متفرقات

اداکار مظہر شاہ

مظہر شاہ فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہے۔ مظہر شاہ کا کسی فلم کی کاسٹ میں شامل ہونا فلم کی کا میابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آپ پنجاب پولیس میں ملازمت کرتے تھے غالباً فلم ڈائریکٹر اسلم ایرانی انہیں فلم لائن میں لائے۔ مظہر شاہ نے پولیس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر فلم لائن جوائن کر لی لیکن فلموں میں بھی ان کی تھانیداری قائم رہی وہ فلم سکرین پر اس طرح بڑھکیں مارتے تھے جیسے پولیس والے تھانوں میں مارتے ہیں۔ بقول بابا عبیر ابوذری پلس نوں آکھاں رشوت خور تے فیدہ کیہہ پچھوں کردا پھراں ٹکور تے فیدہ کیہہ

مظہر شاہ بڑے کھڑکے دھڑکے والے آدمی تھے ۔ پنجابی فلموں کے منفرد ولن کے طور پر متعارف ہوئے۔ ان کے بعد آنے والے تقریباً سبھی ولن انہیں کاپی کرتے رہے۔ اداکار اکمل اور اداکارہ نبیلہ کی کاپی بھی بعض اداکار کرتے رہے۔ لیکن مظہر شاہ تو ابھی تک کاپی ہو رہے ہیں اگر فلموں کا پرانا سٹائل لوٹ آئے تو کوئی دوسرا مظہر شاہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ مظہر شاہ کی ایک خوبی جو بہت نمایاں تھی وہ یہ کہ مظہر شاہ اپنے جونیئرز کو بہت سپورٹ کرتے تھے۔ مظہر شاہ یاروں کے یار تھے وہ اپنے دوستوں کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔ فلم میں دھوتی اور لاچہ باندھنے والے مظہر شاہ عام زندگی میں بھی یہ لباس پسند کرتے تھے۔ فلم کی شوٹنگ ہوتی تو ڈانگ ہاتھ میں پکڑ کر سیدھے ہو جاتے اور پھر ایسی ایسی بڑھک مارتے کہ سامنے کھڑے اداکار کی ’’مت‘‘ مار دیتے۔ ان کی ایک دو بڑھکیں تو بہت مشہور ہوئیں جس میں وہ اپنے مدمقابل کو کہتے ہیں۔ ’’تیری لاش نوں وی مچھلیاں ای کھان گیئاں‘‘ یا پھر یہ کہ ’’میں ٹبر کھا جاواں پر ڈکار نہ ماراں۔‘‘

اداکار مظہر شاہ اور اداکار اکمل کی جوڑی بہت مشہور تھی۔ ان کی بے شمار فلمیں ہٹ ہوئیں اسی لئے جب اداکار اکمل کا انتقال ہوا تو مظہر شاہ نے کہا۔ ’’اکمل نئیں مریا میں مر گیا واں‘‘ میرا فلم انڈسٹری سے براہ راست تو کوئی تعلق نہیں رہا لیکن اس کے بارے میں اتنا ضرور سنا ہے کہ یہاں مشکل پڑنے پر بیٹا باپ کو بھی نہیں پہچانتا۔ فلم لائن میں آدمی کو ہر قسم کے حالات کا سامنا پڑ سکتا ہے۔ اداکاروں اور فنکاروں پر ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ ان کے سامنے کوئی بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کرتا اور پھر ایسے وقت کو بھی نگلنا پڑتا ہے جب کوئی بہت بڑا اداکار شوٹنگ میں اس طرح بیٹھا ہوتا ہے کہ جیسے کوئی عام آدمی شوٹنگ دیکھنے آیا ہو اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہوتا۔

مظہر شاہ نے ’’ڈولی‘‘ فلم میں آغا طالش کے ساتھ مل کر کامیڈی رول بھی کیا جس میں مظہر شاہ اور آغاطالش اپنے بیٹوں کے لئے رشتہ دیکھنے جاتے ہیں لیکن خود اپنے لئے لڑکی پسند کر بیٹھتے ہیں اور پھر خوشی خوشی گھر واپس لوٹ آتے ہیں۔ فلموں میں درپن اور مظہر شاہ کو جو پذیرائی ملی ہے وہ کم کم فنکاروں کو ہی ملی ہو گی۔ کم کم فنکاروں سے مراد وہ کم کم اور چُن چُن ٹائپ کے فنکار نہیں ہیں جو فلموں میں بھاری بھر کم قسم کے رول ادا کرتے رہے ہیں۔ مظہر شاہ کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا ہے لیکن آج بھی ان کی یادیں بڑھکیں مارتی محسوس ہوتی ہیں۔

یہ تحریر 640مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP