یوم دفاع

پاکستان کے دل لاہور کے تحفظ کا مثالی فضائی معرکہ

'پش بندر سنگھ'  اور' روی راکھی' اپنی کتاب''فضائیہ سائیکی آف پاکستان ائر فورس'' کے صفحہ نمبر33 پر لکھتے ہیں۔
''بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ستمبر65 کی جنگ میں بھارت کو شکست دینے میں پاک فضائیہ نے سب سے بڑا کردار ادا کیا اور اس میں فضائیہ کے 19 سکوارڈرن کا کردار بڑا خاص رہا، ورنہ انڈین آرمی بی آر بی نہر عبور کرکے لاہور میں داخل ہو جاتی''
اسی طرح پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان نے بھی یہ اقرار کرتے ہوئے کہا تھا '' ایئر کموڈور سجاد حیدر ،ریٹائرڈ (19 سکواڈرن کے کمانڈر اور 65 میںسکواڈرن لیڈر تھے)  اُن چند بہادر وں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 65 کی جنگ میں پاکستان کو بچایا۔''
ستمبر65پاک بھارت جنگ کے دوران6 ستمبرکو پاک فضائیہ کے19 سکواڈرن نے پشاور سے ایک ہی دن میں دو تاریخی فضائی معرکے لڑے، جن میں سے پہلے فضائی حربی معرکے کا تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے۔
 بقائے لاہور کا فضائی معرکہ
 4ستمبر1965 کا واقعہ ہے کہ سکواڈرن19 کے جری ہواباز اپنے لیڈر سکواڈرن لیڈر سید سجاد حیدر (نک نیم نوزی) کے ہمراہ  زیرِ زمین بنکر میں پشاور سٹیشن(بیس) پرہر دم تیار بیٹھے تھے کہ اچانک سینیئر ایئر ٹریفک کنٹرولر نے سکواڈرن کمانڈر کو اطلاع دی کہ بہت جلدپاک فضائیہ کے نئے سربراہ ایئر مارشل نور خان پشاور ہوائی اڈے پر لینڈ کرنے والے ہیں۔ لہٰذا سجاد حیدر استقبال کے لئے فوراً دوڑ تے ہوئے اُس مقام پر گئے جہاںC-130نے لینڈ ہونا تھا۔ چند ہی لمحوں میں ایئر مارشل نور خان اپنے سٹاف کے ساتھ جہاز سے باہر تشریف لائے۔ انہوں نے سجاد حیدر کا چہرہ پڑھ لیا تھا لہٰذا گرم جوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا کہ جنگی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمہارے حوصلے کتنے بلند ہیں۔ سر! ہمارے حوصلے تو پست ترین سطح تک گِر چکے ہیں۔ یہ جواب سُن کر ایئر چیف کے پیچھے کھڑے ہوئے گروپ کیپٹن ایف ایس حسین کا چہرہ خوشی سے کھِل اٹھا۔ کیونکہ وہ سید سجاد حیدر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مزاج سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پا ک فضائیہ کے ہواباز اپنے دل کی بات بے تکلف ہو کر اپنے ایئر چیف سے بیان کردیتے ہیں اور ایئر چیف بھی ایسی گفتگو کو اچھی روایت قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ایئر چیف نور خان نے حوصلے پست ہونے کی وجہ دریافت کی تو سجاد حیدر نے دل کی بات کُھل کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ تما م قابلِ قدر مشنزسرگودھا کو دیئے جا رہے ہیں اور غالباً میرے سکواڈرن کو چھوٹے چھوٹے مشنز کے لئے وقف کیا جارہا ہے۔ یہ سُن کر ایئر چیف نے ایف ایس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ سجاد حیدر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ہمیں سکواڈرن 19 کے ہوا بازوں کی صلاحیتوں سے فوری فائدہ اٹھانا چاہئے۔  یہ قبولیت ِ دعا کا وہ لمحہ تھا کہ سجاد حیدر کو اپنی اور اپنے سکواڈرن کے ہوا بازوں کی خوش قسمتی پر فخر محسوس ہوا ۔ اچانک 6 ستمبر کی صبح وہ ہوا باز جو گزشتہ ہفتے سے جاگ جاگ کر(اے ڈی اے) ایئر ڈیفنس الرٹ ڈیوٹیاں انجام دے رہے تھے، اُن میں سے ایک پائلٹ کو  فون پر ایک اہم پیغام موصول ہوا ، جسے اُس نے فوری طور پر ایک کاغذ کے پُرزے پر تحریرکیا اور سجاد حیدر کے سامنے لے جا کر اس طرح لہرایا جیسے کوئی بہت بڑا اعزاز حاصل ہوگیا ہو اور خوشی سے چلاتے ہوئے کہاکہ سر ہمیں اپنی زندگی کا مقصد حاصل ہوگیا پیغام یہ تھا کہ چھ عدد سیبر جہاز''جَسار'' پل کے شرق میں دشمن کی آرٹلری گنز کو تباہ کرنے کے لئے فوری طور پر روانہ ہو جائیں۔'' سکواڈرن نمبر19 کے لئے یہ ایک افتتاحی فضائی معرکہ تھا جو اُنہیں ہر صورت میں بہترین انداز میں سر انجام دینا تھا۔ جن چھ ہوابازوں کو سیدسجاد حیدر نے مشن کے لئے نامزد کیا وہ بڑے ہشاش بشاش نظر آرہے تھے جبکہ باقی افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ فارمیشن کا کال سائن تھا، زینبوز(Zanbos) اور اُن چھ خوش قسمت ہوا بازوں کے نام یہ ہیں سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر، فلائٹ لیفٹیننٹ مو اکبر (Moنک نیم) ارشد سمیع ، دلاور حسین، غنی اکبر اور فلائنگ آفیسر خالد لطیف۔
یہا ں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ فضا سے فضا میں یا فضا سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے کے لئے پائلٹ کو بڑی باریکی اور تیزی سے حساب لگانا پڑتا ہے جس کے لئے بے پناہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور پاک فضائیہ کی اعلیٰ قیادت ہوا بازوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لئے ان تمام امور پر ہمہ وقت زور دیتی ہے جب سجاد اپنی ٹیم کے ہمراہ لڑاکا طیاروں کے قریب پہنچے تو اُنہیں یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ سیبر جہازوں میں ہائی ولاسٹی فضائی راکٹس کے بجائے 5 انچ والے راکٹس لوڈ کئے جارہے ہیں۔ ان راکٹس کو فائر کرنے کے لئے اتنی ہی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس قدر ایک ایئر گن سے پچاس گزکے فاصلے پر اڑتی ہوئی چڑیا کو شکار کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔ راکٹ فائر کرنے سے پہلے ہوا باز کو دیکھنا پڑتا ہے، علاقے میں ہوا کس رفتار سے چل رہی ہے وہاں کا درجۂ حرارت کیا ہے ، حبس(Humidity) کس قدر ہے، راکٹ کا برن آئوٹ وقت کتنا ہے اور لانچ کرنے کے بعد راکٹ کو اپنے ہدف پر پہنچنے تک اُسے کشش ثقل(gravity) کتنا آگے یا پیچھے کرسکتی ہے۔ لہٰذا ماہرین کا محتاط اندازہ یہ ہے کہ اگر راکٹ کو تین ہزار فٹ سے فائر کیا جائے تو غلطی کی گنجائش دس فٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایک پائلٹ اگر حالتِ امن کے دوران تمام ڈیٹاگن سائٹ میں صحیح طریقے سے فیڈ کرے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحتوں کو استعمال کرتے ہوئے راکٹ کو 10-20 فٹ گنجائش کے ساتھ نشانے پر داغ دے تو اُسے اعلیٰ کارکردگی والا ہوا باز تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تصور کیجئے جنگی حالات میں جب زمین سے آرٹلری (توپ خانہ) ہدف کو بچانے کے لئے اس پر مسلسل فائر سے چھتری بنائے ہوئے ہو اور ساتھ ہی یہ خطرہ بھی موجود ہو کہ کسی بھی طرف سے دشمن کے جہاز نمودار ہو کر آپ کو شکار کرنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں تو اُس صورت میں ہوا بازوں کے لئے اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھتے ہوئے اپنے ہدف کو نشانہ بنانا کس قدر مشکل اورجرأت آزما کام ہوگا۔
درپیش نازک صورت حال میں زینبوز فارمیشن کے پاس صرف ایک انتخاب باقی بچا تھا کہ وہ تمام حفاظتی ترجیحات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے مشن کو کامیاب بنائیں اور کسی بھی لمحے شہادت کے منصبِ اعلیٰ  پر فائز ہونے کو اپنی خوش قسمتی سمجھیں۔ کیونکہ آج تک پائلٹس2.75 انچ والے راکٹس استعمال کرتے تھے اور اسی کے عادی ہو چکے تھے اور یہ5 انچ والے  راکٹس پہلے کے مقابلے میں 90 فیصد زیادہ وزن اور حجم رکھتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ٹیم لیڈر سجاد نے ہدایات جاری کیں کہ ہم ان راکٹس کو اپنے ہدف کے نہایت قریب جا کر فائر کریں گے تاکہ کشش ثقل کم سے کم متاثر کرے۔ پہلا نشانہ لیڈر خود لگائے گا اور باقی ہوا باز اُس کے نتیجے کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری تصحیح عمل میں لائیں گے۔
چھ ستمبر1965 صبح نو بجے زینبوز فارمیشن اپنے ٹارگٹ کے لئے ہوا میں بلند ہوئی جو واہگہ سے پار انڈین آرمر نہیں تھا جیساکہ زیادہ تاریخی کتب میں درج کیا گیا ہے بلکہ سیالکوٹ کے نزدیک آرٹلری (توپ خانہ) تھا اور یہ سیبرF-86s کے فیول کے لحاظ سے ان کے کمبیٹ ریڈیئس کاآخر ی سِرا بنتا ہے کیونکہ زینبوز فارمیشن اپنے ہوم سٹیشن پشاور سے بردوش ہوا ہوئی تھی۔ ٹارگٹ تک پہنچنے کے لئے لیڈرنےHi- LO- Hi پروفائل کا انتخاب کیا۔ کچھ ہی دیر میں ٹیم کے تمام ممبران 25,000فٹ کی بلندی پر اپنے لیڈرکے ساتھ مناسب فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ایسے اُڑ رہے تھے جیسے پانچ انگلیاں کھُلے انداز میں تیزی سے اپنے شکار کو  دبوچنے کے لئے بڑھ رہی ہوں۔ یہ تمام ہوا بازوں کی زندگی کا تاریخی دن تھا یعنی فضائی حربی نازو انداز دکھانے کا یادگاراور خوبصورت ترین دن۔ گوجرانوالہ کے نزدیک دشمن کے ریڈار کو چکمہ دینے کے لئے تمام طیارے بلندی کو کم کرتے ہوئے اب زمین سے صرف پچاس فٹ کی اونچائی پر محوِ پرواز تھے۔ یعنی درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے انتہائی محتاط انداز میں خطرناک حد تک نیچی پرواز کررہے تھے، جب فارمیشن ''جسار'' کے قریب اپنے ''آئی پی'' (Initial Point) پر پہنچی اور اب وہاں سے انہیں اپنے ہدف پر فیصلہ کن وار کرنا تھا کہ اچانک بیک وقت چھ جہازوں کے کاک پٹس میں ریڈیوپر ''ایئر ڈیفنس ہیڈکوارٹر'' میں بیٹھے ہوئے سینئر ایئر سٹاف آفیسر، ایئر کموڈور مسرور حسین کی آواز گونجی''سجاد حیدر!  آپ کا ٹارگٹ تبدیل کیا جاتا ہے اور اب آپ فوری طور پر لاہور کے قریب اٹاری گائوں پہنچیں ، جہاں دشمن کے ٹینک پاکستان میں گھس آئے ہیں اور وہ لاہور کی جانب پیش قدمی شروع کرچکے ہیں۔'' سجاد حیدر کا کہنا ہے کہ اُنہیں مسرور حسین کی آوازسُن کر ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے5000 واٹس کا کرنٹ اُن کے جسم میں دوڑا دیا ہو کہ عیار دشمن نے پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کردیا ہے اور کچھ ایسا ہی احوال باقی ٹیم ممبران کا بھی تھا۔ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ بیٹل فارمیشن (Battle Formation) میں عدو پر جھپٹنے کے لئے بے تاب نظر آرہے تھے مگر سب کے سب اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے9:40 منٹس پر امرتسر لاہور روڈ  کے اوپر سے  شیروں کی طرح دھاڑتے ہوئے سیبر جہازوں میں ایسے فراٹے بھرتے گزر رہے تھے کہ نیچے نظر آنے والے لاہوریوں کے دل بھی گرمیٔ جذبات سے پرجوش ہوتے جارہے تھے۔ اچانک لیڈر نے دیکھا کہ آسمان اینٹی کرافٹ گنز کے شیلز سے روشن ہوگیا ہے یہ دراصل اس حقیقت کا ثبوت تھا کہ فارمیشن امرتسر ریڈار پر پہنچ چکی ہے اور اُس کے دفاع کے لئے توپیں گولے برسا رہی ہیں۔ یہ بھی ہوا بازوں کی زندگی کا ناقابلِ فراموش نظارہ تھا لہٰذا سارے طیارے 180 ڈگری گھوم کر واپس پلٹے اور اب وہ زگ زیگ انداز میں اُڑتے ہوئے دشمن کو تلاش کررہے تھے اور ساتھ توقع کررہے تھے کہ بھارتی فضائیہ کے جہاز بھی جلد ہم تک پہنچنے والے ہوں گے، اچانک لیڈر کو نظر آیا کہ بے شمار ٹینک اور آرمرڈ وہیکلز کناروں سے روڈ پر چڑھائی کرتے آرہے ہیں۔ یہ نشانات 3-4میل شمال کی جانب سے آتے ہوئے نظر آرہے تھے، جنہیں دیکھ کر لیڈر نے کہا '' پاکستانی آرمرڈ ٹینکس ہماری نظروں کے سامنے ہیں چلیں انہیں سلامی دیتے ہیں'' اور جیسے ہی سجاد حیدر نے اپنے جہاز کو اُلٹا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ ٹینک جنہیں وہ اپنا سمجھ رہے تھے اُن پر بھارتی سفیرون رائونڈ لز دکھائی دے رہے تھے اب لیڈر نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا یہ بھارتی ٹینک ہیں آئو ان سب کو پاک سرزمین پر قدم رکھنے کا مزہ چکھاتے ہیں۔ فوری طور پر آرم سوئچز کو  ہاٹ کردیا جائے اور دو دو راکٹس فائر کئے جائیں۔ آج وہ تاریخی دن تھا جس کے لئے ہوابازوں نے بہترین انداز سے تیاری کی ہوئی تھی۔ زینبو لیڈر نے کہا 90 کے زاویے پر جو ٹینک ہے وہ اُس کو ہدف بنانے جارہا ہے۔ سب اُس امپیکٹ (impact)کو دیکھیں جو راکٹ فائر کرنے کے بعد اُس کے جہاز پر اثر انداز ہو۔ اب لیڈر کا کہنا ہے کہ شکر الحمدﷲ اُس کے حملے نے اُس کی ساکھ کو بہتر بنایا اور یہ بہت ضروری تھا تاکہ باقی پانچ ممبران بھی اُسی طرح حملہ آور ہوں اور بہترین نتائج کا مظاہرہ کریں۔ لیڈر کی گن سائٹ کا نچلا ڈائمنڈ جیسے ہی ہدف سے صرف ایک انچ دور رہ گیا تو لیڈر نے راکٹس کا پہلا جوڑا فائر کردیا۔ اس تگ و دو میں لیڈر ٹینک کے اتنا قریب آچکا تھا کہ اُس کو بہت تیزی سے اپنا پینترا بدلنا پڑا اور خود کو ٹینک سے دور ہٹانا پڑا۔ دونوں راکٹ سیدھے جاکر ٹینک کی باڈی میں پیوست ہوگئے۔فوراً ہی زینبو3کی آواز آئی، لیڈر 'ڈی ایچ' یعنی تم نے ٹینک کو ڈائریکٹ ہٹ کیا ہے اور تمہارے راکٹ لگتے ہی ٹینک آگ کا گولہ بن کر ہوا کے دوش پر بلند ہو چکاہے اور ایسا اس لئے ہوا کہ یہ ٹینک ایمونیشن اور ڈیزل سے بھرے ہوئے تھے جنہیں ابھی استعمال ہونا تھا۔ ٹینک کاہٹ ہونے کے بعد بھڑک کر پگھلتے ہوئے  ایک بہت بڑے فٹ بال کی طرح ہوا میں بلند ہو جانا، قریب آئے ہوئے جہاز کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتا تھا۔ اور اب ہمارے تمام ہوا باز باری باری یہ خطرہ مول لے رہے تھے۔ یہ ایسے ہی جیسے اینٹی کرافٹ کے بیراج سے ہوا باز ردِّ بلا کا وظیفہ ورد کرتے ہوئے نکل رہا ہو۔ جب لیڈر نے جہاز کو اوپر کھینچتے ہوئے اپنا شانوں پر سے اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر اُس کی طبیعت  خوش ہوگئی کہ زینبو 3 نے بھی ڈی ایچ یعنی ٹینک کو براہِ راست ہٹ کیا تھا۔ ٹینک کا آگ کا گولہ بن کر بردوشِ ہوا ہو جانا نہ بھولنے والا منظر تھا جب لیڈر دوسرے حملے کے لئے پلٹ کر واپس آرہا تھا تو اُسے بجا طور پر خیال آیا کہ دشمن کے جہاز بھی اس سمت سے آکر ہم پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں، جیسا کہ چار ویمپائر طیاروں نے رفیقی فارمیشن کے جہازوں کو گرا دیا تھا۔ لہٰذا لیڈر نے زینبوز 5 اور6 کو7000 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے گردو نواح سے کڑی نگرانی کرنے کے لئے کہا۔ اسی دوران سکواڈرن لیڈر مڈل کوٹ اپنا سٹار فائٹرF-104 لے کر آگئے۔ سیبرفارمیشن کی حفاظت کے لئے یہ ریڈار پر بیٹھے ہوئے ایئر ڈیفنس کنٹرولر کا بڑا اچھا، بروقت اور انتہائی قابلِ ستائش فیصلہ تھا۔ بھارتی ہوابازوں پرF-104 سٹارفائٹر کی بڑی دھاک بیٹھ چکی تھی اور وہ اس کی برق رفتاری کے سامنے دم دبا کر بھاگ جاتے تھے۔ اس لئے اب لیڈرنے  زینبوز 5اور 6 کو دوبارہ لڑائی میں شامل ہو کر بھارتی ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے لئے کہا۔ لیڈر کو ایک جانب سے کیریئر وہیکل نظر آئی جو آرٹلری کے مارٹرز اٹھائے ہوئے جارہی تھی لہٰذالیڈر نے پھرتی سے اُسے نشانہ بنایا اور ظاہر ہے چار حملوں کے بعد لیڈر کے راکٹس ختم ہو چکے تھے اتنے میں زنیبو6 کی کال آئی کہ اُس کے بیرونی ٹینکس کا فیول ختم ہوچکا ہے اور اندرونی فیول بھی کافی حد تک استعمال ہو چکا ہے۔ لہٰذا  لیڈر نے فوراً ہدایات جاری کیں کہ پریشان نہ ہوں، ہم اب پشاور کے بجائے سرگودھا لینڈ کریں گے مگر جتنے ٹینک اور گاڑیاں نظر آرہی ہیں سب کو تباہ کردو۔ اگلے حملے کے لئے لیڈر نے ٹینک کو چھ5انچ کلیبر گن سے نشانہ بنایا اور یہ نشانہ بھی ٹینک کی انجن گرلز (Engine Grills) پر لگا جو کہ اُس کا سب سے نازک اور حساس حصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا باقی فارمیشن  ممبران نے بھی ٹینکوں کے ان ہی نازک حصوں پر حملہ کیا۔ لیڈر کا آخری شکار ایک جیپ تھی جس پر جھنڈا لگا ہوا تھا جسے وہ روڈ کی سائیڈ پر لہراتا جارہا تھا اور سا تھ ساتھ جہاز کا نشانہ بننے سے بچنے کی کوشش بھی کررہا تھا چلتی ہوئی جیپ سے دو بھارتیوں نے چھلانگ لگا دی اور چند سیکنڈبعد چھ5 انچ کی گولیاں اُس جیپ کو چھلنی کرچکی تھیں۔ کلوز سپورٹ مشنزمیں زیادہ سے زیادہ دو حملو ں کی حد سے آگے نہیں بڑھا جاتا کیونکہ دشمن کے زمینی ڈیفنس کی کارروائیاں جہاز کو تباہ کر سکتی ہیں لیکن لیڈر نے جب اپنے ہوا بازوں کو دشمن کے ٹینکوں کو عمدہ طریقے سے شکار کرتے ہوئے دیکھا تو 16-17 منٹ تک مسلسل اس مشغلے میں مصروف رکھا جو کہ فضائی حربی معرکے کا ایک شاندار تاریخی ریکارڈ ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ یہ ہوا باز وہ تھے جن سے شاہین اورعقاب بھی شکار کرنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ لیڈر نے جب دیکھا جہازوں کا تمام اسلحہ استعمال ہو چکا اور فیول بھی صرف اتنا باقی بچا ہے کہ وہ سرگودھا تک واپس پہنچ سکتے ہیں تولیڈر نے فارمیشن کو واپسی کا رُخ اختیار کرنے کے لئے کہا جبکہ میدانِ جنگ میں جلتے ہوئے ٹینک دشمن کی حزیمت و شکست کا مرثیہ پڑھ رہے تھے۔ اس مشن میں فارمیشن لیڈر سید سجاد حیدر نے قدم قدم پر عمدہ قیادت کے جوہر دکھائے۔ 
پاک بھارت ستمبر65کے معرکے میںپاک آرمی کے ڈویژن نمبر10 اور تھرڈ بلوچ کے مٹھی بھر آفیسرز اور جوانوں نے جس طرح سے لاہور کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کے ٹینکوں کی یلغار کو صبح تک روکے رکھااُسے بھی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی اُن سب کی جرأت و شجاعت پاک فوج کے ہر جوان کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ یہ سب آفیسرز اور جوان صبح ِصادق ساڑھے تین بجے سے لے کر صبح ساڑھے نو بجے تک دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے اور اپنے لہو کے شعلوں سے دشمن کے ناپاک عزائم کو برق تپاں بن کر خاکستر بناتے رہے۔ اب اگر نمبر19 سکواڈرن کے ہواباز اِن ٹینکوں کو تباہ نہ کرتے تو وہ اگلے پندرہ منٹ میں لاہور پہنچ سکتے تھے، اس لئے زینبوز فارمیشن کے اس فضائی معرکہ کو بجا طور پر حفاظت ِ لاہور کا معرکہ کہا جاسکتا ہے۔ واہگہ کے نزدیک پاک آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کا ایک قبرستان ہے، جہاں4x4 فٹ کی ایک یادگار بنائی گئی ہے۔ وہاں اُن تمام  شہداء کے نام کندہ ہیں جو تحفظ لاہور کی خاطر قربان ہوگئے۔ ڈویژن 10 کی ستمبر65 کی جنگی دستاویزات اور دشمن کی مرتب کردہ کتابوں میں بھی نمبر19 سکواڈرن کے ہوائی معرکے کو سراہا گیا لیکن حیرت ہے ملکی و قومی سطح پر اس معرکے کو قابلِ قدر پذیرائی نہیں ملی۔
جان فرکر(Jhon Fricker) زینبوز فارمیشن کے اس خصوصی مشن کا تذکرہ تفصیلی طور پر اپنی کتاب '' ایئر بیٹل فار پاکستان'' میں کرتا ہے اور پاک فضائیہ کا یہ یاد گار مشن بھارت میں شائع شدہ کتابوں میں بھی موجود ہے۔ انڈین اکائونٹ، انڈوپاک ایئر وار آف1965 میں کچھ اس انداز سے تحریر کرتا ہے۔
'' انڈین فارمیشنز جو جی ٹی روڈ کے ساتھ لاہور کی طرف پیش قدمی کررہی تھی اُن پر سکواڈرن لیڈر ایس ایس نوزی حیدر نے صبح تقریباً 9 بج کر تیس منٹ پر چھ سیبر F- 86s طیاروں سے ایسا شدید حملہ کیا کہ 3Jat کی پیش قدمی رُک گئی۔ بٹالین ڈویژن جس کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل ڈیسمنڈ حیدی کررہے تھے اُس پر پاک فضائیہ کے چھ سیبر طیاروںنے اتنی گولیاں اور راکٹس برسائے کہ یونٹ کی تمام RCL گنز تباہ ہوگئیں۔ حیدی کی مدد کے لئے بھیجے گئے شرمن ٹینکوں کے گروپ کابھی سیبرز نے صفایا کردیا۔ اس طرح 3Jat بٹالین ڈویژن کو بری طرح پسپا ہونا پڑا۔ بھارت کے میجر جنرل لچھمن سنگھ اپنی کتاب"Missed  Opportunities" میں صفحہ نمبر206 پر رقم طراز ہیں کہ 3Jat"کی چھ میں سے پانچ RCL گنز بالکل تباہ ہو گئیں اس کے علاوہ تین مارٹر اپنے کیریئرز اور مین پاور کے ساتھ پاک فضائیہ کے چھ سیبر طیاروں کے حملے میں مکمل طور پر نیست و نابود ہو گئے۔ اسی طرح بھارت کے بے شمار شرمن ٹینک بھی تباہ و برباد کر دیئے گئے۔ 19سکواڈرن کے ہوا باز ٹینکوں پر بار بار اس طرح حملہ آور ہو رہے تھے جیسے انہیں اپنی جانوں کی قطعاً کوئی پروا نہ ہو۔ " ڈویژن کمانڈر جنرل نرندرا پرشاد  صرف ایک جراب اور جوتا پہن کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اسی طرح سیکنڈ ان کمانڈ بھی سائیکل پر بیٹھ کر میدانِ جنگ سے فرار ہوگیا۔ جنگ کے بعد دونوں کا کورٹ مارشل کرکے نوکری سے ڈس مس کردیا گیا۔چھ ستمبر کو19 سکواڈرن نے صرف دس جہازوں کے ساتھ 18 اُڑانیں بھریں اور سترہ روز جنگ میں500 اڑانوں کا سنگِ میل عبور کیا جس کے حصول کے لئے انجینئرنگ آفیسر سکواڈرن لیڈر عبدالغفور خان اور اُن کے عملے کی کارکردگی مثالی رہی۔
سرگودھا بیس پر لینڈنگ کے وقت زینبوز فارمیشن کوری فیول کیا گیا گوکہ لیڈر اور ٹیم ممبران دوبارہ میدان جنگ میں جانے کے متمنی تھے مگر اُن کو واپس پشاور بھیج دیاگیا جہاں ہر کسی نے بڑے والہانہ انداز میں اپنے ہوابازوں کا استقبال کیا اور شکرانے کے نوافل ادا کئے ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے سکواڈرن لیڈر سیدسجاد حیدر سے خود فون پر رابطہ کرکے حملے کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کی اور زنیبوز فارمیشن کی کاکرردگی کو بے انتہا سراہا۔ فارمیشن لیڈر سکواڈرن نے ایئر چیف سے5انچ راکٹس کے استعمال کے فیصلے سے اختلاف کا اظہار بھی کیا۔19 سکواڈرن کے500 میں سے پانچ مشنز فضائی حربی تاریخ میں ہمیشہ یاد گار رہیں گے جس میں 19سکواڈرن کے ہوابازوں نے لاہور کا دفاع، بھارتی ریڈاروں کو ناکارہ بنانا اور ان کے ہوائی اڈوںپر تباہ کن حملے شامل ہیں۔ خاص طور پر پٹھانکوٹ پر کھڑے ہوئے جہازوں کی تباہی دشمن کو ہمیشہ کھٹکتی رہے گی۔   جنگ کے بعد زینبوز فارمیشن کے چھ میں سے پانچ ہوابازوں کو ستارئہ جرأت (SJ) سے نوازا گیا۔ ||

یہ تحریر 576مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP