قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان مخالف ایجنڈا

آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے پیچھے  پانی کی ہوس ہے۔

 مارچ 1944 میں قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان اسی  وقت معرض وجود میں آگیا تھا جب پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا، کیونکہ مسلم قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے نہ کہ علاقہ یا نسل۔ 
1954 میں بھارت نے کشمیر کو غیر قانونی طور پر اپنے اندر  ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے اس نے اپنے آئین میں آرٹیکل 370 متعارف کرایا، اس طرح یہ دعویٰ کیا کہ اس نے کشمیریوں کو خود مختاری دی ہے۔ یہ شق ریاست کے قوانین کی تشکیل کے لیے مقامی لوگوں کو خود مختاری دیتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کی  خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے۔ اس کے بعد کئی سال تک بھارتی قیادت اس عزم کا اظہار کرتی رہی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے گا،جیسا کہ برصغیر کی دیگر وفاقی اکائیوں کو دیا گیا ہے۔
بھارتی اسٹیبلشمنٹ راجستھان کے صحرائوں کو سیراب کرنے کے لیے دریائوں کا پانی حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے   1958-1963  کے دوران  اندرا گاندھی کینال کے نام سے  678 کلومیٹر طویل نہر بنائی گئی۔ یہ نہر راوی کے شمال مشرق سے جنوب مغرب تک پاک بھارت سرحد کے ساتھ گزرتی ہے۔ پانی کے بہائو کے اس موڑ نے  دریائے راوی، ستلج اور بیاس کو خشک کر دیا اور جنوبی پنجاب میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا کر دی۔ سندھ طاس آبی معاہدہ کے پس منظر میں یہی گھمبیر صورت حال تھی۔
بھارت نے اپنے صحرا کو سیراب کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کیے تھے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرض  صحرا کی سیرابی سے حاصل ہونے والی فصل کی آمدنی سے ادا کیا جانا تھا۔ صحرا میں نہر بنا کر پانی کی ایک بڑی مقدار  ضائع کیے بغیر مطلوبہ علاقوں میں پہنچانا مشکل امر ہے۔ خاص طور پر صحرائی علاقوں میں پانی کے اخراج کا مسئلہ چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس صورت حال سے دوچار بھارت نے اندرا گاندھی کینال کے ذریعے پانی کے انتظام اور پانی کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بنک سے 250 ملین ڈالر اور روس سے 400 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا ہے۔
 بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے  کا مقصد جہلم اور چناب سے بھی  پانی چرانا ہے جو کہ سندھ طاس معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو برقرار رکھا ہے، جیسا کہ ہمارے آئین کے آرٹیکل 257 میں کہا گیا ہے، ''اگر ریاست جموں و کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں، تو پاکستان اور کشمیر کے مابین  تعلقات کا تعین کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔''یہاں ہم اس امر کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وطن عزیز کے آئین کے کسی آرٹیکل میں حیدرآباد دکن، جوناگڑھ، مناوادر کی ریاستوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کو شامل نہیں کیا گیا حالانکہ یہ وہ ریاستیں ہیں جنہوں  نے پاکستان میں شامل ہونے کا اصولی فیصلہ کیا تھا جبکہ بھارتی فوج نے ان پر جبراً  قبضہ کرلیا تھا۔  اس بات کی اشد ضرورت  ہے کہ ان  ریاستوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کو آئین کا حصہ بنایا جائے۔
بھارت کی اپنے عزائم کی تکمیل اور پانی، دریائوں، بجلی اور زراعت  جیسے وسائل کی ختم نہ ہونے والی ہوس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے کی کوششیں روز بروز بڑھتی جائیں گی۔ ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت ان دریائوں کے پانی کا رخ موڑنے کے لیے عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کر تا رہا ہے۔بھارتی کا بیرونی قرض 31 دسمبر 2018 تک 521.3 بلین ڈالر پر کھڑا ہے اور سالانہ 2.6 فیصد کی شرح سے بڑھتا ہے۔
  پڑوسی ممالک کو تنگ کرنے کے لیے، عوام میں مایوسی پھیلاتے ہوئے سخت شرائط پر مہنگے قرضے لینا بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کی ایک منفرد خصوصیت ہے جن کے پاس کوئی مالی، قانونی یا پیشہ ورانہ قابلیت نہیں ہے۔ 
 پچھلے 72 سال کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بھارت کشمیر کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ تاہم قائداعظم محمد علی جناح  نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، اس لیے کشمیر پاکستان کی آزادی کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے بہنے والے تمام دریائوں کا رخ موڑنے سے پاکستان لازماً آبی ذخائر سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی انحطاط کا باعث بنے گا بلکہ پاکستانی عوام کو اناج اوردیگر تمام فصلوں سے محروم کرتے ہوئے ایک آفت میں بدل جائے گا۔
اگر پاکستان پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر بنائے گئے ڈیموں کے خلاف سٹرائیک شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو کیا ہوگا؟ 
 کیا ہوگا اگر خوراک سے محروم ایک قوم تباہ کن طاقت کے ہتھیار چلاتی ہے، بھارت کا کشمیر سے رابطہ منقطع کرنے کے لیے بانہال ٹنل تباہ کر کے  بند کر دیتی ہے؟ اگر کشمیری عوام بھارتی سکیورٹی فورسز کو اسی طرح بھگا دیں جیسے فرانس کے انقلاب کے دوران عوام نے  حکمرانوں کو ان کے محلات سے نکالا تھا؟کیا ہوگا اگر پاکستان کی حکومت سندھ طاس معاہدہ کو ختم کر دے؟ بھارتی حکومت نے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سوکھ جانے والی اندرا کینال کے لیے جو اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں وہ سودسمیت کیسے واپس کرے گی؟
اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 103 کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ''موجودہ چارٹر کے تحت اقوام متحدہ کے ممبران کی ذمہ داریوں اور کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ان کی ذمہ داریوں کے درمیان تنازع کی صورت میں موجودہ چارٹر کے تحت ان کی ذمہ داریوں کو فوقیت حاصل ہو گی۔'' اگر بھارتی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے سے وہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی منصوبے کے لیے دو طرفہ معاہدہ کر تی ہے تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 103 کی وجہ سے غلط ہے۔ لہٰذا، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کا مقصد پاکستان کو تباہ کرنا اور اس کی آبادی کو ہلاک کرنا ہے۔
پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی، سیاسی، مالی، قانونی اور فوجی  تمام آپشنز استعمال کرنے چاہئیں۔ حکومت پاکستان جلاوطن کشمیریوں کی حکومت کے قیام کی حمایت کا اعلان کرے۔ پاکستان کی طرف سے مقدمہ پیش کرنے کے لیے درج ذیل نکات قابل غور ہیں: 
 1۔ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے اور متنازع علاقے کو اپنا قرار دے کر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی پر بھارت پر پابندیوں کا مطالبہ کیا جائے۔
2۔  مقبوضہ کشمیر میں تمام بین الاقوامی ٹینڈرز کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 103 کے ساتھ مل کر پڑھے جانے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370/35 کی روشنی میں عالمی عدالت انصاف  میں چیلنج کیا جائے۔ 
3۔ جوناگڑھ، مناوادر اور حیدرآباد دکن کی  واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔ بھارت کے مسلمانوں کو ان پر کیے جانے مظالم سے آزاری دلائی جائے ۔ ||


 مضمون نگارقومی اوربین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔
 

یہ تحریر 214مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP