اداریہ

اداریہ- یومِ پاکستان پریڈ۔ ایک عزم‘ ایک اُمید

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نئے پریڈ وینیو میں سات سال کے بعد منعقد ہونے والی مسلح افواج کی شاندار پریڈ نے پاکستانی قوم کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے دمکتے چہروں اور روشن آنکھوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ پریڈ وینیو میں گنجائش کم ہونے کے باعث بہت سے لوگ مختلف مقامات پرکھڑے ہوکر شاہینوں کے فضائی مظاہرے دیکھتے رہے۔ یوں کہیے دہشت گردی سے متاثرہ قوم کو اُن کی افواج نے ایک اُمیدِنو دی ہے۔ بلاشبہ پریڈ کے انعقاد کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ لیکن چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے قوم کوخوشخبری دی کہ پریڈ ہو گی اور ضرور ہو گی۔ یوں 23 مارچ 2015 کی صبح نے اٹھارہ کروڑ عوام کا سرفخر سے بلند کر دیا کہ اس روز ان کی مسلح اور بہادر افواج نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور جب تک قوم کے یہ سپوت زندہ ہیں‘ دشمن کا کوئی وار کامیاب نہیں ہو سکتا۔

مسلح افواج کی پریڈ میں سینے تان کر مارچ کرتے ہوئے جوانوں‘ اﷲہُو کا ورد کرتے ہوئے کمانڈوز‘ جدیدترین میزائل سسٹم بابرکروز میزائل‘ شاہین ون اور ڈرون طیارے براق اور لیزر گائیڈڈ میزائل ’’برق‘‘ بکتربند گاڑیوں‘ پاکستان کے اپنے بنائے ہوئے ٹینکوں کے ساتھ ساتھ فضائی اور بحری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دستوں نے جہاں دشمن کے دلوں میں دھاک بٹھائی‘ وہاں قوم کو یہ پیغام بھی دیا کہ ان کی ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضرور سرخرو ہو گی کیونکہ اُس کی مسلح افواج تمام ممکنہ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار اور ضروری وسائل سے لیس ہیں۔ دشمن یقیناًاپنی سازشوں سے باز نہیں آیا کرتا لیکن بے پناہ قربانیاں دے کر یہ قوم دشمن کو باور کرا چکی ہے کہ بالآخر شکست ہی دُشمن کا مقدر ٹھہرے گی۔

یوم پاکستان پر منعقد کی جانے والی مسلح افواج کی پریڈ صرف ایک پریڈ ہی نہیں بلکہ ایک عزم اور حوصلے کا استعارہ بھی ہے جو قوم کو اتحاد‘ تنظیم اور یقین محکم کا درس دیتی ہے۔ یوم پاکستان پر منعقدہ پریڈ درحقیقت ایک قومی تہوار کا درجہ حاصل کر چکی ہے جس سے قوم اور فوج کے باہمی رشتے جو بہت انمول ہیں مزید مضبوط اور پختہ ہوتے ہیں۔ دشمن یقیناًان انمٹ رشتوں میں دراڑ ڈالنے کا خواہاں رہے گا لیکن قوم اور فوج باہمی یگانگت کے ساتھ ایسی ہر کاوش کو نیست و نابود کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کو درخشندہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گی۔ بلاشبہ باہمی اتحاد ہی میں ملک و قوم کی کامرانیوں کا راز پنہاں ہے۔

یہ تحریر 578مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP