متفرقات

افواجِ پاکستان کے امن دستے اور بین الاقوامی امن

بین الاقوامی امن کی بحالی میں پاک فوج کے دستوں کی خدمات اور کانگو میں حال ہی میں ہونے والے ہیلی حادثے میں جانیں قربان کرنے والے پاک فوج کے افسر اور جوانوں کی  شہادت کے حوالے سے ایک تحریر

عسا کر پا کستا ن وطن عزیز کی امن و سلا متی کے لیے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے ساتھ بین الا قوامی امن مشن میں بھی نہایت فخر کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ دنیاکے شورش زدہ ممالک میں بحالیِ امن کی کوششوں میں اپنا کلیدی حصہ ڈالنے اور جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی وجہ سے عالمی برادری کی قیادت اور متاثرہ ممالک کے عوام افواج پاکستان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھتے  اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔
پاکستان اب تک 28 ممالک میں 46 اقوام متحدہ مشنز میں حصہ لے چکا ہے۔  ا ور ان میں 168 پا کستانی پیس کیپرز بشمول 24 آفیسرز عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیںاور تقریبا ً اتنی ہی تعداد میں پاکستا نی پیس کیپرز زخمی ہو چکے ہیں۔مجموعی طور پر اب تک 2 لاکھ سے زائد پاکستانی فوجی اقوام متحدہ مشنز کا حصہ رہ چکے ہیں۔واضح رہے کہ بابائے قوم قا ئد اعظم محمد علی جناح بین الاقوامی امن کے بہت بڑے داعی تھے اور اقوام متحدہ مشنز میں شمولیت ان کی سوچ اور ہدایات کے عین مطابق ہے-
''ہماری سفارتی پالیسی تمام اقوام عالم کے لیے دوستی اور خیرخواہی کی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کی مد میں ہم ایمانداری اور اپنی منصفانہ روایات کے زریں اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں اور امن و خوشحالی کی ترویج کے لیے ہر ممکن اپناکردار ادا کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔پاکستان کسی طور بھی تباہ حال اور معا شی ابتری کے شکار لوگو ں کی اخلاقی و مالی معاونت سے گریز نہیں کرے گا اور اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں کی پاسداری کرے گا۔''
 ( امریکا کے لیے شائع پیغام سے اقتباس، فروری 1948)

وسطی افریقہ میں جمہوریہ ریپبلک کانگو کا مشن اب تک کا سب سے طویل مشن ہے ۔ 23 لاکھ 45 ہزار مربع کلومیٹرپر مشتمل غیر معمولی بڑی ریاست ، مختلف علاقائی گروہوں کے باہم لڑائی جھگڑوں، باغی فورسز، ہمسایہ ممالک (روانڈا، یوگنڈا اور دیگر)کی مداخلت اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کی وجہ سے زبوں حالی سے دوچار ہے۔اس کے علاوہ با اثر سیا سی شخصیات و متعدد باغی گروپوں اورتر قی یافتہ ممالک کے درمیان اس ملک سے خطیر معدنی ذخائر(تانبا، ہیرا ، سونا، کولٹن، ٹن، ٹنگسٹن)   اور بے پناہ اجناس کے حصول کی دوڑ کانگو کے خطرات میں اضا فے کا باعث رہی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر اقوام متحدہ کی افواج پہلی مرتبہ 1960-1964 میں اقوام متحدہ کا امن مشن برائے کانگوکے بینر تلے اس ملک میں داخل ہوئیں۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد امن کا قیا م ممکن ہوا ہی تھا کہ دوبارہ کشیدگی، قتل و غارت ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بد حالی کا ایک اور دور شروع ہوگیا ۔ اس کے سبب 1999 سے2010 تک MONUC)اقوام متحدہ کا امن مشن۔جمہوریہ ریپبلک کانگو( اورجولائی 2010سے MONUSCO)اقوام متحدہ کا امن مشن برائے سٹیبلائزیشن -جمہوریہ ریپبلک کانگو - کے تحت اقوام متحدہ کا امن مشن یہاں پر موجود ہے-
 کانگو میں پاکستان نے اپنی ابتدائی فورسز 2003 میں تعینات کیں۔موجودہ امن مشن میں افواج پاکستان کی نمائندگی ایک بریگیڈ کر رہا ہے جو سیکٹر ہیڈکوارٹر ، 2 انفنٹری بٹالینز اور PUMA ایوی ایشن فلائٹ پر مشتمل سائوتھ کیوو صوبہ میں تعینات ہیں۔ پاک فوج کے جرأت مند پیس کیپرز نے اب تک نہایت اہم آپریشنل ، تربیتی اور فلاحی کارروائیاں سرانجام دی ہیں جن میں متعدد آفیسرز اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔بے شمار اقدامات میں چند قابل ذکر کام درج ذیل ہیں۔ 



1 ۔    عوام الناس کی حفاظت کے لیے کمپنی آپریٹنگ بیس، عارضی آپریٹنگ بیس اور سٹینڈنگ کمبیٹ ڈیپلائمنٹ کے کامیاب آپریشنز۔
2 ۔    تانگانیکا اور کیووجھیل کی جانب سے آنے والے شر پسند عناصر پر نظر رکھنا اور ان کا سدباب
3۔     کانگو کی آرمی FARDC) (کی ٹریننگ ، استطاعت و قابلیت میں اضافہ اور ان کے انتظامی و انصرامی معاملات میں ان کی امداد ۔
4۔    انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مجرمانہ افعال کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات۔
5۔    بے گھر افراد کا تحفظ اور ان کی بحالی کے اقدامات۔
6۔    لا چار و بے کس کمیونٹی کی بھلا ئی کے لیے فوری اور مؤثرفلاحی منصوبوں کی تکمیل۔
7۔    خواتین عساکر کی سرکردگی میں مظلوم خواتین اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے اقدامات۔
ماضی کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے سبزہلالی پرچم کی سر بلندی کے لیے پاکستان ایوی ایشن یونٹ(PAU-11) کے سپوتوں نے ایک بار پھر نئے امن مشن کی تکمیل کے لیے لبیک کہا۔29 مارچ2022 کو فلائٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل آصف علی اعوان ، میجر محمد سعد نعمانی (کو ۔پائلٹ)، میجر فیضان علی )فلائیٹ انجینئر(، نائب صوبیدار سمیع اللہ خان )فلائیٹ انجینئر(، حوالدار محمد اسماعیل)کریو سٹاف(، لانس حوالدار محمد جمیل خان)محافظ گنر(اور دو غیر ملکی آفیسرز لیفٹیننٹ کرنل Aleksie، (روس )اور لیفٹیننٹ کرنل Dejan، (سر بیا) کو تفویض کی گئی ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے PUMA ہیلی کاپٹر پر سوار ایک فضائی جائزہ مشن پر روانہ ہوئے۔ یہ مشن بھارتی امن فوج کے بریگیڈ کے زیر کنٹرول علاقہ کے رٹشرو ریجن میں کیا جانا تھا جہاں پر با غی گروپ ایم۔23  اور جمہوریہ ریپبلک کانگو کی فوج کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔چند روز قبل با غی گروپ نے مقامی فوج کے کئی ٹھکانوں پر قبضہ کرتے ہوئے انھیں شدید نقصان پہنچایا تھا۔



افواج پاکستان کے سپوت اس مشن کی قیادت کرتے ہوئے یوکرین ایوی ایشن کے امدادی ہیلی کاپٹر کے ساتھ رٹشرو ریجن پہنچے اور با غیوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانا شروع کیا جو کہ گھنے جنگلات کی وجہ سے زمینی فوج کے لیے انتہائی مشکل تھا۔اسی اثناء میں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔ حادثے کی انکوائری ہو رہی ہے تاکہ تعین کیا جا سکے کہ ہیلی کاپٹر کسی تکنیکی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا یا خراب موسم کی بنا پر یہ حادثہ پیش آیا۔ فورس کمانڈر Monuscoلیفٹیننٹ جنرل مارکوس اے دا کوستہ (Morcos A. Da COSTA) نے بہرحال یہ ضرور کہا ہے کہ باغیوں کی طرف سے فائرنگ کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ بہرکیف انکوائری مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آجائیں گے۔حادثے کے باعث  ہیلی کاپٹر جنگلات میں گر کر تباہ ہو گیا اور تمام افراد نے جا م شہادت نوش کیا۔ اس انتہائی کٹھن اور دشوار گزار علاقے سے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے سرچ اور ریسکیو مشن ایک اور مشکل مرحلہ تھا۔ اس کی ذمہ داری پاکستانی سائوتھ سیکٹر بریگیڈ کی ایگل فورس سپیشل سروسز گروپ اور QRFنے قبول کی جس کی زمینی قیادت کیپٹن امتصال فیصل اور فضائی نگرانی پاکستان آرمی ایوی ایشن مشن کمانڈر کرنل زریاب گل رائو نے کی۔ ڈھلتی شام کی تاریکی ، گھنے جنگلات اور ابر آلود موسم نے اس سرچ اور ریسکیو مشن کو انتہائی کٹھن بنا دیالیکن ہمارے ان آ فیسرز اور جوانوں نے انتہائی جواں مردی سے تلاش شروع کی اور بالآخرپانچ سے چھ گھنٹوں کی تلاش کے بعد شہید ساتھیوں کے جسدِ خاکی ہمراہ لے آئے۔ ہمارے ان شہداء نے نہ صرف پاکستانی جھنڈے کو سر بلند کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کیا بلکہ اقوام متحدہ بین الاقوامی مشن کے وقار کو بھی تقویت بخشی ۔ اس موقعہ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتنیو گتریس نے اپنے پیغام میں کہا:
''میں اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹرمشن میں آٹھ پیس کیپرز کی جانوں کے ضیا ع اور قربانی پر بہت غمزدہ ہوں۔ ان کی بہادری و جرأت کی قدر کرتا ہوںاور ان کے اہل وعیال اور پیاروں کے ساتھ غم اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔''
شہداء پیس کیپرز کو وطن عزیز کی طرف روانہ کرنے سے قبل MONUSCO فورس ہیڈکوارٹرگو ما میں ان کی نمازجنازہ ادا کی گئی اور دعائیہ سروس منعقدکی گئی۔ اس اجتماعی دعا میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیو یارک سے آئے انڈر سیکر ٹری جنرل پیس آپریشنز جین پیرے لیکروس، خصوصی نمائندہ برائے سیکر ٹری جنرل محترمہ بنتو کیٹا، ڈپٹی فورس کمانڈرمیجر جنرل بنوئیت چانت ،بین الاقوامی برادری اور جمہوریہ ریپبلک کانگو کی قیادت نے شرکت کی اور شہداء کو خراج ِ تحسین پیش کیا۔ خصوصی نمائندہ برائے سیکرٹری جنرل محترمہ بنتو کیٹا کے8 اپریل 2022 کو سائوتھ سیکٹر کے حالیہ دورہ میں قلمبند کیے گئے کلمات درج ذیل ہیں۔
''میں نہایت دکھ کے ساتھ اپنے کلمات قلمبند کر رہی ہوں ۔ عظیم خدا سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمارے ان چھ پیس کیپرز کو انتہائی اعلیٰ مقام عطا فرمائے اوران کے اہلِ خانہ اور عزیزو اقارب کو صبر دے۔ اس کے ساتھ انھیں ان کے پیاروں کی عالمی امن اور جمہوریہ ر یپبلک کانگو کے لیے دی گئی قربانی کی بابت فخر اور حوصلے کے ساتھ اگلے لمحات گزارنے کی توفیق دے۔''
فورس کمانڈر MONUSCO نے 6 اپریل 2022 کو پاکستان آرمی ایوی ایشن یونٹ کے دورہ کے موقع پر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اوراپنے کلمات درج کیے۔ 



''آج میں بحیثیتMONUSCO فورس کمانڈر پاکستان آرمی ایوی ایشن یونٹ کے چھ آفیسرز و جوانوں)لیفٹیننٹ کرنل آصف ، میجر سعد ، میجر فیضان ،نائب صوبیدار سمیع ، اسماعیل، جمیل ) کو خراج ِ تحسین پیش کرتا ہوں جوDRC کے کمبیٹ مشن پر تھے۔ ان کی اس پیشہ ورانہ جرأت اور مثال کو اقوام متحدہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔انھوں نے امن کے لئے خدمات سر انجام دیں اور اپنی جانوں کی قربانی دی۔یہ تمام افراد اقوام متحدہ، MONUSCO فورس اور اپنے ملک کا فخر اور ہیروز ہیں۔ ان کے درجات بلند ہوں۔''
پاکستان آرمی ایوایشن سے تعلق رکھنے والے یہ تمام آفیسرز اور جوان بدرجہ اتم مہارت کے حامل تھے۔ ان میں سے بیشتر پہلے بھی اقوام متحدہ امن مشن میں اپنی ڈیو ٹی سر انجا م دے چکے تھے۔
مظفرآباد آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل آصف علی اعوان شہید افواج پاکستان اور پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ایک گراں قدر اثاثہ تھے۔ انھوں نے 2001 میں 104 پی ایم اے لانگ کورس سے کمیشن حاصل کیا اور پاک فوج کی انجینئرنگ کور میں شمولیت اختیار کی۔ بعدازاں اپنے شوق ِہوا بازی کو جِلا بخشتے ہوئے آرمی ایوی ایشن میںشامل ہوئے۔ ان کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بیک وقت مشاق جہاز، سکورسکی، ایم آئی۔17اور پیوما ہیلی کاپٹر کے بہترین پائلٹ اور انسٹرکٹر تھے۔ اس سے بڑھ کر ان کی رات کی تاریکی میں اڑان بھرنے کی صلاحیت انہیں ممتاز کرتی تھی۔ قومی سطح پر مختلف آپریشنز )بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ)اور بین الاقوامی امن مشنز میں 3000گھنٹوں سے زائدکی محفوظ فلائنگ کر چکے تھے۔فروری 2022میں جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں تعینات ہوئے اور سائوتھ کیوو سیکٹر میں جاری پاکستانی بریگیڈ کے آپریشن Endeavorمیں حصہ لیتے ہوئے بہترین خدمات سر انجام دیں۔وہ اپنی نجی زندگی میں کم گو، بے حد شفیق،حلیم ، بردباراور ہمدرد شخص تھے۔ ان کے ورثا میں والدین ، زوجہ اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
ہیلی کا پٹر پر سوار میجر محمد سعد نعمانی بطورِ کو ۔پائلٹ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ میجر محمد سعد نعمانی نے ملٹری کالج جہلم سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد2006 میں 113 پی ایم اے لانگ کورس سے کمیشن حاصل کیا اور پاک فوج کی آرٹلری رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ان کا تعلق ملتان سے تھا۔ اپنے والد محتر م جو فوج میں بطور خطیبِ اعلیٰ کے فرائض انجام دے چکے تھے، کی بہترین تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے بہتر سے بہتر کی جستجو میں رہتے۔ بالآخر اسی جدوجہد کے تحت آرمی ایوی ایشن میں شامل ہوئے۔ وہ انتہائی منجھے ہوئے پائلٹ تھے اور بیک وقت مشاق جہاز، ایکیورل، اے بی ۔205، اور پیوما ہیلی کا پٹر کے ماہر تھے۔ انھوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر 1850 گھنٹوں سے زائد کی محفوظ فلائنگ مکمل کی ہوئی تھی۔جنوری 2022میں جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں شامل ہوئے اور سائوتھ کیوو سیکٹر میں جاری پاکستانی بریگیڈ کے آپریشن Endeavorمیں حصہ لیا ۔ ان کے ایک ساتھی ایوی ایٹر میجرعمیر لطیف کی زبانی وہ بہت ملنسار، خوش اخلاق ، والدین کے فرمانبردار اورسیاحت و تفریح کے شوقین تھے۔ ان کے ورثا میں والدین ، زوجہ اور تین بیٹے شامل ہیں۔
 ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے میجر فیضان علی شہید نے ایبٹ آباد سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 2016 میں پاک فوج کی ایوی ایشن ا لیکٹریکل ومیکینیکل انجینئرنگ کور میں کمیشن لیا ۔وہ بے حد ہونہار ، قابل اور ماہر ایوی ایشن انجینئرتھے ۔ انہیں کوبرا، فینیک، ایم آئی۔17اورپوما ہیلی کا پٹرز اُڑانے میں مہارت حاصل تھی۔ اپنے ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن المیزان اور آپر یشن ضربِ عضب میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے چکے تھے۔ وہ جنوری 2022 میں جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں تعینات ہوئے اور سائوتھ کیوو سیکٹر میں جاری پاکستانی بریگیڈ کے آپریشن Endeavorمیں حصہ لیا ۔وہ عام زندگی میں نہایت خوش طبع، ملنسار اور غم غسار تھے اور بڑھ چڑھ کر ذمہ داری قبول کرتے تھے۔ ان کے ورثا میں والدین ، زوجہ اور نو مولود بیٹی شامل ہیں۔
نائب صوبیدار سمیع اللہ خان شہید پاک فوج کی ایوی ایشن ا لیکٹریکل ومکینیکل انجینئرنگ کور کے ساتھ فروری 1998 سے منسلک تھے۔ ان کا تعلق میانوالی کے ایک چھوٹے سے گائوں میانہ سے تھا۔ ابتدائی تعلیم گائوں ہی سے حاصل کی اور اپنی تکنیکی صلاحیتوں ا ور شوق کی بناء پر ایوی ایشن انجینئرنگ میں شامل ہوئے۔ مختلف منٹینس بٹا لینز میں اپنی خدمات سر انجام دیں۔ انہیں کریو چیف اور فلائٹ انجینئر کے طور پر بیل ۔412اور پوما ہیلی کا پٹرز پر مہارت حاصل تھی ۔ ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن المیزان اور آپر یشن ضربِ عضب میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے چکے تھے۔مزید برآں اقوام متحدہ مشن سوڈان 2005 اور جمہوریہ ریپبلک کانگو میں 2016 میں ڈیوٹی انجام دی ۔ وہ جنوری 2022 میں دوبارہ جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں بطور فلائٹ کریو چیف و فلائٹ انجینئر تعینات ہوئے اور سائوتھ کیوو سیکٹر میں جاری پاکستانی بریگیڈ کے آپریشن Endeavorمیں حصہ لیا۔ وہ بہت ہنس مکھ، ہمدرد ، مخلص شخص اور بہترین کھلاڑی تھے۔ ان کے ورثا میں زوجہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
حوالدار محمد اسماعیل شہید گزشتہ اٹھارہ برس سے پاک فوج کی ایوی ایشن الیکٹریکل ومیکینیکل انجینئرنگ کورمیں سروس کر رہے تھے۔ ان کا تعلق ملتان شجاع آباد کے ایک نواحی دیہات با گریں سے تھا۔ ابتدائی تعلیم گائوں سے حاصل کی ۔ فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد مختلف منٹینس بٹا لینز میں اپنی خدمات سر انجام دیں۔ حوالدار محمد اسماعیل پوما ہیلی کا پٹر کے بڑے زیرک ماہر تھے ۔ ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن المیزان میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے چکے تھے۔ جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں سائوتھ کیوو سیکٹر میں جاری پاکستانی بریگیڈ کے آپریشن Endeavorمیں حصہ لیا ۔وہ اپنی نجی زندگی میں سادگی پسند، کم گو اوراپنے کام سے کام رکھنے والے شخص تھے۔ ان کے ورثا میں زوجہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
لانس حوالدار محمد جمیل خان شہید نے 2004 میں پاک فوج کی آرٹلری کورمیں ملازمت اختیار کی ۔ ان کا تعلق لکی مروت کے گائوں وانڈا شیر دل سے تھا۔ ابتدائی تعلیم گائوںسے حاصل کی ۔ فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد مختلف محاذوں بشمول دہشت گردی کے خلاف آپریشن المیزان میں اپنی خدمات سر انجام دیں۔حوالدار محمد جمیل خان جنوری 2022  میں جمہوریہ ریپبلک کانگو کے امن مشن میں تعینات ہوئے اور بطور مکینکل ٹرانسپورٹ آفیسر بڑی تندہی سے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے۔ وہ انتہائی ملنسار، خوش طبع ، ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔ ان کے ورثا میں زوجہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
ہمارے ان شہداء کی قر با نیاں بلا شبہ لا زوال ہیں اور ہمیں آج یاد دلا رہی ہیں کہ افواج پاکستان نہ صرف وطنِ عزیز میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ہر لحظہ کوشاں رہتی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مظلوم عوام اور اقوام کو محفوظ بنا نے کے لیے بے لوث اقدامات و خدمات بجا لاتی ہیں اور ملکی وقار کو بلند رکھنے میں بے مثال کردار ادا کرتی ہیں ۔||


مضمون نگار ان دنوں اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں بطورِ یونائیٹڈ نیشنز آبزرور تعینات ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 263مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP