اداریہ

پُرعزم پاکستان

دسمبربانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا ماہِ پیدائش ہے۔ ان کا یومِ پیدائش ملک کے طول و عرض میں عقیدت و احترام سے اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ قائد کے افکار کی روشنی میں یہ قوم اپنا سفر جاری رکھے گی۔ قائدِاعظم نے برصغیر کے پسے ہوئے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور انہیں ایک آزاد ملک لے کردیا۔ قائد نے صرف قیامِ پاکستان ہی نہیں تکمیل ِ پاکستان کے لئے بھی زرّیں اصول متعین کردیئے۔18 اگست1947 کو اپنے خطاب میں انہوں نے فرمایا:''اس میں شک نہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کرلیا ہے لیکن یہ تو محض آغاز ہے۔ اب بڑی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر آن پڑی ہیں اور جتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں، اتنا ہی بڑا ارادہ اور اتنی ہی عظیم جدوجہد کا جذبہ ہم میں پیدا ہونا چاہئے۔ پاکستان حاصل کرنے کے لئے جو قربانیاں دی گئی ہیں، جو کوششیں کی گئی ہیں۔ پاکستان کی تشکیل و تعمیر کے لئے بھی کم ازکم اتنی ہی قربانیوں اور کوششوں کی ضرورت پڑے گی۔ حقیقی معنوں میں ٹھوس کام کا وقت آپہنچا ہے اور مجھے پورا پورا یقین ہے کہ مسلمانوں کی ذہانت و فطانت اس بارِ عظیم کو آسانی سے برداشت کرلے گی اور اس خاردار اور دشوار راستے کی تمام مشکلات آسانی سے طے کرلے گی۔'' بلاشبہ قائد کے افکار و اقوال پر عمل پیرا ہونے میں ہی وطنِ عزیزپاکستان کا دنیا کی کامیاب اور با وقار قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کا راز پنہاں ہے۔
ماہِ دسمبر ہی میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا اور دشمن اپنی گھنائونی سازشوں میں کامیاب ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دشمن 1965 سمیت دیگر جارحیتوں میں یہ دیکھ چکا تھا کہ پاکستان کی قوم اور بہادر مسلح افواج کوجنگ کے ذریعے شکست نہیں دی جاسکتی،  لہٰذا دشمن نے مشرقی پاکستان کے بعض باغی عناصر کی پشت پناہی کرکے 16 دسمبر1971 کو سقوطِ مشرقی پاکستان کی صورت میں گزند پہنچائی۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت سے مفروضوں کو ہوا دے کر بیانیے تشکیل دیئے گئے لیکن حقائق ان سے یکسر مختلف تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ افواجِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کے چپے چپے کی حفاظت کے لئے جانی قربانیوں سے بھی گریز نہیں کیا۔ لیکن دشمن ملک نے جس انداز سے مقامی لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرا اور انہیں اپنے ہی اداروں کے خلاف استعمال کیا، اس کی بناء پرحالات قابو میں نہیں رہے۔''شکستِ آرزو'' پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین جو سقوطِ مشرقی پاکستا ن سے پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی کے آخری پاکستانی وائس چانسلر تھے، کی کتاب'' دی ویسٹ آف ٹائمز'' کا اُردو ترجمہ ہے، میں وہ واضح انداز میں لکھتے ہیں کہ کس طرح مٹھی بھر لوگ بھارتی لابی کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے اور بھارتی ایجنڈے کی تکمیل میں ایک کٹھ پُتلی کی طرح کام کرتے رہے۔ اسی طرح سرمیلا بھوس کی کتاب '' ڈیڈ ریکننگ'' میں بھی جس طرح مشرقی پاکستان کے حوالے سے پائے جانے والے مفروضوں کی نفی کی گئی ہے اُس سے بھی دشمن کی سازشوں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ان سے بھی بڑھ کر بھارتی وزیر ِاعظم نریندر مودی خود بنگلہ دیش میں منعقدہ ایک تقریب میں اس کو تسلیم کرچکے ہیں کہ بھارت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ماہِ دسمبر ہی میں اے پی ایس پشاور کا خوںچکاں سانحہ پیش آیا اور16دسمبر2014کو معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیاگیا جو اس امرکی جانب اشارہ ہے کہ دشمن اب بھی چین سے نہیں بیٹھا، اُسے جب بھی موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو ٹھیس پہنچانے سے گریز نہیں کرتا۔بہر طور ریاستِ پاکستان نے اے پی ایس حملے میں شامل تمام دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جا چکی ہے۔
ان حالات میں پاکستانی قوم اور مسلح افواج یقینا اس امر کا اعادہ کئے ہوئے ہیں کہ انہوں نے باہم مل کر پاکستان کو حال اور مستقبل میں درپیش آنے والے ہر چیلنج سے نہ صرف نبرد آزما ہونا ہے بلکہ دشمن اور اُس کے سہولت کاروں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرنا ہے۔ یہی وہ عزم تھا جس سے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں اور پاکستان دشمنوں کو شکست ِ فاش دی۔ پاکستان آج بھی اُسی عزم، ولولے اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ جو اس امر کا عکاس ہے کہ آج کا پاکستان ایک پُرعزم اور باوقار پاکستان ہے جو ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
 پاکستان ہمیشہ زندہ باد! ||
 

یہ تحریر 263مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP