اداریہ

مستحکم پاکستان اور ہماری ذمہ داری

کسی بھی قوم اور ریاست کی سالمیت اور وقار اُس کے اداروں کی مضبوطی اور آئین کی پاسداری کے ساتھ مشروط ہوا کرتا ہے۔ قومیں صدیوں کا سفر طے کرتی ہیں تب کہیں جا کر اُن میں سیاسی، معاشرتی اور سماجی اعتبار سے پختگی دیکھنے میں آتی ہے۔ گویا تہذیبیں بنتے بنتے بنتی ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان کا اب تک کا سفر دیکھا جائے تو جہاں ناکامیاں، اندیشے، چیلنجز دکھائی دیتے ہیں وہیں ان چیلنجز سے نمٹنے اور مشکلات پر قابو پانے کا عزم بھی واضح دکھائی دیتاہے۔ دشمن کی جارحیت ہو یا اندرونی و بیرونی مسائل، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا پاکستان دشمن عناصر کی سازشیں، پاکستان اور اُس کے اداروں کا جواب ہمیشہ بہت مضبوط، مدلل اور شفاف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج الحمد ﷲ پاکستان ایک پُرامن اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ رواں ماہ جولائی میں ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر کے ایسی قیادت سامنے لائیں گے جو صحیح معنوں میں ریاست اور عوام کی خدمت کو شعار بنائے۔

 

چیف آف آرمی سٹاف کی زیرِصدارت ہونے والی حالیہ کور کمانڈر کانفرنس میں بھی اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے ہدایت کی کہ اندرونی سکیورٹی اور ملکی دفاع سے توجہ ہٹائے بغیر الیکشن کے انعقاد میں مکمل معاونت کی جائے۔ یاد رہے کہ فوج یہ معاونت الیکشن کمیشن کی درخواست پر فراہم کرے گی۔ جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان کا خواب شرمندہِ تعبیر ہو سکے۔

 

یہ امر بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اداروں کی کاوشیں تب تک پوری طرح سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتیں جب تک عوام اور ذرائع ابلاغ، اپنی اپنی ذمہ داریاں کماحقہ، ادا نہ کریں۔ زمانہ ِحال میں سوشل میڈیا ایک فعال طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔یہ نہ صرف فوری خبر بلکہ تبادلہ خیال کا ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں ادارتی رکاوٹ یا قدغن نہیں ہیں۔ ہر فرد چاہے وہ کسی بھی عمر کے حصے میں ہو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ شخصی آزادی اور ذمہ داری کا ایک ایسا پیمانہ ہے جس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم اس کے استعمال سے متعلق عوام بالخصوص نوجوان نسل کی باقاعدہ تربیت اور اُنہیں آگہی فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے کہ خدانخواستہ اگر سوشل میڈیا کا اُسی طرح استعمال جاری رہا، جس طرح کہ جاری ہے تو پھر ملک میں ہر کوئی ایک دوسرے کی پگڑی اُچھالنے، تذلیل کرنے، آئینی اداروں کی توہین اور ریاست کے اہم ستونوں کو کمزور کرنے کے درپَے دکھائی دے گا اور معاشرہ اشتعال، مایوسی، تعصب اور نفرت آمیز رویوں کے جال میں پھنس کر رہ جائے گا۔ جب کہ سوشل میڈیا کا مثبت اور مؤثر استعمال اتحاد، اتفاق، رواداری، باہمی محبت اور یگانگت کو فروغ دینے کا باعث بنے گا۔ آج ہمیں بطور ایک ذمہ دار قوم آپس کے چھوٹے موٹے اختلافات اور پسند ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور بہتان تراشی اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے ہی ملک کی بنیادوں کو کمزور کرنے سے اجتناب برتنا ہے کہ یہ پاکستان کسی ایک فرد یا کسی ایک ادارے کا نہیں 20کروڑ عوام کا پاکستان ہے۔ آیئے! اپنے پاکستان کو خوبصورت اور مستحکم بنائیں۔

پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 1979مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP