اداریہ

اداریہ - پاکستان میں دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت

سچائی کبھی چھپی نہیں رہتی۔ وقت سچائی کو سامنے لے ہی آتا ہے۔ حقائق کو چھپایا جائے تو وہ اورابھر کر سامنے آتے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت ایک عرصہ اس امر سے انکار کرتا رہا کہ سانحۂ مشرقی پاکستان میں اس کا کوئی کردار ہے اور یہ سب مکتی باہنیوں کا کیا دھرا ہے۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان میں افواج داخل کرنے کی تیاریاں ہندوستان نے مارچ 1971 ہی سے شروع کردی تھیں۔ بھارتی حکومت‘ اس کی افواج اور خفیہ ایجنسیوں نے مکتی باہنیوں کے ذریعے مشرقی پاکستان میں انتشار بپا کیا جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا موجب بنا۔بہر طوربھارت نے کبھی کھل کر اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔ لیکن بھارت کے موجودہ وزیرِاعظم نریندر مودی جس طرح سے اٹل بہاری واجپائی کا ایوارڈ ’’بنگلہ دیش لبریشن وار آنر‘‘ جو انہیں بنگلہ دیش کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے پر عطا کیا گیا وصول کرنے بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تو اس سے1971 میں بھارت کی گھناؤنی سازشوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1971 میں بھارتیوں نے بھی بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر جدوجہد کی۔ انہوں نے برملا اس کا اعتراف کیا کہ ’’بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی۔ ہماری فوج بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑی اور بنگلہ دیش بننے کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کی۔ ‘‘

بھارت کی موجودہ حکومت اور اُس کے وزراء نے پاکستان دشمنی میں تمام تر سفارتی اور اخلاقی آداب کو بلائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان مخالف بیانات کی بوچھاڑ کررکھی ہے۔ بھارت کے وزیرِ دفاع نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم پاکستان کے اندر دہشت گردوں کو پروموٹ کررہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کوئی ملک دوسرے ملک کے اندر اس طرح سے مداخلت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

بہرکیف بھارتی قیادت کے خیالات سے اُن الزامات کو حقیقت کا رنگ ملتا ہے کہ بھارت بلوچستان ‘ وزیرستان اور کراچی سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کی سالمیت کو تہہ و بالا کرنے کے درپے ہے۔ یہ الزامات آج کے نہیں بلکہ پاکستان کے ایک سابق وزیرِاعظم نے2009 ء میں شرم الشیخ میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم سے ایک ملاقات کے دوران اُنہیں بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ آج پھر بھارت پاکستان کے اندر ’’سافٹ ٹارگٹ‘‘ تلاش کرکے اُن کے ذریعے افواجِ پاکستان جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضربِ عضب آپریشن میں مصروفِ عمل ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں دینے سے بھی گریز نہیں کررہیں کو ہدفِ تنقید بناکر پاکستان کے اندرونی ماحول کو ناساز گار بنا کر قوم کو تقسیم کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔ بھارت اپنے انہی قبیح اور مکروہ عزائم کی بدولت خطے کا ایک خطرناک ملک گردانا جاتا ہے۔ بھارت کی حالیہ قیادت کے طرزِ عمل نے سرمیلا بھوس کی کتاب ڈیڈ ریکونینگ میموریز آف دی 1971 بنگلہ دیش وار اور دسمبر1971 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے آخری پاکستانی وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب دی ویسٹ آف ٹائم جو اُردو میں ’’شکستِ آرزو‘‘ کے نام سے شائع ہوئی میں درج الزامات کو سچ ثابت کردکھایا ہے۔

یہ وقت کی ضرورت ہے کہ بھارت اس حقیقت کوسمجھے کہ پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور یہ وقت دہشت گردی کو ختم کرنے کا ہے نہ کہ اُس کو ہوا دے کر کسی پڑوسی ملک کو مزید خطرات سے دوچار کرنے کا۔ بھارت کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ دہشت گردی کی آگ کو بجھانے کے بجائے اگر یونہی بھڑکایا جاتا رہا تو اُس سمیت جنوبی ایشیا کا کوئی ایک ملک بھی اس سے بچ نہیں پائے گا۔ لہٰذا اِس وقت بھارت اور دیگر سبھی ممالک خطے میں امن کے فروغ کے لئے اپنا کردرار ادا کریں تاکہ یہاں کی عوام خوشحالی اور ترقی کے ثمرات سے بہرہ ور ہوسکیں۔

یہ تحریر 717مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP