شعر و ادب

مسلمان کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مسلمان کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروّت حسنِ عالمگیر ہے مردانِ غازی کا
شکایت ہے مجھے یارب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا!
بہت مدّت کے نخچیروں کا اندازِ نگہ بدلا
کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا!
قلندر جز دو حرف لاَ الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہہِ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا!
حدیثِ بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو
نہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا!
کہاں سے تو نے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا!
(علامہ اقبال۔ بالِ جبریل)    
 

یہ تحریر 289مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP