بیادِ قائد

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق ، آئینِ پاکستان کی روشنی میں

 اقلیتوں کو ارضِ پاکستان میں بہترین حقوق حاصل ہیں کیونکہ قائد اعظم نے مملکتِ خُداداد کو پہلی سانس لینے سے قبل ہی اس راہ پر ڈال دیاجوکہ ہردم مذہبی رواداری کی جانب بڑھتی رہتی ہے ۔اُن کے فرامین اُسی مذہب کا عکس لئے ہیں جس مذہب کی بنیادپربرصغیر کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہے "جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فسادمچانے والاہو، قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جوشخص کسی ایک کی جان بچائے اس نے گویا تمام  لوگوں کوزندہ کردیا۔"( سورہ المائدہ ،آیت نمبر32) پاکستان کاوجود از خود ہی اکثریت کی جانب سے اقلیت کے حقوق غضب کرنے کا نتیجہ ہے تو ایسی اقلیت کواکثریت بننے کے بعد یہ زیب ہی نہیں دیتاکہ وہ اپنے بطن میں موجوداقلیتوں کویااکثریت سے اقلیت بن جانے والے انسانوں کوماضی یاکسی بھی بنیادپرتفریق کانشانہ بنائے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کاآئین نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کاضامن ہے بلکہ دیگرممالک کیلئے مشعل راہ بھی ہے۔آپ ذرا آغاز پاکستان کانظارہ کیجئے۔ قائداعظم تقریرکررہے ہیں اوراس اسمبلی کی صدارت پاکستانی ہندو جوگندرناتھ منڈل کررہے ہیں۔پھراسی ہندوشخصیت جوگندرناتھ منڈل کواس مملکت کاوزیرقانون بنادیاجاتاہے جوکہ ناعاقبت اندیش ہندئووں کے تسلط کے خوف سے اپنی سرحدیں الگ کرنے پرمجبورہوئی ہے اوربات یہیں نہیں رُکتی  بلکہ بطورچیف جسٹس ایک مسیحی جج اے آر کارکارئیلنس (1960)کرسی عدل کے سپہ سالاربنتے ہیں۔اسی طرح ہندوجج رانا بھگوان داس چیف جسٹس آف پاکستان بنے اوراپنے منصفانہ اقدامات سے پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئے جبکہ 2009میں ایک اورمسیحی جمشید رحمت اللہ ہائیکورٹ کے جج مقررہوئے۔
 پاکستان دنیاکے نقشے پرموجود وہ واحد ملک ہے جس کی قومی وصوبائی اسمبلی سمیت سینیٹ میں اقلیتوں کیلئے سیٹیں مختص ہیں اوریہ اُمیدواربغیرالیکشن لڑے حکومتِ وقت کے ساتھ بیٹھتے ہیں اوراوپن الیکشن کا دروازہ بھی اِن کیلئے کھلاہے۔پاکستان کی چوتھی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں اقلیتیں کل آبادی کا 3.72فیصدہیں۔ پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل 54کے کلاز 4کے مطابق اقلیتوں کی دس سیٹیں، آرٹیکل 106کے مطابق صوبائی اسمبلی میں چوبیس جبکہ سینیٹ میں چارسیٹیں مختص ہیں اورپاکستان نے جس برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرکے مظلوموں کے حق کادیاروشن کیااسی انگلینڈ کے ہاؤس آف لارڈ میں چرچ آف انگلینڈ کی توسیٹیں مختص ہیں لیکن مذہبی اقلیتوں کوبرابرکاشہری کہہ کرٹرخادیاگیاہے۔پاکستان کاالمیہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل سطح پراس کا مقدمہ اس طرح نہیں لڑاگیاجس طرح پاکستان مسلسل اقلیتوں کیلئے آسانیاں پیداکر تا چلا آ رہا ہے ۔ اب جس قانون پرپاکستان کو مطعون کیاجاتاہے اگراس کاجائزہ لیاجائے تواس کی جڑیں آپ کوبرطانوی ہند میں ملیں گی اوریہ توہین رسالت کا قانون محض پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہی نہیں بلکہ کم وبیش دنیاکے55 سے زائد ممالک میں مختلف اشکال میں موجودرہاہے اوربیشترمیں اب بھی موجود ہے۔مقدس ہستیوں کایہ قانون 1927میں اس وقت برٹش ہند میں نافذ کیا گیاجب غازی علم الدین کی شہادت کے بعد 1880کے انڈیاایکٹ میں ترمیم کی گئی اوراس میں 295اے کا اضافہ کیاگیا جس کے تحت کسی بھی مذہب کے بانی کی توہین قابل گرفت قراردی گئی بعد میں اس میں ترامیم کی جاتی رہیں ۔۔ 
آئین ِ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی اساس قائد اعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست 1947والی وہ تقریرہے جس کی بنیادپرآج بھی پاکستان کی اقلیتیں گیارہ اگست کو' اقلیتوں کا دن'مناتی ہیں۔محمد علی جناح نے فرمایا''آپ سب آزاد ہیں۔آپ آزاد ہیں،اپنے مندروں میں جانے کیلئے یا کسی عبادت گاہ میں جانے کیلئے۔ پاکستان کی ریاست میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یاعقیدے سے ہو، اس کاہمارے اس بنیادی دستورسے کوئی تعلق نہیں کہ ہم سب شہری ہیں،برابرکے شہری ہیں اس ریاست کے۔''یہ تاریخ انسانی کے وہ شاندارالفاظ ہیں جنھوں نے آئین پاکستان میں آرٹیکل بیس سے لے کر آرٹیکل ستائیس تک اقلیتوں کو وہ تحفظ فراہم کیاکہ ڈاکٹرثناء رام چند یورالوجسٹ جب 2020میں پہلی ہندواسسٹنٹ کمشنربنیں توانھوں نے بتایاکہ انھیں اس سٹیج تک پہنچنے میں کہیں بھی تفریق کاسامنانہیں کرناپڑا۔اس وقت وزیراعظم کے آبائی حلقے کے ڈپٹی کمشنرخُرم شہزادکاتعلق مسیحی برادری سے ہے۔
آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ آئین پاکستان اقلیتوں کوکون کون سے حقوق فراہم کر رہاہے۔آئین پاکستان کے آرٹیکل بیس  aکے مطابق ''ہرپاکستانی شہری حق رکھتاہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کودیکھتے ہوئے کوئی بھی مذہب اختیارکرسکتاہے،اس پرعمل کرسکتاہے اوراس مذہب کی تبلیغ کرسکتاہے اور Article 20 b کے مطابق پاکستان میں موجود ہرمذہبی طبقہ کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی اداروں کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ establish, maintainاور manage بھی کرسکتے ہیں۔آرٹیکل اکیس کے مطابق ہرپاکستانی شہری کے پاس حق ہے کہ وہ ایسے ٹیکس دینے سے انکارکردے جس سے اس کے اپنے مذہب کوکوئی فائدہ نہ پہنچ رہاہو،حکومت ِ وقت ایسا کوئی بھی ٹیکس اپنے شہریوں سے زبردستی حاصل نہیں کرسکتی۔
آرٹیکل بائیس کے کلاز ون کے مطابق ہرشہری کو حق حاصل ہے کہ وہ عصری تعلیم کے اداروں میں اپنے مذہب کے علاوہ ہونے والی تقریبات میں جانے سے انکارکردے یاکسی دوسرے مذہب کی ہدایات لینے سے یکسرانکارکردے، شہری کواس امرپرمجبورنہیں کیاجاسکتا، شاید آرٹیکل بائیس کا کلاز ون پاکستان بننے سے پہلے بند ے ماترم زبردستی گائے جانے کے تلخ تجربات کا نچوڑ ہو۔آرٹیکل بائیس کے کلاز ٹومیں اس امرکی نشاندہی کی گئی ہے کہ کسی بھی ٹیکس کو لاگوکرتے وقت یا اس میں رعایت دیتے وقت کسی بھی پاکستانی شہری سے امتیازنہیں برتاجائے گا۔آرٹیکل بائیس کے کلاز سوم کے مطابق پاکستان کی سرزمین پرموجود کسی بھی کمیونٹی کو نسل، رنگ، زبان یا مقام ِ پیدائش کی بناء پر کسی بھی ایسے سرکاری ادارے میں داخلے سے نہیں روکاجاسکتاجس کی سانسیں پبلک فنڈ سے قائم ودائم ہوں۔آرٹیکل تئیس کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی شہری ملک کے کسی بھی حصہ میں زمین خرید، رکھ اورفروخت کرنے کاحق رکھتاہے سوائے ان علاقوں کے جہاں بلاتفریق سب کے زمین خریدنے پرپابندی ہے جیسے خیبر پختوانخوا کاکوئی بھی شہری آزاد کشمیر میں زمین نہیں خریدسکتا۔
 جہاں تک نوکریوں کے مواقع کی بات ہے تو آئین کا آرٹیکل ستائیس اس بات کا ضامن ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شہری اگرکسی نوکری کی شرائط پرپورااترتا ہو تو وہ چاہے پاکستان کے کسی شہر، مذہب، ذات  یا رنگ و نسل سے متعلق ہو ا،سے اس ملازمت سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔اسی شق کوآگے بڑھاتے ہوئے پاکستان حکومت نے سال 2009میں ایک ڈائریکٹو ایشو کیا تھا جس کے تحت پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کیلئے پانچ فیصدکوٹہ مخصوص کیاگیاتھا،اس ڈائریکٹو پر پنجاب، سندھ اوربلوچستان نے فوری عمل کیا جبکہ کے پی کے نے پہلے اسے بتدریج بڑھاتے ہوئے اس شرح کو تین فیصد تک جاپہنچایا۔پاکستان حکومت محض کاغذی کارروائیاں نہیں کرتی بلکہ اقلیتوں کے متعلق مختلف اوقات میں اعدادوشماربھی اکٹھے کرتی رہتی ہے۔اس ضمن میں سول سوسائٹی اورعدالتیں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتی رہتی ہیں۔ دوہزار گیارہ کے وفاقی گورنمنٹ کے سالانہ ایمپلائز سٹیٹیکل بلیٹن کے مطابق پانچ فیصد کوٹہ میں سے اقلیتیں محض 2.6فیصد حاصل کرپاتی تھیں، جن میں سے زیادہ تر گریڈ ایک اوردو کی نوکریاں ہوا کرتی تھیں، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مطابق 2016میں اقلیتوں کی 53فیصدآسامیاں خالی تھیں۔اس کی ایک بڑی وجہ اقلیتوں کے معاشی و اقتصادی حالات ہیں ۔اس ایشو کو حل کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن میں اقلیتوں کیلئے دوفیصد کوٹہ مختص کیاگیا اورجامعات کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنے اشتہارات میں اس بات کی واضح تشہیر بھی کریں۔جس کی وجہ سے 2015میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کیاگیاکہ اگرکسی خالی آسامی پرکوئی اقلیتی رکن اپلائی نہیں بھی کرتاتووہ اسامی خالی ہی رہے گی، اسے دوبارہ مشتہرکیاجائے اورصرف اقلیتی رکن ہی اس کا حقدارٹھہرے گا۔
پاکستان میں ایک مسئلہ یہ تھاکہ اقلیتی طالب علم کواسلامیات کی جگہ اخلاقیات کامضمون پڑھایاجاتاتھاجس پرمسلم اکثریت کے روشن خیال طبقہ سمیت اقلیتی ارکان نے آواز بلندکی توان کی بازگشت نے ایوان سے ایک نئی سہولت حاصل کی اوریوں پاکستان میں آباد پانچ مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ان کے دینی راہنمائوں کی مددسے کتب ترتیب دی گئیں ،جن میں کیلاش مذہب بھی شامل ہے۔یہ یقینی طورپرمذہبی رواداری کی بہترین مثال ہے۔قوانین ایوان میں بنتے ہیں اوران پرعمل درآمد معاشرتی ماحول میں پنپتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہراقلیتی رکن تک اس کے حقوق کی بازگشت پہنچانے میں بطورپاکستانی ہرشخص اپناکرداراداکرے۔
اس فیچرکولکھنے سے پہلے تک بطورشہری پنجاب میں اقلیتی افرادسے اکثریت کے تعلقات پرایک سال سے سوال وجواب کاسلسلہ جاری ہے ۔کم ازکم پنجاب میں مذہبی منافرت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے کہ میں نے یہ بھی دیکھاہے کہ مسلم بچے مسیح بھائیوں کے بنائے پرائیویٹ سکولوں میں بھی داخل ہیں جہاں تمام اساتذہ مسیحی ہیں۔ جہاں کہیں ہے بھی سہی تواس رویہ کے حامل انسان تک ہمیں دین ِ اسلام کی تعلیمات پہنچانے کافریضہ انجام دیناہوگااوریہی ہمارے قائد کی تعلیمات ہیں۔ ||


مضمون نگار لاھور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 891مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP