متفرقات

آپریشن رد الفساد۔کامیابی کے پانچ روشن سال

 پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کا ساتھ دیا ہے بلکہ مشکل سے نکالنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہماری مسلح افواج نے لازوال قربانیوں کی ایک عظیم داستان رقم کی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں پر دشمن کے حملے پسپا کرنے ہوںیا پھر ملک کو محفوظ بنانے کے لیے سرحدوں پر باڑ لگانی ہو،پولیوکے قطرے پلانے والی ٹیموں کی حفاظت کرنی ہویا کلبھوشن کا نیٹ ورک توڑنا ہو،پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ شاندار کردار ادا کیا ہے۔آپریشن ردالفساد کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں  اوران کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشنزکئے گئے، قوم نے سکیورٹی فورسز کیساتھ مل کر پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے۔ ضم شدہ قبائلی علاقوں سے گوادر تک ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا۔
آپریشن ردالفساد کے پانچ سال مکمل ہونے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے آپریشن رد الفساد کے پانچ سال مکمل ہونے پر ٹوئٹر پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام شیئر کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کے 5 سال مکمل ہو گئے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے ثمرات کو مستحکم کرنا ہے۔ ہم شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔


 مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کیا جا سکے۔ آپریشن رد الفساد کے بعد سے ہی ملک کے کئی علاقوں میں امن دیکھنے میں آیا جبکہ عوام نے بھی دہشتگردوں کے خلاف جاری اس آپریشن کو خوب سراہا اور ملک کی مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا۔



آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن کا مقصد ملک بھر میں دہشت گردوں کی باقیات کو ختم کرنا ہے۔آپریشن ردالفساد سے پاکستانی عوام کو تحفظ ملا۔ پاکستانی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہمارا مقصد ہے۔
آرمی چیف نے کہاکہ ملک میں غیریقینی کی صورتحال امن کی طرف منتقل ہورہی ہے۔ امن کو برقرار رکھنے کے لیے دہشتگردوں کیخلاف آپریشنز جاری ہیں۔ آپریشن ردالفساد کی کامیابیاں شہدا کے خون اور عوام کے جذبے سے ممکن ہوئیں۔ ہم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں اور اپنی عظیم قوم کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیںـ
پانچ سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
آپریشن ردالفساد کو 5 سال مکمل ہونے پر، پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آپریشن رد الفساد کو آج پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد ملک سے دہشتگردی کا قلع قمع کرنا اورپاکستان کے لوگوں کی حفاظت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک غیر یقینی صورتحال سے امن کی طرف جا رہا ہے اور آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔
واضح رہے ملک بھر میں پاک فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد جاری کر رکھا ہے۔ آپریشن ردالفساد کے تحت سکیورٹی فورسز نے اب تک کئی کامیابیاں حاصل کیں اور کئی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ 22 فروری 2017ء کو پاک فوج نے پاکستان میں ایک نئے آپریشن ''آپریشن رد الفساد'' کا اعلان کیا جو ملک بھر میں شروع کیا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد بچے کھچے دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنے اور چھپے دہشت گردوں کو تلاش کرنے پر مشتمل ہے تاکہ اب تک کی جانے والی کارروائیوں کے فوائد کو پختہ کیا جائے اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
 مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کیا جا سکے۔ آپریشن رد الفساد کے بعد سے ہی ملک کے کئی علاقوں میں امن دیکھنے میں آیا جبکہ عوام نے بھی دہشتگردوں کے خلاف جاری اس آپریشن کو خوب سراہا اور ملک کی مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا۔
آپریشن ردالفساد کا پس منظر۔۔۔۔۔
پاکستان میں شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک بھر میں عمومی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بدستور حملوں کے زد میں رہے۔فوج کے موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد سے اس آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ کیونکہ  سال 2017 کے ابتدائی دو ماہ میں ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں اچانک تیزی آئی۔ لاہور میں چیئرنگ کراس پر ہونے والا واقعہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں فروری 2017 میں فوج کی طرف سے آپریشن ردالفساد کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
اس آپریشن کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں اب تک بیشتر کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کے تحت کی گئی ہیں اور جس کا دائرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی، بلوچستان اور پنجاب تک پھیلا دیا گیا ہے۔
ردالفساد ایک وسیع المقاصد پراجیکٹ
پاک فوج کے ذرائع  کا کہنا ہے کہ 'رد الفساد' کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا اور سرحد کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔دفاعی امور کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ردالفساد کے تحت ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں کامیاب رہی ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی کے منبع  اور جڑ کا تعلق ہے اس پر بھی خاص توجہ دی گئی جس سے اس آپریشن کو مکمل طور پر کامیاب بنانے میں مدد ملی۔بعض تجزیہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ ''جب تک ہم افغانستان کے ساتھ ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گردی کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا۔''بلا شبہ افغانستان کے ساتھ آج کل مذاکرات کا عمل مثبت پیش رفت کی طرف بڑھ رہا لیکن اسے مزید مربوط بنانا ہوگا اور دونوں ممالک کو اپنے اپنے موقف سے ہٹ کر قابل عمل اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ اس کے علاوہ اس معاملے کا اور کوئی حل بظاہر نظر نہیں آتا۔پاکستان میں آپریشن ردالفساد کے بعد عوامی مقامات پر اگرچہ بڑے بڑے دھماکوں اور واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن ہدف بنا کر حملوں کے واقعات کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ اس ضمن میں پشاور میں دو بڑے واقعات رونما ہوئیجن میں پولیس کے اے آئی جی کی ہلاکت کے علاوہ زرعی تربیتی ادارے پر بڑا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکار  مسلسل حملوں کے زد میں رہے۔تاہم پاک فوج کی بروقت کاروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کی سرکوبی کی گئی اور ان میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی گئی۔
22 فروری 2017 کو شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد کے تحت دہشتگرد تنظیموں کے مکمل خاتمے کے لیے کثیر الجہتی اقدامات کیے گئے۔ زمینی آپریشنز کے ذریعے نہ صرف دہشتگردوں کے زیر اثر علاقوں کو کلیئر کرایا گیا بلکہ وہاں سماجی اور معاشی بہتری کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے۔
سکیورٹی فورسز کی تربیت
آپریشن ردالفساد کے دوران سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے اہلکاروں کی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔
2017 سے اب تک ایف سی کے 67 نئے ونگز قائم کیے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں چالیس ہزار سے زائد پولیس جوانوں اور بائیس ہزار کے قریب لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو تربیت دی۔ انتہا پسندی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔
بارڈر مینجمنٹ۔
اسی طرح بارڈر مینجمنٹ کو بھی یقینی بنایا گیا جس کے تحت پاک، افغان سرحد پر فینسنگ کا کام 95 فیصد جبکہ پاک، ایران بارڈر پر 78 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ 679 قلعے، چیک پوسٹس اور بارڈر ٹرمینلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔
قبائلی اضلاع سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے بعد 74 مربع کلومیٹر علاقے سے 60 ہزار سے زائد باروی سرنگیں ناکارہ بنا کر اسے کلیئر کیا گیا۔ آپریشن دُواتوئی، شمالی وزیرستان اور خیبر آپریشن کے تحت پاک افغان بارڈر پر مکمل ریاستی رِٹ بحال کی گئی اور ٹی ڈی پیز کی باعزت اور بحفاظت گھروں کو واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔
مجرموں کو عدالتوں سے سزا 
آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملٹری کورٹس کے تحت دہشتگردوں کے مقدمات کی تیزی سے سماعت ہوئی اور 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں اور سرکردہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس دوران 1200 سے زائد شدت پسندوں کو قومی دھارے میں واپس بھی لایا گیا۔
سی پیک کی حفاظت
آپریشن رد الفساد کا اہم جزو سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی تھی جس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیزکی طرف سے پاکستان مخالف سازشوں کو بے نقاب کیا گیا۔ آپریشن رد الفساد سے شہر قائد کا امن بھی لوٹ آیا اور جرائم کی عالمی درجہ بندی میں کراچیکی رینکنگ بھی بہتر ہوئی ہے۔
مردم شماری
سکیورٹی اداروں نے چھٹی مردم شماری کے ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کے لیے بھی ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی۔ پاک فوج نے ملک میں بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی کے ساتھ پی ایس ایل کا انعقاد بھی یقینی بنایا جس میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے فول پروف سکیورٹی کو سراہا۔ سکیورٹی فورسز نے شمالی علاقہ جات کیساتھ ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
پانچ سال قبل جب آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا تھا تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے، آئیں مل کر اپنے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنائیں۔ قوم نے سپہ سالار کی کال پر لبیک کہا اور آج الحمدﷲپاکستان ایک محفوظ اور باوقار ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ ||



 

یہ تحریر 190مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP