قومی و بین الاقوامی ایشوز

نیاسال نئے چیلنجزاورنیاعزم  

نیاسال بہت سے مواقع اور چیلنجز لے کرآتاہے۔ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے اورانھیں ٹھیک کرنے کاایک موقع بھی ہوتا ہے۔یہ 365 صفحات پرمشتمل ایک کتاب ہے،جس کاایک ایک صفحہ یعنی ہر دن بے حد اہم ہے۔ہم اگردرست منصوبہ بندی کرکے اس پرعمل کریں تو صرف ایک سال ہماری زندگی بدل سکتاہے۔ہم اپنی خواہشوں اورخوابوں کوپورا کرسکتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ دنیابھرمیں نئے سال کااستقبال بڑے جوش وخروش سے کیاجاتاہے۔ زندہ قومیں اورمثبت سوچ رکھنے والے انسان نئے سال کوایک نئے موقع کے طورپردیکھتے ہیں۔اس سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہیں۔دوسری طرف کامیاب لوگ اور قومیں ایک ایک منٹ کاحساب رکھتے ہیں،کوئی لمحہ ضائع نہیں ہونے دیتے۔تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں بالکل احساس نہیں ہوتاکہ ان کاوقت کتناقیمتی ہے ،وہ کروڑوں ،اربوں روپے خرچ کرکے بھی یہ قیمتی وقت واپس نہیں لاسکتے ۔جووقت کی قدرنہیں کرتا، فرد ہویاقوم، تباہ ہوجاتاہے۔



 ایک فرد کے طورپرہمارے مختلف اہداف ہوسکتے ہیں، ہمیں مختلف چیلنجز کاسامناہوسکتاہے،لیکن بحیثیت قوم ہمارے اہداف مشترک ہیں، ہم سب کوایک جیسے چیلنجز درپیش ہیں جن میں سے کچھ اندرونی ہیں اورکچھ بیرونی۔اندرونی چیلنجز میں معاشی اورسیاسی عدمِ استحکام، غربت اوربے روزگاری کاخاتمہ،ہرایک کوبہترین تعلیم اورصحت کی فراہمی شامل ہیں۔یہ بنیادی ضروریات ہیں جن پرہرشہری کاحق ہے۔ خاص کروہ لوگ جوغربت کی سطح سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں،جنھیں سماجی انصاف میسرنہیں۔ ہرشخص کو انصاف کی فوری فراہمی،ترقی کے لیے بہترین انفراسٹرکچر، کاروبار کی آزادی اوربنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔اسی طرح بیرونی چیلنجز میں ایک طرف عالمی سطح پرپاکستان کے وقارمیں اضافہ کرنا، خطے کی ترقی اوردنیا میں امن کے لیے بھرپورکوششیں کرناہے۔ پاکستان نے بنیاد پرستی اوردہشت گردی کے خاتمے کے لیے جوقربانیاں دی ہیں وہ پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ پاکستان عالمی سطح پرتہذیبوں کے ٹکراؤ کی پالیسی کورد کرچکا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے برابری کی سطح پرزندگی گزاریں،مذہب کی بنیاد پرکوئی کسی سے نفرت نہ کرے۔داعش،القاعدہ اوربعض دوسری دہشت گرد تنظیموں کے باعث اسلام کوبدنام کرنے کی جوکوشش کی گئی پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سافٹ امیج پیش کیااوردنیا کوبتایاکہ مسلمان یاپاکستانی کوئی انتہاپسند قوم نہیں۔وہ پوری دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھاملا کرچلناچاہتے ہیں۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم نے دوسروں سے زیادہ قربانیاں بھی دی ہیں۔
ایک دورتھا ہمارے پانچ سالہ منصوبے کی پوری دنیامیں دھوم تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کراچی میں ایک تقریب کے دوران جنوبی کوریاکے سفیر نے کھلے دل کے ساتھ یہ بات تسلیم کی کہ جنوبی کوریاکی ترقی کاراز پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے میں چھپاہے۔ جس وقت پاکستان کی معیشت دنیا کی بہترین اورتیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت سمجھی جاتی تھی،جنوبی کوریاکے ماہرین پاکستان آئے اورپاکستان کے پانچ سالہ منصوبے کوسمجھااورپھروایس جاکران منصوبوں پرعمل شروع کردیا۔صرف بیس سال پہلے ہماری ترقی کی رفتارخطے کے دیگرممالکبھارت،بنگلہ دیش اورویت نام سے زیادہ تھی۔پھران چند سال میں یہ کیاہوگیا؟ ہم جودنیا کے لیے مثال تھے، غلط منصوبہ بندی اورسیاسی انتشار کاشکارہونے کے باعث اپنی ترقی کے سفرکوبرقرارنہ رکھ سکے۔اسی طرح ہمارے دوست عوامی جمہوریہ چین کی مثال ہے۔ایک دور تھا جتنی گاڑیاں ہمارے ایک شہرلاہورمیں تھیں پورے چین میں اتنی گاڑیاں نہیں تھیں اورآج جتنی گاڑیاں چین کے ایک شہرمیں ہیں، پورے پاکستان میں نہیں۔یہ سب کچھ منصوبہ بندی اوران پردیانت داری کے ساتھ عمل کرنے کانتیجہ ہے۔
اس وقت ہمیں سب سے بڑا چیلنج معاشی مشکلات کاہے۔امید ہے ہمیں جومعاشی چیلنجز درپیش ہیں ،نئے سال میں ہم ان پرکامیابی سے قابو پالیں گے ۔اس کے مثبت اثرات زندگی کے تمام شعبوں پرپڑیں گے،جمود کی جو کیفیت نظرآرہی ہے اس کاخاتمہ ہوجائے گا۔وسائل کم ہوں توبڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑامسئلہ ہے،لیکن منصوبہ بندی کے ذریعے اسی آبادی کارخ ملک وقوم کی ترقی کی طرف موڑا جاسکتاہے،آج کی دنیا میں ہمارے سامنے بڑی مثال ہمارے دوست ملک چین کی ہے،اسی طرح برازیل اور برادر اسلامی ملک انڈونیشیا نے بھی منصوبہ بندی اور اپنی آبادی کے بل بوتے پرتیز رفتارمعاشی ترقی کی۔ آج انڈونیشیا اوربرازیل دونوں سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان 22 کروڑ آبادی کے ساتھ  دنیا میں پانچویں نمبرپرہے،جبکہ ہرسال ایک اندازے کے مطابق آبادی میں چالیس سے پچاس لاکھ کااضافہ ہورہاہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 ء تک ہماری آبادی چالیس کروڑکے قریب پہنچ جائے گی۔اب اتنی بڑی آبادی کوبنیادی ضروریات فراہم کرنے اوراس آبادی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمارا جی ڈی پی یا ترقی کی رفتاربعض ترقی پذیرممالک سے کم ہے۔تاہم مثبت بات یہ ہے کہ ہماری آبادی کابڑا  حصہ نوجوانوں پرمشتمل ہے،ان نوجوانوں کو مناسب تربیت دے کرمعیشت کوترقی دی جاسکتی ہے۔اب ذرا تصورکریں کہ اگر ہم اپنے کروڑوں نوجوانوں کومختلف شعبوں میں ہنرمند بناتے ہیں تواس کافائدہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کوہوگا۔اس وقت ہم اپنی آبادی کی طاقت کافائدہ نہیں اٹھا رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں ہنرمندافراد کی کمی ہے۔میں آپ کواپنے شعبے میڈیا کی مثال دیتاہوں۔پاکستان میں مختلف نیوزچینلز شروع ہوئے توان نیوز چینلز کوچلانے کے لیے تربیت یافتہ صحافی اورعملہ ہی موجود نہیں تھا،ہمیں امریکی اوریورپی ماہرین نے پاکستان آکرسافٹ وئیرکی تربیت فراہم کی اوراس پرکام کرناسکھایا۔تواندازہ کرلیں صحافی توبہت تھے لیکن نیوزچینلز چلانے کاتجربہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ کچھ ایسا ہی حال دیگرشعبوں کاہے۔ اس لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ اپنے نوجوانوں کو راوئتی اوررٹا تعلیم دینے کے بجائے انھیں ان کے پسند کے شعبوں میں ہنرمند بنایاجائے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔یہ کروڑوں پاکستانی نوجوان نہ صرف پاکستان ، بلکہ دنیا کی تقدیربدل سکتے ہیں۔
یہ آئی ٹی کادورہے اوریہ نوجوان ہی ہیں جو اس شعبے میں کارنامے انجام دے رہے ہیں،نئے سال میں ہنگامی بنیادوں پر نوجوانوں کی تربیت کے شارٹ ٹرم اورلانگ ٹرم کورسزشروع کروائے جاسکتے ہیں،اچھی بات یہ ہے کہ سرکاری اورنجی اداروں نے اس بات کومحسوس کیاہے اورنوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کمپیوٹرسمیت جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کررہی ہے۔اگرہم دیکھیں توترقی یافتہ ممالک اورمختلف پرائیویٹ ادارے نئے نئے تجربات کررہے ہیں۔فیس بک جیسا ادارہ میٹاورس پرکام کررہاہے،مختلف ممالک آنے والے دورکی کوانٹم کمپیوٹرٹیکنالوجی پراربوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کمپیوٹرٹیکنالوجی صرف یہاں نہیں رکے گی اس میں نئے تجربات ہورہے ہیں،آنے والی دنیا ایک ایسی دنیا ہوگی جس کے بارے میں عام آدمی تصوربھی نہیں کرسکتا۔جس طرح کبھی ہم نے سمارٹ موبائل فون کے بارے میں نہیں سوچا تھا،آج سمارٹ فون سے کیاکام نہیں لیاجارہا۔ترقی اورجدت کایہ سفرکبھی جمود کاشکارنہیں ہوگا،ترقی کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ہمیں خود کونہ صرف اس کے لیے تیارکرناہے بلکہ ہم کوشش کریں تواس شعبے میں دنیا کی قیادت بھی کرسکتے ہیں۔اس کے لیے صرف منصوبہ بندی اورعزم کی ضرورت ہے۔
 ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کاشمار زرعی ممالک میں ہوتاہے،ہماری مٹی بہت زرخیز ہے،سترفیصد آبادی کاانحصارزراعت پرہے۔زرعی شعبے میں جدت لانے اورفی ایکڑ پیداوارمیں اضافے کے لیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔اگرہم اپنے اہداف میں زرعی ترقی کوبھی شامل کرلیں توآئندہ چند سال میں نہ صرف پاکستان کوزرعی شعبے میں خودکفیل کرسکتے ہیں بلکہ اجناس اورزرعی مصنوعات برآمد کرکے اربوں ڈالر بھی کماسکتے ہیں۔اب ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ زراعت اورزندہ رہنے کے لیے پانی بہت ضروری ہے۔دوسری طرف دنیا میں پانی کابحران بھی بڑھ رہاہے زیرزمین پانی مسلسل نیچے جارہاہے۔نئے ڈیمز کی جلدازجلد تعمیر وقت کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے کئی کتابیں اورریسرچ آرٹیکلز شائع ہوچکے ہیں جن میں خدشہ ظاہرکیاگیاہے کہ پانی کابحران اتنا بڑھ جائے گا کہ آئندہ جنگیں پانی پرہوں گی۔ ہمارے پاس کسان بھی ہیں اورزمین بھی،بس ہمت کی ضرورت ہے۔بقول شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال 
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرانرم ہوتویہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
کسی بھی ملک کی ترقی میں توانائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔پٹرول،گیس اوربجلی، کارخانوں اورزندگی کے معمولات چلانے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔توانائی کا حصول آج بھی دنیا کی سیاست کامحورہے۔ہرسال اربوں روپے پٹرول اورایل پی جی برآمد کرنے پرخرچ ہوجاتے ہیں۔ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئیں تاکہ مصنوعات پرآنے والی لاگت کوکم کیاجاسکے تودوسری طرف ایکسپورٹ بل کوبھی نیچے لایاجائے۔اگرپٹرول اورایل پی جی کی درآمد کابل آدھا ہوجائے تواس سے  زرمبادلہ کے بحران پرکافی حدتک قابوپایاجاسکتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جوآئندہ چند سال تک پٹرول پرانحصار کم سے کم کردیں گے۔اس کی سب سے  بڑی مثال الیکٹرک اورشمسی کاریں ہیں۔پاکستان میں اس حوالے سے کچھ اداروں نے کام شروع کیاہے جسے اس سال تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے قدرتی گیس کے ذخائربھی تیزی سے کم ہورہے ہیں،یہ ایک بڑاچیلنج ہے اس لیے ہمیں بہت سنجیدگی کے ساتھ نئی منصوبہ بندی کرناہوگی اورتوانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے وسائل پرانحصارکرناپڑے گا۔توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اس بات کا اشارہ ہیں کہ ملک ترقی کررہاہے، نئے کارخانے لگ رہے ہیں  اورپیداوار بڑھ رہی ہے۔



سی پیک منصوبے تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل کوپہنچ رہے ہیں،اس حوالے سے پاکستان کامستقبل روشن ہے  اورجودشمن یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوجائے ان کی خواہش پوری نہ ہوسکے گی۔ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی آرہی ہے جوایک مثبت علامت ہے۔ توقع ہے کہ جب سی پیک منصوبے مکمل ہوجائیں گے اورخصوصی اکنامک زون میں معاشی سرگرمیاں تیزہوں گی توپاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ اس خطے کے لیے گیم چینجرمنصوبہ ہے۔اس منصوبے سے خطے کے دیگرممالک کوبھی زبردست معاشی فائدہ ہوگا۔سنٹرل ایشیا کے ممالک بھی پاکستان کے راستے یورپ اورمڈل ایسٹ تک اپنی مصنوعات بھیج سکتے ہیں۔اس وقت دنیا کو افغانستان کی مددکرنے کی بھی ضرورت ہے،پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی بھرپورمدد کررہاہے ،لیکن ہمارے وسائل محدود ہیں۔ امریکہ،برطانیہ اوریورپی یونین کوچاہیے کہ وہ نئے سال میں افغانستان کوقحط سالی سے بچانے کے لیے اپناکردار ادا کریں۔ افغانستان سے سفارتی تعلقات منقطع کرنا مسئلے کاحل نہیں۔یہ گلوبلائزیشن کادورہے دنیاہم سے کٹ کراورہم دنیا سے کٹ کرنہیں رہ سکتے،تمام ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ہماری صحت کے لیے ایک بڑاخطرہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی ہے۔یہ آلودگی کئی بیماریوں کاسبب بن رہی ہے۔سموگ اورفوگ کے مسئلے کوماحول دوست پالیسیاں بناکربہترکیاجاسکتاہے۔ اس کے لیے حکومت نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیاہے۔ پاکستان میں درختوں اورجنگلات کی تعداد بڑھا کرآلودگی کی مسئلے پرباآسانی قابوپایاجاسکتاہے۔اگرممکن ہوتواپنے نام سے چند پودے ضرور لگائیں، یہ پودے جب درخت بن جائیں گے توجہاں آپ کوسایہ اور اچھا ماحول فراہم کریں گے وہیں یہ لوگوں کوآپ کی یاد بھی دلاتے رہیں گے۔
کووڈـ19 کی وجہ سے جہاں دنیا بھرکی معیشت متاثر ہوئی اس کا منفی اثر پاکستان پربھی پڑاہے،تاہم خوش قسمتی سے ہمیں اس جانی ومالی نقصان کاسامنا نہیں کرنا جس سے امریکہ اوریورپی ممالک کوگزرناپڑا۔اس خطرناک وائرس کے اثرات ابھی باقی ہیں اوربعض ماہرین اس خدشے کااظہاربھی کررہے ہیں کہ کورونا وائرس ایک نئی اورزیادہ خطرناک شکل میں دنیا پردوبارہ حملہ آور ہوسکتاہے۔ہمیں اس نئے خطرے کے لیے بھی تیاررہناچاہیے۔معاشی بحران کے باعث افراط زرکی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔افراط زرمیں اضافے کامطلب ہے کہ مہنگائی اورغربت میں اضافہ،نئے سال میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پراورٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔جب پوری دنیا لاک ڈاؤن سے گزررہی تھی پاکستان میں معاشی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال ہوگئیں جس کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا اورملکی معیشت کا پہیہ پھرسے چلناشروع ہوگیا۔ورلڈ بنک نے مالی سال 2021 کی رپورٹ میں کووڈ کے بعد پاکستانی معیشت کی بحالی کی تعریف کی ہے اوراس بات کااعتراف کیاہے کہ جی ڈی پی 3.5 فیصد پرپہنچ رہاہے اورنئے مالی سال میں 7.3 فیصد تک پہنچنے کی امیدہے جومعیشت کی بہتری کااشارہ ہے۔
ہم ملک کومعاشی بحران سے نکالنے میں اپناکردارادا کرسکتے ہیں۔ اس میں پہلا فرض تویہ ہی ہے کہ دیانت داری کے ساتھ اپناٹیکس ادا کریں تاکہ حکومت کوحاصل ریونیومیںاضافہ ہو،دوسرے اگرہم کسی کاروبار سے منسلک ہیں توہماری کوشش ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان آئے۔امپورٹ کوکم کریں اورایکسپورٹ بڑھانے کی کوشش کریں۔ باہرسے ہمارے عزیزواقارب جوپیسہ بھیجتے ہیں اگروہ قانونی ذرائع سے بھیجیں تواس سے بھی ملکی معیشت کوسہارا ملتاہے جبکہ ہنڈی سے بھیجے گئے پیسوں کاملک کونقصان پہنچتاہے ۔سمگل شدہ چیزیں استعمال نہ کریں،کوشش کریں میڈ ان پاکستان اشیاء خریدیں،اس سے مقامی معیشت کاپہیہ چلنے میں مدد ملے گی۔ 
ہرنئے سال میں جہاں بہت سے نئے مواقع ہوتے ہیں تووہاں کچھ مشکلات بھی ہوتی ہیں۔ہم میں سے بہت سے لوگ ہیں جونئے سال کے لیے اپنے نئے ٹارگٹس کاتعین کرتے ہیں۔ نئے منصوبے بناتے ہیں اوران پرعمل درآمد شروع کرتے ہیں۔زندہ اورترقی یافتہ قوموں کابھی یہ ہی طریقہ ہے وہ ایک سال یا کئی سال پرمحیط منصوبے بناتے ہیں اورپھران پرعمل بھی کرتے ہیں۔ ہم سے غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم منصوبے توبناتے ہیں لیکن ان پرسوفیصد عمل نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے ہم اپنے ٹارگٹس بھی حاصل نہیں کرپاتے۔
 نئے سال میں ہماری کامیابی ہمارے ہاتھ کی لکیروں میں نہیں بلکہ ہماری منصوبہ بندی اورعزم میں ہے کہ ہم نے نئے سال میں کیاکرنے اورکیسے کرنے کاپلان کیاہے۔منصوبہ بندی اورٹارگٹس کے بغیر زندگی میں کچھ بھی حاصل نہیں کیاجاسکتا اوراس کے لیے اپنی سمت بھی درست رکھنی پڑتی ہے۔غلطی کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔  
زندگی میں سوچنے کے دوانداز ہیں ایک یہ کہ صرف منفی سوچاجائے ،یہ کیسے ہوگا یہ توبہت مشکل ہے، یہ توممکن ہی نہیں،میں یہ نہیں کرسکتا ۔ دوسرا یہ کہ زندگی کے مثبت پہلوؤں کودیکھاجائے،یہ یقین رکھاجائے کہ ہم یہ کرسکتے ہیں۔آدھے خالی گلاس کے بجائے آدھابھرا ہوا گلاس دیکھاجائے۔کچھ ایسا ہی نئے سال میں کی جانے والی منصوبہ بندی کاہے۔جہاں ملک وقوم کی ترقی کے لیے پلاننگ کی جاتی ہے وہیں افراد بھی اپنی ترقی اورکامیابی کے اہداف مقررکرسکتے  ہیں۔یہ سوفیصد ان کے کنٹرول میں ہے۔آپ اگراپنے اہداف مقرر کرکے ایک عزم اورحوصلے کے ساتھ مسلسل کوششیں کریں گے توآپ یقینی طورپرکامیابی کی منزلیں عبورکرلیں گے۔یہ کوئی مشکل نہیں بہت آسان طریقہ ہے، ایک کاغذ پراپنی سال بھرکی ترجیحات لکھ لیں،آپ کیاکرناچاہتے ہیں، اگرکسی ادارے میں ملازم ہیں تواپنی ذہنی صلاحیتوں اورتعلیمی قابلیت یامحکمانہ ترقی کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں،امتحانات کی تیاری اپناہدف بناسکتے ہیں۔بزنس مین ہیں توبزنس کوفروغ دینے کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ ہدف کے بغیرنہ توکوئی شخص اورنہ ہی کوئی قوم ترقی کرسکتی ہے۔ جب آپ نے اپنی زندگی کاکوئی مقصد ہی متعین نہیں کیا توزندگی بھی اپنی مرضی سے آپ کوجہاں چاہے لے جائے آپ کااس پرکوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔ دولت حاصل کرنا کبھی اپنامقصد نہ بنائیں،صرف کام پرتوجہ دیں۔جب آپ اپنے کام میں مہارت حاصل کرلیں گے شہرت اوردولت خود بخود آپ کومل جائے گی،لیکن اگرآپ کسی کام میں مہارت حاصل نہیں کریں گے توپھر نہ دولت ملے گی اورنہ شہرت۔اس لیے کبھی ان دوچیزوں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اپنے مقصد پرفوکس رکھیں۔ اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مقصد کاتعین ضرورکریں،بے مقصد زندگی ہرگز نہ گزاریں۔یہ بھی یادرکھیں کوئی بھی مقصد یاکام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا،اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے شرمندگی یاجھجھک محسوس نہ کریں۔اس بات کاضرور خیال رکھیں کہ آپ نے نئے سال کے لیے اپنے جومقاصد یااہداف مقررکیے ہیں وہ حقیقت پسندانہ ہیں،آپ کچھ بھی کرلیں لیکن آسمان سے تارے توڑ کرنہیں لاسکتے اس لیے اپنے اہدف کے تعین کے وقت حقیقت پسندی سے بھی کام لیں۔
ہوسکتاہے بعض پڑھنے والے یہ اعتراض کریں کہ ہمارا نیاسال تواسلامی کیلنڈرسے شروع ہوتاہے،تودوستوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا نیاسال اسلامی کیلنڈر سے شروع کریں یا عیسوی کیلنڈر سے، مقصد اپنی ترجیحات اوراہداف کاتعین کرناہے تاکہ کولہوکے بیل کی طرح ایک دائرے میں سفرکرنے کے بجائے اپنی منزل پرپہنچ سکیں۔ ہم سب کواپناکام پورے عزم اورجوش وخروش  سے کرنے کی ضرورت ہے۔کوئی مشکل نہیں کہ نئے سال میں ہم پاکستان کو ایک بارپھرتیز رفتارترقی کے راستے پرڈال دیں۔اورآخرمیں آپ سب دوستوں کے لیے 
 نہ کوئی رنج کالمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیاسال سب کو راس آئے ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 434مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP