اداریہ

رواداری اور باہمی یکجہتی کاسال - اداریہ

معاشرے باہمی محبت کی بناء پر پروان چڑھتے ہیں۔ رواداری اور برداشت کسی قوم کا اثاثہ ہوا کرتی ہیں، جن قوموں نے ان اوصاف کا دامن تھامے رکھا آج وہ دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور اُن کے معاشرے مثالی گردانے جاتے ہیں۔ جبکہ باہمی منافرت اور شدت کو فروغ دینے والی اقوام پستی میں دھنستی  چلی جاتی ، اور قابلِ رحم حالت تک جاپہنچتی ہیں۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو باہمی محبت، اخوت اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے لیکن شومیٔ قسمت کہ متعدد مسلم معاشروں نے ان زریں اصولوں کی پیروی نہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کا شمار ترقی یافتہ ، مضبوط اور مثالی معاشروں میں نہیں ہوتا۔ خود وطنِ عزیز پاکستان میں ماضی کے ادوار میں مذہب کی بنیاد پر منافرت کی حوصلہ افزائی کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں فرقہ واریت ، اشتعال انگیزی ، نفرت اور شدت پسندی کو فروغ ملا۔اس رویے کے خاتمے کے لئے قوم گزشتہ 17 برس سے جنگ لڑ رہی ہے۔یہ منافرت اس قوم کے 80 ہزار شہریوں کی جانیں لے چکی ہے۔  الحمدﷲ!  ہماری قوم اور افواج کافی حد تک اس عفریت پر قابو پانے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ تاہم ابھی منزل کی جانب سفر جاری ہے اور کوشش اس امر کی ہے کہ پاکستانی معاشرہ بھی دنیا کے اُن معاشروں جیسا بن پائے جس میں دین  اور مذہب کی بُنیاد پر منافرت پھیلانے سے گریز کیا جاتا ہے۔

 مذہب اسلام کی تعلیمات اخوت و بھائی چارے کی بنیا د پر ہیں۔ معاشرے اس کے بغیر چل ہی نہیں سکتے۔ ہماری قومی اور عسکری قیادت بھی ملک میں باہمی مروت اور یکجہتی کے لئے کوشاں ہے۔ اسی جذبے کے تحت چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے رواں سال کرسمس کے موقع پر ایک مقامی چرچ میں پاکستان کی مسیحی برادری کے ساتھ کیک کاٹا اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ آرمی چیف گزشتہ برس بھی کرسمس کے موقع پر مسیحی برداری کی خوشیوں میں شریک ہوئے تھے۔ آئینِ پاکستان بھی ملک میں مقیم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ اسی برس نومبر میں دنیا بھر اور پاکستان میں مقیم سکھ برادری کے لئے کرتارپور راہداری کھولنے کی تقریب کا انعقاد ہوا جس پر سکھ برداری نے یقینا خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے جہاں پاکستانی سکھ برداری کو اطمینان ملا وہاں پاکستان کے حوالے سے دُنیاکو بھی یہ پیغام گیا ہے کہ وہ مذہب، فرقہ بندی، اور منافرت کا نہیں بلکہ اخوت، باہمی ہم آہنگی اور معاشرتی مساوات کا خواہاں ہے۔

پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور جنوبی ایشیائی  خطے سمیت دنیا بھر میں امن کے قیام کے لئے کاوشوں کا حصہ ہے اور رہے گا۔ گویا پاکستان کا وجود ہی امن کی بنیاد پر عمل میں آیاہے۔ قائداعظم محمدعلی جناح نے کلکتہ میں 17 اپریل 1938 کو ایک اجلاس میں تحریکِ پاکستان  اور مسلم لیگ کے مقصد کو واضح کر تے ہوئے فرمایا: ''جدوجہد صرف مسلمانوں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس کا دسترخوان ہر فرقے کے لئے بچھا ہوا ہے اور وہ ہر فرقے کے حقوق کے تحفظ کو اپنا فرضِ اولین سمجھتی ہے۔''اسی طرح بانی ٔ پاکستان نے کراچی بار ایسوشی ایشن سے 25جنوری 1948 کو اپنے خطاب میں فرمایا:  '' اسلام اور اس کی بلند نظری نے جمہوریت سکھائی ہے۔ اسلام نے مساوات سکھائی ہے۔ ہر شخص سے انصاف اور رواداری کا حکم دیا ہے۔ کسی بھی شخص کے لئے کیا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے انصاف، رواداری اور دیانتداری کے اعلیٰ معیار پر مبنی جمہوریت، مساوات اور آزادی سے گھبرائے۔ ''

الغرض ہمیں من حیث القوم باہمی اخوت ، رواداری ، اعتدال اور برداشت کے جذبوں کو فروغ دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور اس معاشرے کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانا ہے کہ عظیم تر پاکستان ہی ہماری زندگیوں کا اولین مقصد ہونا چاہئے۔آیئے سال2019 کو رواداری اور باہمی یکجہتی کے سال کے طور پر منائیں اورملکی ترقی و سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔                                                                         

پاکستان پائندہ باد!!! 

 

                                               

یہ تحریر 798مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP