اداریہ

اداریہ- مستحکم پاکستان

قومیں اپنے وطن کی سلامتی اور نظریئے کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا کرتی ہیں۔ قوم میں ملک کے ساتھ جتنا زیادہ لگاؤ ہوتا ہے وہ ملک بھی اسی طرح بلندیوں کو چھوتا چلا جاتا ہے اور ایسے ممالک کا شمار دنیا کی بہترین اقوام کی صفوں میں کیا جاتا ہے۔ الحمدﷲ وطنِ عزیز پاکستان بھی دنیا کے اُن ممالک میں سے ایک ہے جس کے قیام کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف اس وقت تن، من، دھن وار دیا بلکہ آج بھی اس کی تکمیل اور حفاظت کی خاطر اٹھارہ کروڑ عوام اور افواج پاکستان دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز کے سامنے سینے تانے کھڑی ہیں۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے تقریباً ڈیڑھ برس قبل شروع کیا جانے والا آپریشن ضربِ عضب اب کامیابی کے آخری مراحل میں داخل چکا ہے۔


الغرض افواجِ پاکستان کے لئے ملکی سلامتی اور مضبوطی ہمیشہ سے اوّلین ترجیح رہی ہے۔ یوں آپریشن راہ نجات ہو یا آپریشن راہِ راست، افواجِ پاکستان نے جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ملک کو انتشار سے چھٹکارا دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں صوبہ پنجاب میں اندرونی سطح پر نقص امن کا سبب بننے والے گروہوں کے خلاف ضربِ آہن لانچ کیا گیا اور ایک ’’نوگو ایریا‘‘ کو ریاستی عملداری میں لانے کے لئے فوج نے اپنا کردار ادا کیا۔ اب تمام اداروں کو اسی طرح سے اپنے اپنے حصے کا کام انتہائی نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ انجام دینا ہے کہ تمام اداروں کی اجتماعی کارکردگی کی بدولت ہی کوئی ملک اور قوم ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے۔ یوں ملک کے تمام صیغوں اور تمام طبقوں کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ قیامِ پاکستان کے تیسرے روز عید تھی۔ اس موقع پر بانئ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح نے پاکستانی قوم کے نام اپنے پیغام میں فرمایا۔ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کر لیا ہے لیکن یہ تو محض آغاز ہے۔ اب بڑی بڑی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر آن پڑی ہیں اور جتنی بڑی ذمہ داریاں اتنی ہی عظیم جدوجہد کا جذبہ اور اتنا ہی بڑا ارادہ ہم میں پیدا ہونا چاہئے۔ پاکستان بننے کے لئے جو قربانیاں دی گئیں، جو کوششیں کی گئیں، پاکستان کی تشکیل و تعمیر کے لئے ہمیں کم از کم اتنی ہی قربانیوں اور کوششوں کی ضرورت پڑے گی۔ حقیقی معنوں میں ٹھوس کام کا وقت آ پہنچا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مسلمانوں کی ذہانت و فطانت اِس بار عظیم کو آسانی سے برداشت کرے گی اور بظاہر پیچیدہ اور دشوارگزار راستوں کی تمام مشکلات کو آسانی سے طے کرے گی۔‘‘


گویا بانئ پاکستان اس امر سے آگاہ تھے کہ اُس نوزائیدہ مملکت کو آنے والے وقت میں چیلنجز کا سامنا ہو گا جن کا اس قوم کو مردانہ وار مقابلہ کرنا ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قوم اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہی۔ اس کی افواج کا شمار جدید ترین ہتھیاروں سے لیس پیشہ ور افواج میں ہوتا ہے۔ آج پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے تزویراتی نیوکلیئر اثاثہ جات کی حفاظت بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنا رہے ہیں۔ یوں پاکستان خطے کے ایک باوقار ملک کے طور پر شناخت رکھتا ہے۔ قوم اپنے ملک سے محبت رکھتی ہے اور افواجِ پاکستان دفاعِ وطن کے فریضے کو احسن انداز میں نبھانے کے ہنر سے آشنا ہیں، جو اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مستقبل کا پاکستان ایک توانا اور مضبوط پاکستان ہے۔

یہ تحریر 497مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP