متفرقات

مولانا روم ؔ کی شاعری میں تشبیہہ اور تمثیل

نام محمد، لقب جلال الدین،عرف مولائے رومؔ ،حسین بلغی پردادا اور والد کا لقب بہاء الدین تھا۔ جواہرمضئیہ میں درج ہے کہ ان کا سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ملتا ہے۔مولانا روم بلخ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی ۔ابن خلکان نے لکھا ہے کہ وہ فقیہہ ،کاتب،مفتی،محدث،حافظ اور ادیب تھے۔


مولانا رومؔ نے شمس تبریز کے ہاتھ بیعت کی۔ شمس تبریز کی جدائی کے بعد باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔انہوں نے اپنے معتقد خاص حسام الدین چلبی کے کہنے پر مثنوی معنوی لکھنا شروع کی۔ مولانا کی تصانیف میں فیہ ما فیہ ( خطوط کا مجموعہ)،دیوان ( پچاس ہزار اشعار، غزلوں کا مجموعہ)، مثنوی میں کشف الظنون کے مطابق کل اشعار کی تعداد 26660 ہے۔


مولانا رومؔ نے شاعری میں عالمِ مادی اور عالمِ روحی کا حسین امتزاج پیش کیا۔درا صل انسان عالمِ نفس اور عالمِ آفاق میں زندگی بسر کرتا ہے۔عالمِ نفس میں کیفیات ہوتی ہیں اور کیفیت میں مکانیت نہیں ہوتی۔عالمِ آفاق میں کمیتیں ہوتی ہیں ۔اسی لئے عالمِ نفس کو بیان کرنے کے لئے مکانیت کی اصطلاح کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔مولانا رومؔ نے مکانیت کی اصطلاح میں جدت کو ترجیح دی اور اسے پرتاثیر بنانے کے لئے تشبیہہہ اور مثالوں کا استعمال کیا۔جیسا کے اس مصرعے میں ہے، یہاں محبت کو آگ سے

تشبیہہہ دی ہے ۔ 
؂آتشِ عشق است کاندر نے فتاد
مولانا رومؔ کا تصوف نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہے۔ وہ دماغ کے بجائے دل کو زیادہ متاثر کرتا ہے ۔ان کی تصانیف میں سب سے زیادہ شہرت مثنوی معنوی نے پائی ،مثنوی معنوی کے متعلق کہا جاتا ہے


مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن در زبانِ پہلوی
یعنی مولانا روم ؔ کی مثنوی، فارسی زبان میں قرآن مجید ہے۔
مولانا رومؔ کے مطابق، روحِ انسانی جسم میں داخل ہونے سے قبل روحِ مطلق کا حصہ تھی۔ انسانی پیکر میں آ کر یہ روح جسمانی خوبیوں میں گھِر کر روحانی صفات کھو دیتی ہے او ر ہر وقت اپنے اصل کی جانب لوٹنے کو بے تاب رہتی ہے۔ مولانا کا اہم ترین موضوع عشق حقیقی ہے، ان کے نزدیک انسان،عشق و روحانیت کے مراحل طے کرتے ہوئے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ ان کے ہاں فلسفہ ء وحدت الوجود اور وحدت الشہود دونوں کا تذکرہ موجود ہے وہ رہبانیت کے قائل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں زندگی گزارنے کے لئے دل میں عشق کا الاؤ جلانا ضروری ہے ورنہ زندگی بیکار ہے۔ وہ کہتے ہیں ،بانسری میں بظاہر ہوا گردش کرتی ہے لیکن یہ ہوا نہیں بلکہ عشق کی آگ ہے۔


آتش است بانگ ناے و نیست آباد
ہرکہ این آتش ندارد نیست باد


جس روح کے اندر عشق کی آگ کی گرمی نہیں اُس کی ہستی سے نیستی بہتر ہے۔ وہ کہتے ہیں روح کی نےَ سے جو لے نکلتی ہے وہ ہی نالۂ فراق ہے۔روحِ انسانی اپنے مرکز کی طرف لوٹنا چاہتی ہے ۔جب تک وصال نہیں ہوتا تب تک یہ آہ وفغاں کرتی رہے گی۔
جان رِپکا کے مطابق؛ مثنوئ مولانا رومؔ دراصل تصوف کی بائبل ہے۔


وحدت الوجود تصوف کی بنیاد ہے۔ لیکن مولانا رومؔ نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود‘ دونوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر دیا ہے۔ بانسری کی آہ و فغاں اور مختلف سازوں کا کراہنا در اصل انسانی دُکھ کی آواز ہے ،آہ و بکا ہے ، ایسا درد ہے جو محبوب تک رسائی حاصل کرنے کے لئے بیتاب ہے۔


بشنواز نے چون حکایت می کند
وزجدائی ہا شکایت می کند
کزنیستان تا مرا ببریدہ اند
از نفیرم مردو زن نالیدہ اند
ہر کسے گو دور مانداز اصل خویش
باز جوید روزگار وصل خویش


The sigh of flute, is the sigh of soul 
Both are meant for each other's goal 
If the soul distant from the Creator
It mutters and moans to become together
It weeps and sobs as separation is fatal
Rejoining is elixir for its survival
As distant and rejoining cannot be equal 
Though the feeling of both is adorable

انہوں نے معاشرتی اصلاح کے لئے بھی بہت سے اخلاقی نسخے تحریر کئے۔ مثنوی کا موضوع خدا کے وجود ، کائنات، آخرت، حکمت، فلسفہ، اخلاقیات، فقہ اور شریعت پر مبنی ہے۔ انہوں نے علاقائی زبان استعمال کی اور زیادہ تر حکایات کو ترجیح دی۔ انہوں نے مذہبی اور عقلی مسائل کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا۔ مشکل اور پیچیدہ موضوعات کو علامت کے ذریعے پیش کر کے روزمرہ کی تشبیہہات اور تما ثیل سے کام لے کر خوب نبھایا۔تصوف کے باریک نکتے سمجھانے کے لئے قصے اور کہانیاں بھی شاعری میں بیان کی ہیں۔ تشبیہہہ، استعارہ، علامت اور تمثیل کے پہلوؤں کو بیان کرنا نہایت مشکل اور پیچیدہ ہوتا ہے لیکن مولانارومؔ نے اسے عام فہم بنا کر پیش کیا۔ 
نَے کے دو منہ کو کچھ اسطرح تشبیہہہ دی کہ اس کا ایک منہ لب نَے نواز کے منہ میں ہوتا ہے اور دوسرے منہ سے ہوا نکلتی ہے۔


دو دہان داریم گویا ہمچونے
یک دہان پنہاں نست در لب ہائے دے
یک دہان نالان شدہ سوئے شما
ہائے و ہوئے در فگندہ در سما
لیک داند ہر کہ او را منظر است
کاین فغان این سرے ہمزان سراست
ہائے و ہوئے روح از ہیہائے اوست
بالب دمساز خودگر جفتمے
ہمچو نے من گفتنیہا گفتمے


Two are the ends of soul, flute like
One tied to the Creator, other to the life
Melody of flute is a sigh of heart 
Whispering the sorrow of being apart 
Far away from the Creator, soul is waiting
Heart in trance, is also bewailing
Soul immerses for the sake of eternity
Creator is the eventual reality


مولانا روؔ م کہتے ہیں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق اس طرح ہے جیسے سورج اور سایہ۔گو سایہ کمتر ہے لیکن سورج اُس ذات کے ہونے کی دلیل ہے۔ اگر سورج نہیں ہوگا تو سایہ نہیں ہوگا۔صبح کا ہونا بھی اِس بات کی دلیل ہے کہ سورج نکل آیا ہے۔


آفتاب آمد دلیل آفتاب
گر دلیلت باید از وے رومتاب
ازوے از سایہ نشانے می دہد
شمس ہر دم نور جانے می دہد
سایہ خواب آور ترا ہمچوں سمر
چوں براید شمس انشق القمر
نہ شبنم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
ہمہ آفتاب بینم ہمہ آفتاب گویم
خود غریبے در جہان چون شمس نیست
شمس جان باقیست کو را امس نیست
شمس در خارج اگرچہ نیست فرد
مثلِ او ہم می تو ان تصویر کرد
لیک آن شمسے کہ مستش اثیر
بنورش در ذہن و در خارج نظیر
در تصور ذات او را گنج کو
تا در آ ید در تصور مثل او


Shadow is fraction, whole is the sun
Worthless is the shadow, without the luminous sun
Presence of sunshine is the notion of sun
No pattern exists without the subsistence of sun
Life begins with the light of sun
Sleep is the shadow and the shadow is none 133
Journey begins as the inner self awakens
Today and tomorrow are sun's depictions 
Moonlit dims, in the sparkling sun
Moon is vain, in the dazzling sun
Vital is the sun, Strength is the sun 
Power is the sun, Worth is the sun
But,
Sun depicts the presence of the glory of the Creator 
Sun is the shadow in the kingdom of the Creator 
Shadow is fraction, whole is the sun
The whole is real, fraction is none133


مولانا رومؔ کہتے ہیں ،آنکھوں کی بصارت روح کی بدولت ہے،لیکن آنکھیں روح کو نہیں دیکھ سکتیں ۔
تن زجان وجان زتن مستور نیست
لیک کس را دید جاں دستور نیست


ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ،روح گھوڑے کی مانند ہے اور اس پر سوار انسان سمجھتا ہے کی اس نے روح کو گم کردیا ہے حالانکہ وہ اس پر سوار ہے۔مولانا رومؔ کہتے ہیں انسان جان اور روح کا مرکب ہے۔لیکن اس کے حسِ مادی کے لب خشک ہیں۔انسان روح کو محسوس نہیں کر سکتا کیونکہ حواس روح کو نہ تو محسوس کر سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی چھو سکتے ہیں۔دنیا میں ہر چیز کی ضد موجود ہے اور یہی ضد پہچان کا سبب بنتی ہے یعنی اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کا احساس کیسے ہوتا۔ رنج نہ ہوتا تو خوشی کاادراک بھی نہ ہوتا۔چونکہ خدا کی کوئی ضد نہیں اس لئے اس کا ادراک بھی ناممکن ہے۔


Eyes are useless without vision
Vision is impossible without the soul 
Like without the horse, rider cannot ride
Ocean's depth is not known without tide
Riding on the horse while ridding fastly
Thinking may be losing it for lastly
Like vessel filled with water
But top remains drier 
Senses cannot sense the presence of soul
Senses cannot sense the Creator as a whole
If there is no dark there is no light at all
If there is no sorrow there is no joy at all
No antonyms exist for the Creator 
No senses can subsist the Creator


مولانا رومؔ کہتے ہیں انسان دانائی اور فہم سے کام لے تو دل کے بھید تک پہنچ سکتا ہے۔ جب کسی کے پا ؤں میں کانٹا چبھ جاتا ہے تو وہ اپنا پاؤں گھٹنے پر رکھ لیتا ہے اور کانٹے کا سرا سوئی کی نوک سے تلاش کرنے لگتا ہے۔اگر سرا نہیں ملتا تو اپنی تھوک لگا کر اسے نمایاں کرتا ہے، جب پاؤں سے کانٹا نکالنا اتنا دشوار ہے تو پھر دل کاکانٹا انسان کا کیا حال کرتا ہوگا۔دل کے کانٹے کو اگر ہر کوئی دیکھ سکتا تو لوگ اپنے غموں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی گدھے کی دم کے نیچے کانٹا رکھ دے اور گدھا درد اور سوزش سے دولتیاں مارنا شروع کر دے اور خود کو کئی جگہ سے زخمی کر لے ،دولتی سے کانٹا نہیں نکل سکتا۔ اس کے لئے دانائی کی ضرورت ہوتی ہے، ڈوب جانے کی ضرورت ہوتی ہے، تصوف کا بھید تب ہی کھلتا ہے جب انسان اپنے دل میں جھانکتا ہے۔


چوں کسے را خار در پایش خلد
پائے خود را بر سر ذانو نہد
از سرِ سوزن ہمی جوید سرش 
در نیا بدمی کند بالب ترش
خار در پا شد چنیں دشوار یاب
خار در دلِ چوں بود گوئی جواب
خارِ دل را گر بدیدے ہر خسے
کے غمان را دست بودے بر کسے
کس بزیر دمِ خَر خارے نہد
خر نداند دفع آں برمی جہد
خَر ز بہرِ دفعِ خار از سوز و درد
جفتہ می انداخت صد جا زخم کرد


مولانا رومؔ نے قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لئے جس طرح تماثیل کو استعمال کیا اس کی مثال دنیا کے کسی ادب میں نہیں ملتی۔انہوں نے رازِعشق و درد سمجھنے اور سمجھانے کے لئے دل اور دماغ دونوں سے یکساں کام لیا اور اپنے کلام کو آسان بنا دیا۔ وہ تمام انسانی مسائل اور ان کا حل صرف اور صرف اپنے خالق کے قرب میں تلاش کرتے ہیں۔ اُن کا ایمان ہے کہ ’ نیکوں کا ورثہ میٹھا پانی ہوتا ہے جو اَوْرَثْنَا الْکِتَابْ (قرآنِ حکیم ) ہے۔‘


نیکواں را ہست میراث از خوشاب
آنچہ میراث ست اَورَثنا الکتاب


مضمون نگار معروف صحافی اور شاعرہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 230مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP