اداریہ

اداریہ- سانحہ پشاور

وطنِ عزیز پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں جہاں افواج پاکستان کے افسر اور جوان جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں وہاں ہزاروں پاکستانی شہری بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے لئے بیس بیس دن کی جنگ لڑنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو بھی 1965 کی جنگ میں صرف سترہ دنوں میں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ افواج پاکستان اور قوم گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ان کے حوصلے آج بھی جوان ہیں۔ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے وہاں سے عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں اور دیگر شہریوں کو ٹی ڈی پیز کیمپوں میں منتقل کیا جہاں ان کی خوراک‘ صحت اور دیگر سہولیات کو یقینی بنایا اور پھر متعلقہ علاقوں میں مقیم دہشت گردوں کی سرکوبی کا آغاز کیا۔ جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کسی بھی جنگ سے پہلے جو ہدایات جاری کرتے ان میں یہ واضح بتایا جاتا کہ بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ لیکن گزشتہ ماہ پشاور کے ایک سکول کے بچوں کو جس طرح سے نشانہ بنا کر معصوموں کا خون بہایا گیا ہے تاریخ میں ایسی سفاکیت کی مثال نہیں ملتی۔ سانحہ پشاور نے صرف پاکستانی قوم کو ہی رنجیدہ نہیں کیا بلکہ پوری دنیا بشمول ممتاز قائدین‘ میڈیا‘ سوشل میڈیا اور عام آدمی بھی اس پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی قوم کے ہر ہر فرد نے نہ صرف اس کی بھرپور مذمت کی بلکہ پوری قوم ایک قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ لوگوں کی آنکھیں پرنم ضرور ہوئیں لیکن اُن کے دلوں میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی دکھائی دی۔ سانحہ پشاور کے بعد وہ لوگ بھی دہشت گردی کے عفریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو تاحال دہشت گردی کو غیروں کی جنگ قرار دے رہے تھے۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور سرکردہ رہنماﺅں کا دہشت گردی کے خلاف یکجان ہونا اس امر کی علامت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دشمنوں کو پہچان چکی ہے اور یہ تسلیم کر چکی ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گرد پاکستان اور اس کی عوام کے دشمن ہیں۔ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا پاکستان مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ بلا شبہ پاکستان اور اس کے عوام اس عفریت پر قابو پا کر ہی دم لیں گے کہ عزت سے جینے کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ قوم اسی طرح اتحاد اور یگانگت پر عمل پیرا رہی تو دہشت گردی پر پوری طرح قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی‘ انشاءاﷲ

یہ تحریر 542مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP