سقوط ڈھاکہ

سانحۂ مشرقی پاکستان۔ شعری تاثرات

قیام پاکستان سے لیکر دم تحریر ارض ِ وطن پر ڈھائے جانے والے مظالم ان گنت ہیں۔ دکھ کی باتیں تو اور بھی ہیں مگر مشرقی پاکستان کا دکھ بڑا دکھ ہے۔ جو پاکستان کے قیام کے محض چند سال بعد اس سانحہ کو غم یا دکھ نہیں سمجھتا وہ انسانیت کا دکھ نہیں سمجھ سکتا۔جب یہ المناک سانحہ رونما ہورہا تھا تو ایک جذباتی کیفیت تھی۔ کچھ جذباتی لوگوں نے ٹی وی تک توڑ دیے۔ملک عزیز پاکستان میں سوگ کی کیفیت تھی، چار سو صف ماتم بچھ گئی تھی۔ وطن کی محبت میں سرشار پاکستانی اشکبار تھے اور دکھ پر نوحہ کناں تھے۔ اس قومی سانحہ کا زخم لیے دو نسلیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔ یہ درد جو مٹی سے ملا یہ کربناک درد شعوری یا لا شعوری طور پر اب نئی نسل میں منتقل ہوچکا ہے۔ جب بھی 16دسمبر آتا ہے، غم اور سوگ کی کیفیت ہوتی ہے۔ اب یہ غم اگلی نسلوں کے دل میں سموتا جائے گا۔ اس سانحہ کااثر ہر ذی شعور اور ہر محب وطن شہری پر ہوا ۔سماج کے حساس ترین طبقہ شعراء کرام اور ادباء نے بھی اس کا اثر لیا ۔اور اثر کے تحت شاعرانہ کلام ،افسانے اورناول قلمبند کیے ۔سانحہ مشرقی پاکستان پر فیض احمد فیض کا کلام سب سے زیادہ نمایاں ہے جبکہ دیگر شعراء کرام میں مجیدامجد،جلیل عالی ،اختر لکھنوی ، نظر لکھنوی،واجد امیر،ڈاکٹر فخر عباس اور دیگر شعراء کرام نے اس جذباتی کیفیت اور درد کو لفظوں میں پرویا جس کااحساس اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا رہے گا۔سانحۂ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 ء کو پیش آیا جسے سقوط ڈھاکہ بھی کہا جاتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش دنیا کے نقشے پر ابھرا۔بھارتی سازشوں کے نتیجے میں 26 مارچ 1971 ء کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے محروم ہو گیا۔شعرائے کرام نے اس سانحہ کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت اور اس کے نتیجے میں انسانی اذیتوں کا کھل کر اظہار کیااور ہجرت در ہجرت کے کرب کو بیان کیا۔ ظلم و ستم اور ان کے کیمپوں کی درد ناک صورتحال کو نہایت تکلیف دہ جذبات کے ساتھ بیان کیا۔
ملک عزیز پاکستان کے سب سے بڑے دکھ پر ممتازشاعر فیض احمد فیض نے ایک نظم 1974 میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی تھی۔ فیض کی دلی کیفیت ڈاکٹر ایوب مرزا کی کتاب 'ہم کہ ٹھہرے اجنبی' کے درج ذیل اقتباس سے معلوم ہوتی ہے۔مشرقی پاکستان کے وہ دل دوز حالات اور واقعات ایسے ہیں جنہوں نے میرے دل کو فگار کر دیا تھا۔ مجھے زندگی میں اس سے بڑھ کر کسی واقعے سے صدمہ یا دکھ نہیں ہوا۔ میرے یار غار وہاں بے شمار تھے۔ میں نے تو کئی راتیں بے خوابی میں گزاری ہیں۔ میرا تو انسان کی اعلیٰ قدروں پر ایمان ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا۔   نظم کا مقطع یہ ہے
ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
معروف شاعر دانشور اور محقق نصیر ترابی نے بھی سقوط ڈھاکہ پر ایک نظم کہی تھی ان کی یہ نظم روزنامہ جنگ میں چھپی تھی۔اس نظم میں بنگال کے دکھ کو عمیق گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی

سابق وفاقی سیکرٹری محمد اظہار الحق رقم طراز ہیں کہ921 میں ڈھاکہ یونیورسٹی وجود میں آئی تو ہندو طنز سے اسے مکہ یونیورسٹی کہتے تھے برطانوی عہد میں اسے آکسفورڈ آف ایسٹ کہا جاتا تھا جب بھی سولہ دسمبر آتا ہے پرچھائیوں کے عقب سے ایک نوحہ اٹھتا ہے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کی پھیلی ہوئی پُرشکوہ عمارتوں کے اوپر سے ہوتاہوا تیر کی طرح دل میں پیوست ہوجاتاہے۔
مشرقی پاکستان کے دکھ پر نوحہ کناں محمد اظہار الحق نے بھی شاعرانہ کلام قلمبند کیا ہے۔
سر پہ کتنے ہی لڑھکتے ہوئے سنگ آہ!کرے
ہم جو چوٹی پہ تھے کس کھائی میں ناگاہ کرے 
دل دہکتا ہے ترے درد کے ہالے کی طرح 
ایسا لگتا ہے کہ سینے میں شبِ ماہ گرے
معروف شاعر اختر لکھنوی کی قیام پاکستان کے بعد ڈھاکہ میںپہلی ہجرت ہوئی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہوئے ۔ہجرت کے بعد انہوں نے پہلا شعری مجموعہ ''دیدہ تر''شائع کیا ۔انہوںنے "دیدہ تر "کے بارے میں لکھا کہ اس مجموعہ میں وہی شاعری ہے جو اس المیے سے وجود میں آئی جس نے لاکھوں افراد کا شیرازہ ہستی بکھیر دیا ،جس سے لاتعداد گھر اجڑے ،مکینوں کے ساتھ مکان جلے،معصوم بچے مائوں کی گود سے چھین کر نیزوں پر چڑھائے گئے ،گلیوں کوچوں اوربازاروں میں قتلِ عام ہوا۔چونکہ اختر لکھنوی نے 13دسمبر1971سے 6مارچ 1974 تک یعنی 814 دن آگ اور خون کے طوفان میں گھِر کر نفس نفس قدم قدم دیگر محب وطن خاندانوں کے ساتھ ساتھ ایسے مناظر کا سامنا بذاتِ خود بھی کیا جن کی دید سے ذہن منجمد اور آنکھیں پتھراگئیں۔انہوں نے اپنی شاعری میں دونوں ہجرتوں کا ذکر یوں کیا 
ملو ہم سے، ہمیں دو ہجرتوں کے
سفر اندر سفر نے مارڈالا
دردِ ہجرت میں انہوں نے مشرقی پاکستان کی یاد میں لازوال کلام لکھا 
دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں
پہلو بدلتے وقت بہت 
سقوط  ڈھاکہ کے وقت محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی نے اس سانحے کو اپنے احساس کی بھٹی میں اس طرح پکایا کہ آج بھی اس کے ایک ایک مصرعے سے آنچ اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔
دل آج ہے رنجور زِ نیرنگیِ حالات
آنکھوں سے رواں اشک ہیں مجروح ہیں جذبات

ایک اور غزل جو سانحہ مشرقی پاکستان کے دکھ کی ترجمان ہے۔ شاعر جلیل عالی کی اس المناک دکھ پر غزل سے ملک میں پیدا ہونے والی سوگوار فضاء کی عکاسی نظر آتی ہے۔
پچھتائے ہیں سر کا بوجھ گرا کر بھی
حیراں ہیں آنکھیں دیوار ہٹا کر بھی
اُس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی
عالی سب انصاف ترازو ٹوٹ چکے
کیا پاؤ گے اب زنجیر ہلا کر بھی
لاہور کے مشہور و معروف شاعرواجدامیرنے مشرقی پاکستان کے دکھ، غم، صدمے، خون ریزی، اور ہجرت کے کرب کو بہت ہی شاندار انداز میں بیان کیا ہے ان کی یہ نظم قربت کے کھو جانے کا غم مناتی ہے
مشرقی پاکستان کا المیہ
گُل بددستور کھلتے تو ہو ںگے بھائی
تتلیاں پھولوں پہ منڈلاتی تو ہوں گی اب بھی
اور جگنو بھی اُسی طرح چمکتے ہوں گے
 حساس لوگ ہر دکھ کو نئے انداز سے بیان کرتے ہیں ،مشرقی پاکستان کے رستے زخم نے شاعر مجید امجد کوبھی کرب میں مبتلا کیا انہوں نے بھی مشرقی پاکستان کے تاسف، سفید گلابوں کا نوحہ بیان کیا ہے ۔
 'اکیس دسمبر 1971'
رات آئی ہے، اب تو تمہارے چمکتے چہروں سے بھی ڈر لگتا ہے
اے میرے آنگن میں کھلنے والے سفید گلاب کے پھولو،
شام سے تم بھی میرے کمرے کے گلدان میں آجاؤ
ورنہ راتوں کو آسمانوں پر اڑنے والے بارودی عفریت، اس چاندنی میں، جب
چمک تمہارے چہروں کی دیکھیں گے
تو میرے ہونے پر جل جل جائیں گے اور جھپٹ جھپٹ کر
موت کے تپتے دھمکتے گڑہوں سے بھربھر دیں گے اس آنگن کو
اب تو تمہارا ہونا اک خدشہ ہے،
اب تو تمہارا ہونا۔۔۔ سب کی موت ہے
شاخ سے ٹوٹ کے میرے خودآگاہ خیالوں کے گلدان میں اب آ جاؤ
اور یوں مت سہمو۔۔کل پھر یہ ٹہنیاں پھوٹیں گی۔۔کل پھر سے پھوٹیں گی سب ٹہنیاں '
آتی صبحوں میں پھر ہم سب مل کے کھلیں گے، اس پھلواڑی میں
پاکستان کے بڑے دکھوں کا شمار کیا جائے تو سقوط ڈھاکہ سے بڑا کوئی دکھ نہیں اس المیہ پر معروف شاعر امجد اسلام امجد نے بھی اس غم کو طویل نظم سے بیان کیا ہے
اے زمینِ وطن ہم گنہگار ہیں
ہم نے نظموں میں تیرے چمکتے ہوئے بام و در کے بیتاب قصے لکھے 
پھول چہروں پہ شبنم سی غزلیں کہیں،
 خواب آنکھوں کے خوشبو قصیدے لکھے
 تیرے کھیتوں کی فصلوں کو سونا گنا،
تیری گلیوں میں دل کے جریدے لکھے
 جن کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں، 
ہم نے تیری جبیں پر وہ لمحے لکھے
جو تصور کے لشکر میں لڑتے رہے، ہم وہ سالار ہیں ہم گنہگار ہیں
اے زمینِ وطن۔۔۔ ہم گنہگار ہی
یہ دہائی ہر محب پاکستانی کیلئے تاسف اور دکھ کی دہائی تھی اگرچہ اس پہ کم لکھا گیا مگر اس زخم نے ہماری روحوں کو زخمی کیا 
اِسی دہائی میں نوجوان شاعر مشیر کاظمی نے ایک نظم کہی تھی ۔نوجوان نسل کے جذبات نظم میں نظر آتے ہیں۔
قبر اقبال سے آرہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارہ نہیں
کہہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہوگیا
یہ تصور تو ہرگز ہمارا نہیں
سابق بنگالی سفیر کرنل شریف الحق اپنی کتاب ''پاکستان سے بنگلہ دیش تک '' میں اس بات کاانکشاف کرچکے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن کے بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' سے رابطے تھے۔شیخ مجیب الرحمن نے بی بی سی سے انٹرویومیں بھی اس بات کااعتراف کیاتھاکہ وہ پہلے سے ہی علیحدگی کے منصوبے پرکام کررہے تھے۔بھارتی سازش اور مشرقی پاکستان کے دکھ پر لاہور کے معروف شاعر ڈاکٹر فخر عباس نے اپنے شاعرانہ کلام میں کہا ہے کہ
جب دیس بٹا دو ٹکڑوں میں
جب پھوٹ پڑی انسانوں میں 
سکھ چین گیا ہنگاموں میں
جب جنگ چھڑی دو ملکوں میں
بنگال جدا ہم سب سے ہوا
دل چھلنی میرا تب سے ہوا
بھارت نے سازش کی گہری
جو چال چلی، وہ تھی گہری
ایک ملک اور اس کے باسیوں کو جدا کردیا جائے تو یہ کس قدر دردناک ہوتا ہے اس درد کے احساس کو شاعر سعید راجہ نے کچھ یوں بیان کیا ہے 
ایک جدائی صدیوں جیسی
جیتے جی مر جانا مشکل
جو نفرت نے سلگائی ہو
ایسی آگ بجھانا مشکل
پت جھڑ میں جو شاخ سے بچھڑے
ان کا لوٹ کے آنا مشکل
ڈاکٹر احسان اکبر نے اس بکھرتے ہوئے خواب پر اپنے دکھ کے احساس کو بیان کیا ہے۔  ماہِ دسمبر میں ہونے والے اس  المناک سانحہ پر انہوں نے کمال مہارت سے منظر نگاری کی ہے۔
یہ رنگ بنائو دھوپ میں
جب چھوٹے دن تھے سال کے
کس روپ کے دعوے دار ہوں
یہ سولہ سال زوال کے
آنکھیں مت بھیچو دان میں
پر اتنا رکھیو دھیان میں
آئے لوگوں کے واسطے
رکھنا ہے خواب سنبھال کے
ماضی میں اگر ایسا سانحہ ہوجائے جس نے ہمارے دل و روح کو تکلیف پہنچائی ہو تو وہ صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔مشرقی پاکستا ن کا دُکھ بھی ہماری نسلوں کی روح کو کرب پہنچاتا رہے گا۔ نوجوان شاعرہ حریم شفیق نے اس کرب کو محسوس کیا ہے  اوراسے یادِ ماضی کا کرب قرار دیا ہے
ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا
وہ لٹے لٹے سے تھے قافلے
وہ گھٹی گھٹی سی تھیں سسکیاں
غم یار کون منا سکا
ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا
مشرقی پاکستان کے دلدوز حالات اور واقعات ایسے ہیں کہ دل کو فگار کر دیتے ہیں۔ محب وطن پاکستانیوں کے لیے اس سے بڑھ کر کسی واقعے سے صدمہ یا دکھ نہیں ہوسکتا۔دل کی جھیل میں بہت سے دکھ ہیں مشرقی پاکستان کا دکھ ہمیں کبھی نہیں بھول پائے گا۔ ||


مضمون نگار شعبۂ صحافت سے منسلک ہیں۔
 

یہ تحریر 293مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP