یوم پاکستان

تحریکِ پاکستان میں ذرائع ابلاغ (اخبارات وجرائد ) کاکردار 

تحریک پاکستان میں اخبارات وجرائد کاکردار انتہائی اہم رہاہے۔بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح میڈیاکی اہمیت کواچھی طرح سمجھتے تھے ۔آپ نے اپنی تقاریر اوربیانات کے ذریعے پاکستان کاپیغام گھرگھرپہنچایا۔قائداعظم کی ہدایت پرہی انگریزی اخبار ڈان کاآغازہوا۔اسی طرح روزنامہ نوائے وقت لاہور، جوابتداء میں ہفت روزہ تھا ،تحریک پاکستان میں مسلمانوں کی آواز بنا۔ 23مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظورہوئی توہندواخبارات وجرائدنے جسے ہندومیڈیا بھی کہاجاتاتھا، قرارداد پاکستان کی مخالفت کی جبکہ مسلم اخبارات وجرائد نے اس قرارداد کی بھرپورحمایت کی۔ ہندواخبارات اورجرائد نے تحریک پاکستان اورقائداعظم کے خلاف مہم شروع کرد ی تھی۔ قائداعظم کی ذرائع ابلاغ پرگہری نظر تھی ۔آپ نے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوؤں اورکانگریس کے مقابلے کے لئے مسلم میڈیا کاہونابہت ضروری ہے ۔برطانیہ میں قیام کے دوران قائداعظم محمد علی جناح برطانوی میڈیا کی اہمیت کودیکھ چکے تھے۔وہ اخبارات وجرائد میں ہونے والی جدت سے بھی آگاہ تھے ۔قائداعظم ذاتی طور پرکتابوں کے ساتھ ساتھ اخبارات کے مطالعے کے بھی بہت شوقین تھے۔ برصغیر میں اخبارات وجرائد کاآغازتوہوگیاتھالیکن مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم تھی ۔ منٹو پارک لاہور میں پیش کی جانے والی قرارداد لاہور جوبعد میں قرارداد پاکستا ن کہلائی ،ہندو میڈیا نے اس کابہت مذاق اڑایا۔  اس بات کوبڑی شدت سے محسوس کیاگیاکہ مسلمانوں کوذرائع ابلاغ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر مسلمانوں کوبیدارنہیں کیاجاسکتا۔
 ہندواخبارات کے متعصبانہ رویّے کے باعث قائداعظم نے فیصلہ کیاکہ اس میدان میں بھی ہندوؤں اورکانگریس کامقابلہ کرناہے۔آپ نے مسلم میڈیا کومضبوط کرنے کے لئے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ۔جوسرمایہ جمع ہوا اس سے ڈان ٹرسٹ قائم کیا۔قائداعظم کی نگرانی میں دہلی سے انگریزی اخبارڈان  26 اکتوبر 1941ء کو مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ہفت روزہ کے طور پرشروع کیاگیا ۔ڈان نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ 1942ء میں یہ روزنامہ بن گیا۔ اس نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیئے۔ڈان اخبارنے جلد ہی اپنی جگہ بنالی ۔ڈان کے بعد کلکتہ سے مارننگ نیوزکاآغازہوا۔مارننگ نیوز ڈھاکہ اورکلکتہ سے بیک وقت شائع ہوتاتھا۔اب اگلا مرحلہ مسلمانوں کی اپنی نیوزایجنسی کا تھا تاکہ مسلم لیگ اورمسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک نیوزایجنسی کے ذریعے خبریں ہندوستان کے تمام میڈیا اوربیرون ملک بھی بھیجی جائیں۔ قائداعظم نے اس پرکافی غورکیامسلمان اکابرین پرزوردیاکہ ایک نیوزایجنسی بنائیں جس کے بعد اورینٹ پریس آف انڈیا کے نام سے ایک نیوزایجنسی بھی قائم کردی گئی۔ کلکتہ سے ''اسٹارآف انڈیا''کے نام سے انگریزی اخبارشروع کیا گیا۔ لاہورسے ملک برکت علی نے نیوٹائمز کے نام سے اخبار شروع کیا۔
قائداعظم محمد علی جناح کی صلاحیتوں پرنظرڈالیں توحیرت ہوتی ہے۔ایک طرف وہ مسلمانوں کے عظیم لیڈرتھے دوسری طرف وہ ایک عظیم انسان اورعظیم صحافی دوست شخصیت بھی ثابت ہوئے۔جنہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اخبارات وجرائد اورخبررساں ادارے بنانے کی تحریک دی اوران کی سرپرستی بھی کی۔ قائداعظم یہ قدم نہ اٹھاتے توشاید تحریک پاکستان کاپیغام گھرگھرنہ پہنچ سکتا، قائداعظم اوران کے ساتھیوں نے اخبارات وجرائد کی ترقی کے لئے بھی دن رات کام کیا۔وہ اس دورمیں اخبارات کو  درپیش مسائل سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔وہ مسلمانوں پرزوردیتے تھے کہ اس شعبے میں بھی آگے آئیں۔
 ریاست کے چوتھے ستون کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کا مؤقف بہت واضح تھا۔12اکتوبر1943ء کو انگریزی اخبارڈان کی پہلی سالگرہ پرقائداعظم نے اپنے پیغام میں کہا''قوم کی ترقی اوربہبود کے لئے صحافت ایک اہم ضرورت ہے۔کیونکہ زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرمیوں کوآگے بڑھانے کے لئے صحافت ہی وہ واحد ذریعہ ہے،جوقوم کی رہنمائی کرتا ہے اوررائے عامہ کی تشکیل کرتا ہے۔''  23 مئی 1944ء کو کشمیر کے صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران قائداعظم نے فرمایا''صحافت ایک عظیم طاقت ہے۔یہ فائدہ بھی پہنچاسکتی ہے اورنقصان بھی۔اگرصحیح طریقے پر چلائی جائے تویہ رائے عامہ کی رہنمائی اورہدایت کافرض انجام دے سکتی ہے۔''
 سینیئرصحافی اورسابق ڈائریکٹرآئی ایس پی آر زیڈاے سلہری مرحوم کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔زیڈاے سلہری تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ رہے ۔انہوں نے قائد کے کئی انٹرویوبھی کئے ۔زیڈاے سلہری نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پرایک کتاب ''میرا قائد''بھی لکھی  وہ اپنی کتاب  کے صفحہ 158 پر لکھتے ہیں ۔'' انہوں (کانگریس )نے ہندوقوم پرست اخبارات کی لگامیں ڈھیلی چھوڑ دیں اورقائداعظم کوبدنام کرنے اورگالیاں دینے کی کھلی چھٹی دے دی ،اس طرح ہندومیڈیا میں سیاہ صحافت کاایک دورشروع ہوگیا۔ہزاروں بلکہ لاکھوں ہندوپریسوںاوراخبارات نے رات دن ایسی کتابیں اخبارات اورپمفلٹ وغیر شائع کرناشروع کردیئے جوقائدکے خلاف دشنام طرازیوں سے بھرے ہوتے تھے''زیڈ اے سلہری مزید لکھتے ہیں کہ ''قرارداد لاہورمنظورہونے کے بعد ہندوستان کے طول وعرض میں یہ سوال بڑی شدومد کے ساتھ پوچھا جانے لگا کہ پاکستان کامطلب کیاہے؟ہندواخبارات اورہندولیڈروں نے اسے ایک جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے ،گاؤماتا کوہلاک کرنے اوربھارت ماتا کے حصے بخرے کرنے کے مترادف قراردیا۔''قائداعظم میڈیا کی اہمیت سے آگاہ تھے۔زیڈاے سلہری لکھتے ہیں ''میں نے قائداعظم محمد علی جناح کو مسلم اخبارات کے لئے رپورٹنگ اورپاکستان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے کی غرض سے انگلینڈجانے کی تجویز پیش کی ،انہوںنے برطانیہ میں جدوجہد آزادی کی تشہیرکی ضرورت سے فوراً اتفاق کیا، وہ کانگریس کے اس پروپیگنڈے کاتوڑ کرنے کی ضرورت سے پوری طرح باخبرتھے''۔زیڈ اے سلہری جب تک لندن میں رہے انہوں نے برطانوی  اخبارات وجرائد میں مسلم لیگ اورپاکستان کاپیغام پہنچایا،انگریزوں کوبتایاکہ پاکستان کاقیام کتناضروری ہے۔
لاہورمیں ایک صحافی حمید نظامی قائداعظم محمدعلی جناح سے بے حد متاثرتھے۔انہوں نے مارچ 1940ء میں  ہفت روزہ نوائے وقت کا آغاز کیا جو بعد میں روزنامہ بنا۔حمیدنظامی کے انتقال کے بعد ان کے بھائی مجیدنظامی نوائے وقت کے ایڈیٹراورپبلشربنے۔راقم جن دنوں روزنامہ نوائے وقت لاہور میں رپورٹر اوراسی اخبار کے ہفت روزہ ندائے ملت کا ایڈیٹر تھا، مجید نظامی سے تحریک پاکستان میں اخبارات وجرائد کے حوالے سے کئی مرتبہ سوال وجواب کی نشست ہوئی ۔مجید نظامی کاکہناتھاکہ قائداعظم محمد علی جناح کواخبارات وجرائد کی اہمیت کااندازہ تھااورانھیںیہ خیال تھاکہ مسلم پریس کومضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔اس دورمیں مسلم پریس اورہندوپریس کی اصطلاح عام تھی۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ڈاکٹرمسکین علی حجازی نے بھی تحریک پاکستان میں اخبارات وجرائد کے حوالے سے کافی کام کیاہے۔وہ بھی کہاکرتے تھے کہ اگرمسلم میڈیا قائداعظم محمد علی جناح کاساتھ نہ دیتاتوتحریک پاکستان کاپیغام گھرگھرپہنچانا ممکن نہیں تھا۔
روزنامہ احسان نے بھی قیام پاکستان میں بے حد اہم کردارادا کیا۔ روزنامہ احسان کی اشاعت 1934ء میں شروع ہوئی۔ اس کے ایڈیٹراس دورکے معروف صحافی مولانامرتضیٰ خان مکیش تھے۔جلد ہی احسان کوتجربہ کار اور ذہین نوجوان صحافیوں کی ٹیم مل گئی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احسان اورنوائے دقت دونوں کے بانی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں بھی شامل رہے اورتحریک پاکستان کے کارکن بھی تھے۔روزنامہ احسان کی اشاعت بھی بہت جلدکئی شہروں سے شروع ہوگئی ۔مسلم اخبارات میں مسلم لیگ اورتحریک پاکستان کی خبریں اوررپورٹس باقاعدگی کے ساتھ اورنمایاں کرکے شائع کی جاتی تھیں۔ مسلم لیگ کے جلسے اورقائداعظم کے بیانات ہمیشہ صفحہ اول کی زینت بنتے۔ تحریک پاکستان کاپیغام بڑے منظم انداز میں مسلمانوں تک پہنچایاگیا۔
1997ء میں قیام پاکستان کے پچاس سال مکمل ہوئے توملک بھرمیں پچاس سالہ تقریبات بڑے جوش وجذبے کے ساتھ منائی گئیں۔میں نے تحریک پاکستان کے کئی کارکنوں سے ملاقات کی اوران کے انٹرویوز کئے ۔ ایک چیز جوان سب نے مجھے بتائی وہ یہ کہ قائداعظم محمدعلی جناح کی ہدایت تھی کہ مسلم لیگ کاپیغام گھرگھرپہنچاناہے۔ اخبارات میں تحریک پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کاکوئی بیان یاخبرشائع ہوتی تومسلم لیگی کارکن وہ اخباریاہفت روزہ لے کرنکل پڑتے اورمسلم آبادیوں میں تقسیم کرتے ۔ایک کارکن نے مجھے بتایاکہ و ہ لاہورسے اخبارلیتا اورسائیکل پرگوجرانولہ ،سیالکوٹ تک وہ اخبارلے کرجاتاتھا ۔اسی طرح ایک کارکن امرتسرمیں تھے وہ اخبار ہر مسلمان کے گھرپہنچاتے۔ایک کارکن نے بتایاکہ وہ اخباراوررسالے لے کرسٹیشن پرچلاجاتا ۔لوگ قائداعظم کے بیانات اوراحکامات کاانتظارکرتے تھے۔ قائداعظم کیاحکم دیتے ہیں ۔یہ ایسے ہی نہیں ہوا قائداعظم کی آواز پر کروڑوں انسان اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے ۔لے کررہیں گے پاکستان، بن کررہے گاپاکستان کانعرہ پورے ہندوستان میں گونج اٹھا۔
 برصغیر میں اردوصحافت کاآغاز 1857ء کی جنگ آزادی سے پہلے ہوگیا تھا ، دلچسپ بات یہ ہے کہ اردواخبارات وجرائد ، ہندی اخبارات وجرائد سے پہلے شائع ہوناشروع ہوگئے تھے۔ معروف اردواخبار'' دہلی اردواخبار'' مولوی سید محمد باقرکاظمی نے1837ء میں دہلی سے شروع کیا۔اس اخبارمیں آزادی کی حمایت میں مضامین اوراداریے شائع ہوتے تھے،مسلمانوں کودرپیش مسائل کے حوالے سے کھل کرلکھاجاتاتھا۔اس اخبارکی اشاعت مسلسل اکیس سال تک جاری رہی،اس اخبارنے ہندوستان کے مسلمانوںکی بیداری میں بہت اہم کردار ادا کیا۔جنگ آزادی شروع ہونے کے بعدبغاوت اور آزادی پسندوں کوپناہ دینے کے جرم میں انگریزوں نے مولوی سید محمد باقرکوپھانسی دیدی ،اس حوالے سے مختلف روایات ہیں ایک روایت یہ ہے کہ انھیں دلی گیٹ کے باہرتوپ کاگولہ داغ کربے دردی سے شہید کردیاگیا۔ انھیں برصغیر کے پہلے شہید صحافی کادرجہ دیاجاتا ہے ۔ان کے بعد ان کے صاحب زادے اردوکے مشہور شاعروادیب مولانامحمد حسین آزاد نے اخبارکوکسی نہ کسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن انگریزوں نے اخبار بند کر دیا۔ مولانامحمدحسین آزاد نے لکھنؤ سے شائع ہونیوالے اخبار''اودھ پنچ'' کے لئے لکھناشروع کیا۔جنگ آزادی کے بعد اردواخبارات وجرائد کے لئے مشکل دور آیا۔انگریزوں نے آزادی پسندوں کاساتھ دینے کے جرم میں بہت سے دوسرے اخبارات وجرائدبھی بند کردیئے ۔جواخبارات شائع ہو رہے تھے وہ بہت سوچ سمجھ کرکچھ لکھتے اورچھاپتے تھے۔
سرسید احمد خان کی صحافتی اورمسلمانوں کے لئے خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔سیدالاخبار،علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اورتہذیب الاخلاق نے اس دورمیں مسلمانوں کودرپیش مسائل کی نشاندہی کی اورمسلمانوں پرزوردیاکہ وہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں ،سرسید احمدخان کے بعد، میڈیا کو اپنے نظریات کے لئے بھرپورطریقے سے استعمال کرنے والی شخصیت مولانا عبدالحلیم شررتھے۔ انہوں نے اپنے جرائدکے ذریعے دوقومی نظریے اورمسلمانوں کی علیحدہ ریاست پرزور دیا ۔
تحریک آزادی میں ہفت روزہ زمیندار کاکردار ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ زمیندار 1903 ء میں مولانا سراج الدین نے شروع کیاتھا۔ زمیندار نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے بھی آوازبلند کی ۔مولاناسراج الدین کی وفات کے بعد ان کے صاحب زادے مولاناظفرعلی خان زمیندارکے ایڈیٹربن گئے۔ 5اکتوبر1911ء کو اسے روزنامہ بنادیاگیا۔مولاناظفرعلی خان کی تحریرمیں تلوارکی کاٹ تھی ۔ مولاناظفرعلی خان کے بارے میں ہی علامہ اقبال نے فرمایاتھاکہ ''ظفرعلی خان کاقلم دین کے بڑے بڑے مجاہدین کی تلوارسے کم نہیں'' اس دورمیں انگریزوں کے خلاف قلم سے تلوارکاکام لیا۔ مولاناظفرعلی خان پریس ایکٹ کے خلاف آوازبلند کرنے برطانیہ بھی گئے۔سیاسی رہنماؤں سے ملے اورمسلمانوں کی آوازان تک پہنچائی۔
ایک اہم شخصیت ملک برکت علی نے انگریزی اخبارنیوٹائمزشروع کیا۔ اس اخبار کادور 1858ء سے 1946ء ہے۔بیسویں صدی کے پریس نے مسلمانوں کے مسائل اور سیاست پرخصوصی توجہ دی۔ مولانا محمد علی جوہر اوران کے اخبار کامریڈ اورہمدرد نے ہندوستان کے مسلمانوں کوسیاسی طورپربیدار کرنے میں بہت  اہم کردار ادا کیا۔
مولانا حسرت موہانی نے یکم جولائی 1903ء کو علی گڑھ سے اپناماہنامہ رسالہ اردوئے معلی شروع کیا۔آزادی کے حق میں لکھنے کے باعث ان کے خلاف بغاوت کامقدمہ درج ہوا اوردوسال قید ہوگئی ۔مولاناحسرت موہانی دوقومی نظریہ کے زبردست حامی تھے۔اورمسلمانوں کی الگ سیاسی تنظیم بھی چاہتے تھے۔جس وقت بہت سے مسلمان رہنماء یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کوسیاست میں حصہ نہیں لیناچاہئے اورانگریزوں کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے مولاناحسرت موہانی کہاکرتے تھے کہ مسلمانوں کوسیاست میں بھی حصہ لیناچاہئے اوراپنی منزل کابھی واضح تعین کرناچاہئے۔مسلم اخبارات وجرائد نے انگریزوں سے آزادی اورقیام پاکستان کے ساتھ عالم اسلام اورامت مسلمہ کودرپیش مسائل پرمسلمانوں کوبیدار کیا۔ان اخبارات وجرائد کی اشاعت اس دور میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔
شاعرمشرق حضرت علامہ اقبال نے 1930 ء  میں اپنے خطبہ الٰہ آباد میں واضح طورپر دوریاستوں کاتصورپیش کیاتھا۔جس کے بعد اخبارات میں مسلمانوں اورہندوؤں کے لئے الگ ریاست کے حوالے سے مضامین اور اداریے شائع ہونے شروع ہوگئے تھے۔مسلمان شدت سے یہ بات محسوس کررہے تھے کہ ان کاایک علیحدہ وطن ہوناچاہئے ۔ قرارداد پاکستان کے بعد برصغیر کامیڈیاواضح طورپر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا تھا ۔یہ تقسیم مذہبی بنیادوں پرتھی ایک طرف ہندو میڈیا تھا اوردوسری طرف مسلم میڈیا۔ہندومیڈیا اکثریت کے باعث پروپیگنڈے میں تیز تھا، لیکن مسلم اخبارات وجرائد نے بھی جلد ہی اپنی اہمیت منوالی ۔اس دورمیں انگریزی،اردو ،ہندی اورمقامی زبانوں میں ہزاروں کی تعداد میں اخبارات وجرائد شائع ہورہے تھے۔ یہ نظر آرہاتھا کہ  اگرانگریز ہندوستان سے چلے گئے تومسلمانوں اورہندوؤں کااکٹھے رہنا ناممکن ہے۔ہندوستان میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔یہ بات مسلم اخبارات وجرائد باربارلکھ رہے تھے کہ دونوں قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں ۔دوسری طرف کانگریسی اخبارات تحریک پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کررہے تھے۔ ہندوؤں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکایاجارہاتھا ۔ایک انگریزی اخبارٹریبیون نے ہندوؤں کومشتعل کرنے کے لئے خبرلگائی ''جگادھری کے بازاروں میں علانیہ گائے کاگوشت بکتاہے،ہندوباوجوداکثریت کے کیوں ساکت (خاموش)  ہے۔''
ہندواخبارات وجرائد کاتعصب دیکھتے ہوئے ہی حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے فیصلہ کیاکہ مسلم اخبارات اورجرائد کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ ہندومیڈیا کامقابلہ کرسکیں۔ قائداعظم اورمسلم لیگ کے دیگررہنماؤں کی سرپرستی کی وجہ سے ہندوستان میں مسلم میڈیا کوفروغ ملااوروہ اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب ہوگئے۔مسلم اخبارات وجرائد کے ذریعے تحریک پاکستان کاپیغام مسلمانوں تک پہنچایاگیا۔تحریک پاکستان میں اخبارات وجرائد کے کردارکوکسی طرح بھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔مسلم اخبارات وجرائد نے کانگریس اورہندومیڈیا کاڈٹ کرمقابلہ کیا۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 451مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP