اداریہ

اداریہ-خطے کا دیرپا امن

جنوبی ایشیابھی دنیا کے اُن خطوں میں شامل ہے جہاں مختلف تنازعات کی بنا ء پر امن تباہ ہو کر رہ گیاہے۔ اس خطے کا سب سے دیرینہ مسئلہ،مسئلہ کشمیر  ہے جہاں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ کشمیری نسل در نسل  بھارت کے تسلط میں چلے آرہے ہیں لیکن کسی ایک لمحے کے لئے بھی کشمیریوں نے خود کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھا اور وہ ہمیشہ اپنی آزادی کے لئے کوشاں رہے ہیں ۔ ١٩٤٨ میں بھارت کے اُس وقت کے وزیرِاعظم جواہر لال نہرو خود اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ لے کر گئے اور اقوامِ متحدہ نے کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے کی قراردادیں پاس کیں لیکن خود بھارت ہی اب تک نہ صرف پس و پیش سے کام لے رہا ہے بلکہ نہتے کشمیریوں کو گولیوں اور پیلٹ گنوں سے چھلنی کرکے اُنہیں زیر کرنے میں کوشاں ہے جس میں تاحال اُسے ناکامی کا سامنا ہے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا کہ مسئلہ کشمیر ہی کی بناء پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں اورتاحال دونوںممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
اگر یوں کہا جائے کہ جنوبی ایشیائی خطے میں امن کی پامالی کی بڑی وجہ ہندوستان ہی ہے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ بھارت ہی ہے جس نے اس خطے میں دُنیا کا بلند ترین اور سردترین محاذِ جنگ کھول رکھا ہے۔ وہ بھارت ہی تھا جس نے١٩٨٤ میں سیاچن میں فوجیں داخل کرکے خطے کے امن کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کی مشرقی سرحد پر واقع یہ پڑوسی ملک خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کے اندر تخریبی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔ کلبھوشن یادیو کی مثال اُن میں سے ایک ہے جو ابھی بھی پاکستان کی حراست میں ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر برادر ملک افغانستان ہے جو ایک عرصے سے عدمِ استحکام کا شکار چلا آرہا ہے۔ ١٩٧٩ میں وہاں روس نے اپنی افواج داخل کیں تو٢٠٠١ میں نائن الیون کو جواز بنا کر امریکہ نے اپنی اتحادی افواج کو افغانستان لابٹھایا۔یوں گزشتہ سترہ برس سے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے جس کا زیادہ نقصان پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان ہی کو ہوا ہے اور ان ممالک کودیگر ممالک کی نسبت زیادہ جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اب چونکہ امریکہ اپنی افواج افغانستان سے مکمل طور پر نکالنا چاہتا ہے تو اس سلسلے میں ریاستِ پاکستان نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔
افغانستان کے حالات خراب کرنے میں بھارت کادہشت گردانہ کردار اس حوالے سے بھی سامنے آیا کہ جب امریکی اور اتحادی افواج کی آڑ میں اسے افغانستان کے اندر رسائی مل گئی  تو اُس کو ایک سنہری موقع جانتے ہوئے وہاں دہشت گردوں سے روابط بڑھائے اور اُنہیں پاکستان کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کیا۔ یوں خطے کا امن پامال کرنے کے لئے افغانستان کی زمین استعمال کی گئی۔ پاکستان کے خلاف بارڈر پار سے حملوں میں گاہے بگاہے  شدت آتی رہی جن کا یقیناًپاکستان مؤثر جواب دیتا رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار بہرحال دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی تمام اقوام سے بہتر رہا ہے کہ اس نے نہ صرف اپنے ملک کے اندر سے دہشت گردی کا کافی حد تک خاتمہ کردیا ہے بلکہ خطے کے دیرپا امن کے لئے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ افغانستان میں مستقل امن کے قیام کے لئے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے جو یقینا ایک باعثِ ستائش امر ہے۔ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص مشرقی اور مغربی سرحدوں کی جانب سے پڑوسی ممالک کو بھی اس حوالے سے پاکستان کی تقلید کرنی چاہئے اور امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ جنوبی ایشیا ئی خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
 

یہ تحریر 840مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP