر اور اس کے حل پر بحث کا آغاز ہوا۔
پاکستان آج بھی کشمیریوں کے حقوق کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے اور اس معاملے کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حل کروانے کا خواہاں ہے۔ ||


 مضمون نگارقومی اوربین الاقوامی امور پر لکھتی ہیں۔

یہ تحریر 125مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP