یوم یکجہتی کشمیر

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ

پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب لمحہ لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال حقائق کی روشنی میں  
پاکستان کی جانب سے قیامِ امن کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت ہمیشہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کے لئے کمر بستہ رہتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی امن  اور ترقی کی راہیں کھلتی ہیں تو بھارت کی جانب سے بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچا کر دونوں ممالک میں پریشان کن جنگی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا عموماً اس وقت بھی کیا جاتا ہے جب بھارت میں عام انتخابات قریب ہوں۔
2019 میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں ایسے واقعات کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب2001 میں بھارت میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو اس وقت بھارت میں عام انتخابا ت اور2002 میں صدارتی انتخابات ہونے والے تھے۔ انہی دنوں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی جاری تھا۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی نائن الیون کا واقعہ ہونے کے باعث ہماری مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کی آمد بھی جاری تھی۔ جب ممبئی حملے کا ڈرامہ رچایاگیا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی پیش رفت بہت اچھی تھی۔ ان دنوں بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔
اسی طرح 2016 میں امریکی صدر کے سٹیٹ آف یونین خطاب کے موقع پر پٹھان کوٹ واقعے کو بہانابنا کر سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کو ختم کردیاگیا۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔2016 میں جب پاکستانی وزیراعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے جانے والے تھے تو 18 ستمبرکو اڑی واقعہ کا ڈرامہ رچایاگیا۔ ابھی اُڑی حملہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ بھارت نے تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کردیا۔ کسی پراس قدر جلد اور بلا تحقیق الزام لگانا بہت عجیب اور نامناسب بات ہے۔ اُڑی پر حملے کو بنیاد بنا کر بھارت نے ''دہشت گردوں کی کمین گاہوں'' پر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا، تاہم اپنے اس دعوے کے ثبوت میں وہ کوئی شہادت پیش نہیں کرسکا۔
لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ بھارت کی جانب سے بھڑکائی جانے والی کشیدگی کی آگ کو بے قابوہونے سے روکا جائے۔

فروری2019 پاکستان کے حوالے سے اس لیے بھی خاص رہا کہ مختلف اہم معاملات ہونے جارہے تھے، فروری2019 میں سعودی پرنس انوسٹمنٹ کانفرنس کے سلسلے میں آرہے تھے،  اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں دہشت گردوں کی لسٹ بارے غور و خوض ہونا تھا۔ افغان امن مذاکرات بارے بات چیت جاری تھی، مقبوضہ کشمیر کے بارے میں یورپی یونین میں غور کیا جانا تھا۔ انٹر نیشنل کورٹ آفس جسٹس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت تھی، ایف اے ٹی ایف (FATF) رپورٹ پر بحث ہونا تھی۔ پاکستان اور بھارتی حکام کے مابین کرتار پور بارے بات چیت ہونا تھی اور پاکستان سپر لیگ کے میچز پاکستان میں کھیلے جانے تھے، یہ سب کچھ ظاہر ہے بھارت کو پسند نہیں تھا۔ لہٰذا اُس نے14 فروری 2019 کو پلوامہ جیسا ڈرامہ کروا کر اس کا الزام بھی بغیر کسی انکوائری اور شواہد کے فوری طور پر پاکستان پر عائد کردیااور بھارتی رہنمائوں نے پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کیے جانے جیسے بیانات دینے شروع کردیئے۔14 فروری سے27 فروری کے مابین جو صورت حال رہی وہ اس طرح سے ہے:
15فروری۔         وزیراعظم مودی نے پاکستان کو دھمکی دی اور پاکستان کا موسٹ فیورڈ  نیشن، کاسٹیٹس ختم کردیا۔
16فروری۔         پاکستان نے بھارت سے ثبوت اور شواہد مانگے۔
18فروری۔         پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنا ہائی کمشنر واپس بلوا لیا۔ بھارت نے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں کلبھوشن یادیو کے حوالے سے سماعت میں اپنا موقف بیان کرنا شروع کیا۔
19فروری۔         وزیراعظم عمران خان نے دہلی سے شواہد پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کا کہا ۔ بھارت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔
21فروری۔         اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔ کانگریس نے وزیراعظم مودی پر زور دیا کہ وہ پلوامہ پر سیاست نہ کریں۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل (UNSC) کو خط  لکھا۔
25فروری۔         وزیرِ خارجہ نے جاپان کا دورہ منسوخ کردیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ افواج پاکستان کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے مکمل تیار ہیں۔
ان تمام واقعات سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرح بھارت جنگی حالات پیدا کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ بھارتی کیفیت کی بہر طور  سمجھ آرہی تھی کہ وزیراعظم مودی ان حالات کو اگلے انتخابات میں کامیابی کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان سب حالات پر پاکستان بھی بخوبی نظر رکھے ہوئے تھا۔ بہرحال بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت دونوں کی برباد ہوتی ہوئی 'ساکھ' سامنے آچکی تھی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے بہر طوریہ پیغام بہت واضح انداز میں دیا جا چکا تھا کہ جگہ اور وقت کا تعین کرکے کسی بھی قسم کی جارحیت کرکے اس کا مزہ چکھ لیں۔
26 فروری 2019 کی رات پاکستان ایئر فورس کے ریڈار نے بہاولپور، لاہوراور سیالکوٹ سیکٹر میں غیر معمولی فضائی سرگرمیاں دیکھیں لیکن تینوں سیکٹرز کی بروقت کارروائی سے بھارتی طیاروں نے حملہ کرنے کی ہمت نہیں کی۔ جنگ کی فضا بنتی دکھائی دے رہی تھی۔ بھارت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن کیا؟ یہ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس بات پر متفق تھی کہ بھارت بلاشبہ ایک بار پھرسرجیکل سٹرائیک کا شوشہ چھوڑے گا اور پھر 26 فروری 2019 کو صبح ہونے سے پہلے بھارتی طیارے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ پاک فضائیہ اپنے جنگجوئوں کو فوراً حرکت میں لائی اور بھارتی طیاروں کا پیچھا کیا۔ جب بھارتی طیاروں کویہ محسوس ہوا تو انہوںنے گھبراہٹ میں اپنے پے لوڈ (Payloads)  بالاکوٹ کیمقامجبہ میں گرادیئے اور اپنی حدود کی طرف پلٹ گئے۔
26 فروری کی صبح حالات کافی غیر معمولی تھے۔جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پاک آرمی اور پاکستان ایئر فورس کے آفیسرز سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ جنگی وردی پہنے ہوئے وہ ٹیبل ٹاپ سکرین پر روشن ایک نقشے پر جھکے ہوئے تھے اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت جلدی میں ہیں لیکن محتاط منصوبہ بندی جاری تھی۔ ملک کی حفاظت ہر شے سے مقدم تھی۔ وہ نقشے پر مارکرکے ساتھ نشان لگارہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور ایک سینئر فوجی افسر اندر داخل ہوا، وہ سب کسی اہم خبر کے لئے متوجہ ہوگئے۔وہ بولے ''جنٹل مین'' اور تجسس کو ہوا دینے کے لئے تھوڑا رُکے اور پھر ٹھوس آواز میں بولے فیصلہ ہوگیا ہے۔ اعلیٰ حکام متفق ہیں کہ فوری ردِ عمل ضروری ہے۔ہم کانٹی جینسی تھری (Contingency-3)کی طرف جارہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا مناسب جواب دینے کی حکمت عملی  کو آخری شکل دیناشروع کی۔ سیاسی اورعسکری قیادت نے سوچ بچار کے بعد پاک فضائیہ کے ذریعے فوری جواب دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جسے 'آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ 'کا نام دیاگیا۔
حملہ کرنے کا وقت پاک فضائیہ پر چھوڑ دیاگیا جبکہ اہداف کو واضح کردیاگیا تھا یعنی لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارتی  فوج کی تنصیبات ۔اگرچہ بھارت نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر وار کیا تھا لیکن پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ دشمنکے پے لوڈ گرانے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس لیے ہمارے جوابی حملے میں بھی دشمن کا جانی نقصان نہ کیا جائے۔
افسران کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ بھارت اس معاملے  میں دُنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام نہ کرسکے تو میٹنگ میں موجود ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ آخری لمحے میں ٹارگٹ ڈرفٹ(drift) کردیا جائے گا۔ ایئر فورس کے بموں کے ساتھ کیمرے منسلک ہوںگے جو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ پر بھارت کی جانب سے کسی بھی جعلی خبر کے جواب میں ثبوت کے طور پر کافی ہوں گے۔ہوا بھی ایسے ہی کہ کیمروں سے منظر ریکارڈ کیاگیا  کہ انہوں نے بھارتی ہیڈکوارٹر کو مارک کیا پھراس کے بعد اُس ٹارگٹ سے ڈرفٹ کرتے ہوئے اُس سے ذرا ہٹ کے خالی جگہ کو داغاگیا۔ یہ سب جان بوجھ کر کیاگیا ہے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ جبکہ اس میں بھی کوئی شک نہ رہے کہ پاک فضائیہ کے طیارے بھارت کی سرحدوں پر موجود رہے اور اگر پاکستان چاہتا تو تباہی مچاسکتا تھا۔
مشن کی تفصیلات سے آگاہ ہونے پر افسران نے اپنا منصوبہ باقاعدہ طور پر ترتیب دیا اور 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے اپنے مشن کا آغاز کیا اور دشمن کو زبردست دھچکا پہنچایا۔تاہم بھارتی فضائیہ نے اس کے جواب میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور طیاروں کاپیچھا کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے اس پار آگئے۔ پاک فضائیہ کے افسران نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا دفاع کیا بلکہ اس ڈاگ فائٹ  کا بھی جواں مردی سے مقابلہ کیا جو بھارت نے شروع کی تھی اسی دوران پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں آئے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔
ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کی گرفتاری اور اس کے بعد رہائی، پاکستان کی اپنی علاقائی سالمیت اور تحفظ کے ساتھ ساتھ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا ثبوت ہے۔ پاکستان اور اس کی افواج نے یہ ثابت کردیا کہ پُرامن حل کے لئے مذاکرات بھی کریں گے لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے سے گریز نہیں کریں گے۔
پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کو مارگرانے کے بھارتی دعوے غلط ثابت ہونے اور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے کامیاب ہونے کے باوجودبھارت نے  ابھینندن کو 'ویرا چکرا' سے نواز کر دُنیا کو اس بار بھی 'چکر' دینے کی ناکام کوشش کی کیونکہ بین الاقوامی میڈیا اور ذمہ دار ادارے اس بات سے بخوبی واقف ہیں وہاں کوئی ایف سولہ نہیں گرایا گیا جب ایف سولہ نشانہ ہی نہیں بنا تو پھر 'ویرا چکر' کس چکر میں دے دیا گیا۔ ظاہر ہے جھوٹ کے کوئی پائوں نہیں ہوتے۔ بھارت کا جھوٹ سب کے سامنے عیاں ہو چکا ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ||


 

یہ تحریر 308مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP