قومی و بین الاقوامی ایشوز

اخُوّتِ ملی اورپاک فوج

افواجِ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی اور اخُّوت ملی کی مثالی فضا برقرار رکھی ہے۔ ہماری افواج قومی مساوات و یگانگت کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ ان کی صفوں میں ہر صوبے اور خطے کے افرادکی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ افواجِ پاکستان کے افسر اور جوان علاقائی و لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر دفاعِ وطن اور مشکل حالات میں فرائض کی ادائیگی کے لئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مصروف عمل رہتے ہیں۔عساکرِ پاکستان اپنے ہموطنوں کے لئے تن من دھن کے ساتھ مصروف خدمت ہیں اور اپنے اعلیٰ نظم و ضبط کی بناء پر قومی وحدت اور ملی اتحاد کے لئے منفرد شناخت رکھتی ہیں۔وطن دشمن عناصر خواہ وہ دشمن ممالک کی ایجنسیاں ہوں یا اپنی صفوں میں چھپے ہوئے میر جعفر و میر صادق ، ملکی استحکام کو زِک پہنچانے کے لئے متعدد حربے استعمال کرتے ہیں۔ انہی حربوں میں سے ایک تعصب کا زہر ہے۔ یہ زہر لِسانی ، علاقائی ، قومیتی ، مذہبی یا پھر رنگ ونسل کی بنیاد پر معاشروں میں سرایت کیا جاتا ہے۔ دشمن ہمارے منظم اور بہترین کارکردگی کے اداروں سے بری طرح حاسد ہے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے ان تعصبات کو ہوا دینے کی کو شش کرتا رہتا ہے۔ ان اداروں میں سے ایک افواج پاکستان کا ادارہ ہے جِس کا وقار اور بے لوث خدمات پوری دنیا میں مسّلم ہیں۔ اعدادوشمارسے یہ بات واضح ہے کہ افواجِ پاکستان میں ملک کے پس ماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کی نمائندگی پر بھی بھرپور توجہ مبذول کی گئی ہے۔پاک فوج بلوچستان اور فاٹا کے سینکٹروں نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہمکررہی ہے اسی طرح صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو کمیشن حاصل کرنے آسانی بہم پہچانے کے لئے آئی ایس ایس بی کے امتحانات کے انتظامات وہیں پر کئے گئے ہیں جس سے بلوچی نوجوان دفاعِ وطن کے لئے جوق در جوق کمیشن پا کر افواجِ پاکستان کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ فوج جہاں سلامتی کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتی ہے، وہیں ان کی توجہ تمام صوبوں کی نمائندگی پر رہتی ہے۔ کیونکہ فوج کے مختلف صیغے پاکستان کے اتفاق واتحاد کا مظہر ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ چندسالوں میں۵۰۰۰سے زائد بلوچ جوانوں کا فوج میں شامل ہونا ہے۔ان جوانوں کی فوج میں شمولیت کے دُور رَس نتائج حاصل ہوں گے۔ پاک فوج کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں لے کر چلیں ۔ جہاں یہ عمل ان خاندانوں کی معاشی بہتری کے لیے معاون ثابت ہو گا وہیں اس سے بہت سے وسوسے ختم ہو جائیں گے۔ فاٹا میں۱۵۴۰کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر۱۰۰۰ کے قریب آبی منصوبوں۳۲سکولوں و کالجوں کی تعمیر کے لئے پانچ سال کے دوران ۵ ارب روپے جبکہ صرف کوہلو اور ضلع بگٹی کے اضلاع کی ترقی پردس ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ان علاقوں کے بچوں کے لئے آرمی پبلک سکولوں‘ ملٹری کالجوں‘ کیڈٹ کالجوں‘ پی اے ایف سکو ل سرگودھا اور بعض دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لئے خصوصی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

سوات میں متعدد سکولوں کی بحالی کے علاوہ ایک بہترین کیڈٹ کالج قائم کیا گیا ہے۔فاٹا میں پاک آرمی نے دہشت گردی کے باعث کئی سالوں سے نامکمل گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے منصوبے کو جدید خطوط پر مکمل کرنے کا منصوبہ بنایاہے۔ تاکہ فاٹا کے نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تکنیکی وفنی تربیت مہیا کی جاسکے ۔ ’’وائٹ ‘‘نام کے اس تکنیکی تربیتی منصوبے کی تکمیل کا سہرا پاک فوج ، فاٹا، سیکریٹریٹ ، فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان کے سر ہے۔یہ سول اور فوجی تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔اس کے پہلے کورس کا دورانیہ۴ماہ مقرر کیا گیا اور اس میں فاٹا کے نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تکنیکی اور فنی تربیت کے لئے کمپیوٹر آپریٹر ، ڈرائیونگ ، آٹو مکینک ، آٹوالیکٹریشن اور بلڈنگ الیکٹریشن کے کورسز کا اجراء کیا گیاہے ۔ دفاع سے متعلق صنعت میں فاٹا اوربلوچستان کو خصوصی طور پر ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔اسی طرح پی ایم اے سے پاس آؤٹ ہونے والے آرمی افسروں میں ایک بڑی تعداد سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں کیڈٹ کالجزکی تعداد۱۱ ہونے کو ہے ۔ ملکی خواتین کو پاکستان اےئر فورس میں خواتین لڑاکا پائلٹس اور پاک فوج میں ریگولر کمیشنڈ آفیسرز کے طور پر شامل کرنا پوری قوم کو ایک ہی لڑی میں پرونے کی ایک اور کوشش ہے۔جس سے وطنِ عزیز میں ایک درخشند ہ روایت قائم ہوئی ہے۔ یہ خواتین دفاعِ وطن میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔جو پاکستان کی تاریخ میں سنہری باب کا آغاز ہے۔

الحمدﷲافواجِ پاکستان کا تنظیمی ڈھانچہ عظیم الشان بنیادوں پر استوار ہے۔ جو نہ صرف ملک بھر کے تمام طبقوں کی مکمل نمائندگی کرتا ہے بلکہ اقلیتوں کو بھی مساوی مواقع مہیا کرتا ہے۔ ہمارا یہی اتحاد اور جذبۂ مساوات ہمیں دیگر عساکرِ عالم سے ممیز کرتا ہے۔ بلاشبہ آج ہمارا دفاع مضبوط تر ہے۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہ رکھتے ہوئے ملکی سا لمیت اور وقار کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ آج ہم کسی بھی نوعیت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اتفاق واتحاد اور برداشت کے ایسے ہی جذبے کا مظاہرہ کرے اور مخالف قوتوں کی ہر سازش کو قومی یکجہتی کے جذبے سے مات دے دیں۔ عدم برداشت اور معتصّبانہ سازشوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد سے ہی ہم نہ صرف تعصب کے زہر کا تریاق کر سکتے ہیں بلکہ اخُّوتِ ملی کی ایک عمدہ مثال پیش کر سکتے ہیں۔

یہ تحریر 282مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP