قومی و بین الاقوامی ایشوز

یکجہتی میں سالمیت

وہ جس نے عصرِ حاضر کو نیا اک راز سمجھایا

''خودی'' کو جس نے آ کر عظمتِ آدم ہے ٹھہرایا

وہ جس نے عہدِ ماضی کا سُنہرا دَور دُہرایا

جو سیکھا خُود سبق اُس نے، وہی اوروں کو سکھلایا

الاپے جس نے آ کر گیت دُنیا میں محبت کے

اخوّت کے، شرافت کے، عُلُوِّ آدمیت کے!

کِیا اہلِ وطن کو، جس نے، آزادی کا متوالا

دلوں سے اُن کے، جس نے، خوف کا سایہ مِٹا ڈالا

پڑھایا عزم و ہمت کا سبق، کُچھ کر گُزرنے کا

کہا اُٹھو! بدل ڈالو! سلیقہ جینے، مرنے کا

ڈرومت ظالموں سے، اہلِ ثروت سے، وڈیروں سے

نہ اُن کے ساتھیوں سے، ہاں! نہ اُن کے چانٹوں چیلوں سے

اٹھو! اے میری مِلّت کے جوانو! اے مسلمانو!

کہے یُوں حضراتِ اقبال ، اے لوگو مری مانو!

''سبق پھر پڑھ صداقت کا، امانت کا، عدالت کا

لیا جائے گا تُجھ سے کام دُنیا کی امامت کا''

محمد اصغر پرے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان اپنے وطن اور اپنی مٹی سے پہچانا جاتا ہے۔ بے وطن نہ کوئی شناخت رکھتا ہے نہ ہی کوئی اس کا بوجھ اٹھاتا ہے۔یہ اللہ کا ہم پر احسان نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنا گھر، اپنا آزاد وطن میسر ہے ۔ہم اس کی آزاد فضا میں بے خوف و خطر سانس لیتے ہیں۔ اس کے گھنے جنگلوں کے نظارے کرتے ہیں۔اونچے پہاڑوں کی رفعتوں سے حظ اٹھاتے ہیں، وسیع وعریض صحرائوں کے کھلے بازوئوں میں کھیلتے ہیں۔ اگر ہم خدانخواستہ غلام ہوتے تو کسی کے سامنے آنکھ اٹھانا تو دور سانس لینا بھی دشوار ہوتا۔ ایک لمحے کے لئے یہ سوچنا بھی خوفناک حد تک دشوار ہے کہ انگریزوں کے کھچائو اور ہندوئوں کے دبائو میں رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا۔ یہ ہمارے قائد اور اکابرینِ ملت کا احسان ہے کہ ہم آج اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہمارا ہر باشندہ پاکستانی کہلانے پر فخر محسوس نہ کرتا۔ ہم کو پاکستانی ہونے پر نازاںہونا چاہئے نہ کہ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی ہونے پر۔ ہمارا رہن سہن ، ہمارا آئین اور ہمارا  قرآن کریم ایک ہے۔ ہم کسی بیرونی ملک میں قیام پذیر ہوں تو ہمیں پاکستانی جانا جاتا ہے، سندھی، بلوچی، پختون یا پنجابی نہیں۔ ہمیں اپنے دیس کو، اپنی ماں کو ادب و پیار دینا چاہئے کہ وطن کے درودیوار ہمارے لئے مقدس ہیں۔ ہم پاکستان کے باشندے ہیں، ہمیں یہیں سے رزق ملتا ہے اور یہی ہمارا سائبان ہے۔اس کے باوجود نہ ہم اس سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں نہ ہی اس کی خدمت کو شعار بنانا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حب الوطنی کا دعویٰ سبھی کرتے ہیں اس کے برعکس ہر ملک کے عوام اپنی اپنی قوم کے لئے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں مگر ہم  ہیں کہ کرپشن میں عروج کو چھو رہے ہیں۔ بیرونی خطرات کا علم رکھتے ہوئے بھی ایسے فتنوں اور فسادات کو دعوت دے رہے ہیں کہ جو ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ دنیاکی قیادت کا فریضہ سنبھالنے والی مسلم قوم صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی غلام ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان، جو ہماری پہچان اور عزت کا نشان ہے،کے بارے میں عمومی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ نہ اس کی معیشت ہے نہ معاشرت،بلکہ اسے دہشت گرد ملک قراردیاجارہا ہے۔

 

16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور میں آرمی کے ایک تعلیمی ادارے پر جو حملہ کیا گیا اس میں کس کا خون بہایا گیا؟ جو اپنے آپ کو طالبان کہتے ہیں کیا وہ مسلمان ہونے کے دعوے دار نہیں تھے؟ مگر ان کو کسی ایک بچے کی آہ و بکا سنائی نہ دی اور 135 معماروں کو موت کی نیند سلا دیاگیا۔

 

موجودہ حالات میں ملک کو بے پناہ خطرات کا سامنا ہے کبھی کوئٹہ میں دہشت گردی کی صورت میں ہزارہ برادری کی نسل کشی یا دوسری اٹھنے والی تحریکیں۔ ہم اپنے آپ کو، اپنے ملک کو کس جانب لے کر جارہے ہیں ہر کوئی صرف گروہ کی صورت اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اپنے تحفظات کی خاطرتحریک چلا رہا ہے اُسے ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد عزیز ہے کیا اس طرح ہم بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کو بدنام نہیں کر رہے؟ کیا ہم ان وجوہات کا خاتمہ نہیں کر سکتے جن کی وجہ سے ہمارا ملکی وقار مجروح ہورہا ہے۔ جن کی وجہ سے ہم لسانی و صوبائی تعصبات، برادری ازم اور فرقہ وارانہ جذبات میں اندھے ہو گئے ہیں۔ آخر یہ کس کو گوارا ہے ؟ کیا ہم وہ تمام حادثات و واقعات بھول چکے ہیں جو ہمارے آباء و اجداد نے 1947 میں پاکستان بنانے کی خاطر برداشت کئے تھے یا تعصبات کی آگ میں اندھے ہو گئے ہیں کہ جس کا شکار ہو کر پہلے مشرقی پاکستان کو کھونا پڑا۔ کیا ہم اب کسی اور حادثے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟۔ ہرگز نہیں، کسی صورت نہیں۔ ہم اپنے ملک کو شام، عراق یا لیبیا نہیں بننے دیں گے۔ ہم پاکستان کی سالمیت اور قوم کی یکجہتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اس کے لئے جو بھی قربانی دینا پڑی، دیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں پہلے ہی بہت قربانیاں دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا ہے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں، شہریوں سمیت ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس جنگ میں اپنے خون کا نذرانہ دے کر شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ہے ،ہم ان شہداء کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اِن شاء اﷲ !


 [email protected]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

یہ تحریر 318مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP