اداریہ

اداریہ - ضرب عضب کا ایک سال

15جون 2015 کو آپریشن ضرب عضب کا ایک سال پورا ہو جائے گا۔ 15 جون 2014 سے پہلے کے حالات کاطائرانہ جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ اس سے قبل پاکستان کے مختلف شہروں میں آئے روز بم دھماکے اور خودکش حملے ایک معمول بن چکے تھے۔ حتیٰ کہ کراچی مہران بیس اور ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عوام الناس کی روزمرہ کی زندگیاں بُری طرح سے مفلوج ہو چکی تھیں‘ ہر طرف خوف اور وحشت کے سائے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ریاست کی رٹ کمزور پڑ گئی ہے۔

بلاشبہ کسی بھی قوم و ریاست کی بقا اور سلامتی رٹ آف دی سٹیٹ کو یقینی بنانے میں مضمر ہے۔ اسی لئے پاکستانی حکومت اور فوج کی قیادت نے گزشتہ جون میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وزیرستان میں میر علی اور میران شاہ سمیت بعض علاقے دہشت گردوں کا گڑھ بن چکے تھے جو نو گو ایریا کا درجہ رکھتے تھے۔ بلاشبہ ان کی کلیرنس جان جوکھوں کا کام تھا۔ لیکن پاک فوج نے بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور سے کمزور تر کر دیا۔ متعدد شدت پسند اس آپریشن میں مارے گئے۔ ان کی کمین گاہیں اور ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ دہشت گرد اس قابل نہیں رہے کہ وہ پاکستان کے اندر ہارڈ ٹارگٹس کو نشانہ بناتے اس لئے انہوں نے اے پی ایس پشاور اور کراچی میں بس میں سوار نہتے اسماعیلیوں جیسے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر وحشت کا بازار گرم کیا۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی بدولت آج قوم کا سر فخر سے بلند ہے لیکن ضرب عضب اس کامیابی کی ایک کڑی ہے۔ ابھی ضرب عضب کے نتیجے میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے مکینوں کی اپنے اپنے علاقوں میں واپسی اور بحالی کے کام ہونے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن علاقوں میں امن عامہ کا ماحول برقرار رکھنا ہے کہ کہیں شہریوں کو پھر سے دہشت گردوں کے ظلم و استبداد کا شکار نہ ہونا پڑے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کو دیرپا اور حتمی بنانے کے لئے یہ ایک جامع منصوبہ بندی کے مطابق کام جاری ہے۔ تاہم ایک مربوط اور مؤثر رسپانس کے لئے پاک فوج کے علاوہ قوم‘ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو اپنے اپنے حصے کے کام کی انجام دہی یقینی بنانا ہو گی کہ اسی میں قوم کا بہترین مستقبل پنہاں ہے۔

یہ تحریر 452مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP