متفرقات

اُمیدوں اور امنگوں سے بھرا نیا سال

ہر سال کیلنڈر کے بارہ ماہ گزر جانے کے بعد آخری چند منٹ اور چند سیکنڈ نہایت تجسس بھرے انتظار کے وہ لمحات ہوتے ہیں کہ رات بارہ بج جانے پر وقت کی راہوں پہ چل کرآنے والے نئے سال کا شاندار استقبال اور آغاز کیا جاتا ہے۔

 

ہر قوم ایک نیا عزم لے کرنئے سال کا استقبال کرتی ہے۔ دنیا بھر میں کہیں آتش بازیاں آسمان چمکاتی ہیں تو کہیں گانا بجانا اور نیوایئررائمز ماحول سجاتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بہت سے افراد نئے سال سے متعلقہ امیدوں سے بھرے دامن کے ساتھ ان کو پورا کرنے میں کوشاں ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے نوجوان‘ مستقبل کے معمار سب سے زیادہ پر عزم اور پرجوش نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئے گئے انٹرویوز میںیہ بات واضح نظر آتی ہے۔

 

میڈیا سٹوڈنٹ علی حسن

(Honour at Pixel Art)

بدلتے حالات میں آنے والے سال سے بہت پراُمید ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ نیا سال گزشت سالوں کی نسبت زیادہ پرامن ہو گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہماری فلم انڈسٹری خوب ترقی کرے اور پروان چڑھے تاکہ میڈیا کے طلباء کو بہترین مواقع ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں اپنے

Pixel Art Studio

کو بزنس کی شکل دے کر پوری دنیا میں پاکستان کی مثبت تصویر پیش کر کے بحیثیت پاکستانی بھرپور کردار ادا کروں گا۔‘

 

یوں ہی فاطمہ بھی فن میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں اس سال میں پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی جانی پہچانی ثقافتوں کو مرتب کر کے ایک ایسی ڈاکومنٹری یا ڈرامہ بنانا چاہتی ہوں جس کو دیکھ کر پاکستان میں لوگ اپنے مذہب اور رسم و رواج کے دائروں سے آزاد ہو کر دل سے پاکستانیت اپنائیں۔

 

واجد اعوان پڑھائی کے ساتھ ساتھ فوٹو کاپی کی دکان چلاتے ہیں۔ وہ نئے سال میں اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ جاب کے متلاشی ہیں۔ ایک ذمہ دارانہ کردار نبھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں گزشتہ غلطیوں سے  حاصل سبق سے اپنے دوستوں کے کام آؤں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں پر ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ اسی طرح ہم ایک بہتر قوم بن سکتے ہیں

 

تھرڈ ایئر فزیوتھراپی کی طالبہ بیا خان گزشتہ کچھ عرصے سے بچوں کو فری ٹیوشن پڑھا رہی ہیں۔ نئے سال میں وہ پارٹ ٹائم فیشن ڈیزائننگ کی کلاسیں لینے کی شوقین اور پرعزم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے معاشرے کے غریب طبقے کے لئے ڈگری مکمل کر کے فزیوتھراپی کے مفت علاج کا علیحدہ سیٹ اپ بنانا ہے۔ یہ علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں مطلوبہ مقبولیت نہیں رکھتا۔ میں لوگوں میں ورزش کی اہمیت کا شعور پیدا کر کے ان کی زندگیوں کو بہتر بناؤں گی۔

  

زین عباس 13ماہ سے بک شاپ میں کام کر رہے ہیں، ایک بھائی ہونے کے ناتے نئے سال میں وہ اپنی اور بہنوں کی پڑھائی پر بھرپور طریقے سے متوجہ ہیں۔ اکثر معاشرے میں یتیم بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور فکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں یہ سب بچوں کو پڑھائی کی تلقین کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ بچے مجھ سے فائدہ حاصل کریں تاکہ میرا کردار معاشرے میں تسلی بخش ہو۔

 

مارکیٹنگ میں ایم بی اے کے ساتھ ساتھ طلعت ستی چند چھوٹے پراجیکٹز کر رہے ہیں‘ میں ویب سائٹ پر ترقیاتی منصوبوں کی ابتدا کر کے بہت اچھے سے انٹرنیشنل فلمز کی مارکیٹنگ کر کے ہماری عوام میں اچھی فلمز کو مقبول بنانا چاہتا ہوں جن کے ذریعے انسانیت کا پیغام اور سبق عوام تک پہنچایا جائے۔

 

بیدار این جی او کی سوشل ورکر سعدیہ بی ایس کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں پڑھائی مکمل کر کے اپنی این جی او کے ذریعے تعلیم اور اس تک رسائی ہر بچے کو فراہم کرنا چاہتی ہوں تاکہ نیک کردار ادا کرنے سے مجھے خوشی حاصل ہو۔

 

کونسٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طالب علم شاہ رخ ارشد کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی معیشت جن حالات سے دوچار ہے، اس کی بہت بڑی وجہ ماہرین اقتصادیات کی کمی ہے۔ میں نہ صرف اپنی ڈگری مکمل کرنا چاہتا ہوں بلکہ بہترین ماہر معاشیات کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرکے اعلیٰ مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ ہر قوم کی معیشت اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔

 

ہمارے وطن عزیز کا حق ہے کہ نیا سال اس کی ہر لحاظ سے معاشی اور معاشرتی خوشحالی کا ایک اہم ورق بن جائے۔

بلند حوصلے‘ پرعزم رہ کر جینے کی آرزو

یہی ہے جسے کہتے ہیں ہم ایک حقیقی جستجو


سارہ صلاح الدین مقامی یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں۔

یہ تحریر 121مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP