اداریہ

اداریہ-ناقابلِ تسخیر ہیں ہم

6ستمبر 2015ان حالات میں آیا ہے کہ جب قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جاری آپریشن ضرب عضب کے ثمرات نمایاں ہوتے دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ ضرب عضب کی کاری ضرب کی بدولت دہشت گردوں کا نیٹ ورک غیرمؤثر ہوچکا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ملنے والی گرانقدر کامیابیاں افواجِ پاکستان کے سپُوتوں اور پاکستانی شہریوں کی اُن قربانیوں کی مرہون منت ہیں جو انہوں نے ملک کی سالمیت اور دفاع کے لئے سرانجام دی ہیں۔

ہماری افواج کے دلیر افسر اور جوان آج بھی مختلف محاذوں پر پاکستان دشمنوں اور انتشاری قوتوں کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ ملک کی سلامتی اور بقاء کے لئے قوم کے یہ بیٹے اپنا خون نچھاور کر کے دشمن کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اُن کے جیتے جی پاکستان کی سلامتی کو متزلزل کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا اور اسے ہر جارحیت کی صورت میں منہ کی کھانا پڑے گی۔ بالکل اسی طرح جیسے جنگِ ستمبر میں عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن نے پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی سعی کی لیکن پاک فوج نے دشمن کو نہ صرف بی آر بی نہر پار نہیں کرنے دی بلکہ دشمن کے، موناباؤ اور کھیم کرن سمیت، کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ پاکستانی فوج اور قوم کا جذبۂ حریت دیکھتے ہوئے دشمن نے ایک تیسری بڑی طاقت کو درمیان میں لا کر تاشقند معاہدے کے ذریعے اپنی جان چھڑائی۔

الحمدﷲ قوم آج بھی پینسٹھ کے جذبے سے سرشار ہے اسی لئے قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہے اور اس کی بہادر افواج اندرونی اور بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لئے چوکس ہیں۔ افواجِ پاکستان اور ملکی سلامتی سے متعلق دیگر ادارے نہ صرف دشمن کی جانب سے ملک و قوم کو لاحق خطرات سے آگاہ ہیں بلکہ ان کی سرکوبی کے لئے بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔ افواجِ پاکستان جدید ترین دفاعی سازوسامان سے لیس ایسی پیشہ ورانہ افواج ہیں جن کا مقابلہ دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کی افواج کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ مضبوط دفاعی صلاحیت ہی کسی ملک کے مضبوط دفاع کی ضمانت ہوا کرتی ہے اور پاکستان الحمدﷲ مؤثر ترین دفاعی صلاحیت رکھنے والا ایک ایسا ملک ہے جس کی قوم پوری مضبوطی کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ 65کا جذبہ گویا قوم کے خون میںآج بھی موجزن ہے جو پاکستان کے روشن اور محفوظ مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔ انشاء اﷲ وہ دن دُور نہیں جب وطنِ عزیز میں امن کا دَور دورہ ہوگا اور پاکستان کا پرچم دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں طور پر لہراتا دکھائی دے گا۔

 

یہ تحریر 500مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP