بیادِ قائد

قائداعظم: ایک عظیم تر ین محسن اور سیاسی رہنما

یاد کرتا ہے زمانہ انھی انسانوں کو 
روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
اس شعر سے علامہ محمداقبال کے ایک خط کی حقانیت واضح ہوتی ہے جوانھوں نے قائداعظم محمدعلی جناح کے نام 21جون 1937کو لکھا: 
''اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شایدپورے ہندوستان میں برپاہونے والا ہے، اس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع رکھتی ہے۔''
اس سے قبل 1934ء میں انگلستان سے واپسی پر جب محمدعلی جناح کو مسلم لیگ کا صدرمنتخب کیاگیاتومسلمانوں میں ایک تازہ ولولہ پیداہوا۔خودعلامہ اقبال بھی اس تبدیلی پر بہت مطمئن ہوئے جبکہ اس سے پہلے مسلمانوں میں قیادت کے فقدان پروہ بہت رنجیدہ نظر آتے تھے۔ انھوں نے واضح طورپر کہا: 
''مسلمانوں کی قیادت کااہل اگرکوئی شخص ہوسکتا ہے تووہ صرف جناح ہے۔ وہ دیانتدار ہیں، مخلص ہیں، انھیں خریدا نہیں جاسکتا۔''
1935سے1937 تک علامہ اقبال  وقتاًفوقتاً جناح کو خطوط لکھتے رہے۔ ان کی باہمی مشاورت کاسلسلہ جاری رہا۔ اس خط وکتابت سے قائداعظم کامزاج یکسرتبدیل ہوگیااور وہ قوم کابیڑا پارلگانے کے لیے بھرپور جدوجہد کرنے پرآمادہ ہوگئے۔ تحریکِ پاکستان زوروشورسے شروع ہوگئی۔ قوم کے اندر یقینِ محکم اور ولولہ پیدا ہوگیا۔ محمدعلی جناح ایک ایسے رہنما کی حیثیت سے سامنے آئے جن کے عزم وہمت اور بصیرت وفراست کاکوئی جواب نہیں تھا۔ نپولین کاقول ہے کہ''اگر ہرنوں کالیڈرشیر ہوتوہرن بھی شیروں کی طرح دلیراور طاقت ور بن کر لڑتے ہیں اوراگر شیروں کالیڈر ہی کوئی ہرن بن جائے تو شیربزدل ہرن کی طرح بھاگتے ہوئے نظرآتے ہیں۔'' قائداعظم ایک ایسے رہنماتھے جوحقیقت میں عزم وہمت کے کوہِ گراں تھے۔ وہ خودبھی شیر تھے اور انھوں نے قوم کوبھی شیروں جیسی قوت وہمت سے بہرہ ور کیا۔ ان کا نصب العین سب کے سامنے آچکاتھا۔ انھوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: 
''میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ہے، دولت، شہرت اور عیش وعشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی میں ایک تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کوآزاد اور سربلنددیکھوں۔ میں چاہتاہوں کہ جب مروں تو اطمینان اوریقین لے کر مروں اور میراضمیر گواہی دے کہ محمدعلی نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی کے لیے اپنافرض ادا کیااورمیرارب یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیداہوئے اور کفر کی طاقتوں سے عالمِ اسلام کے لیے جدوجہد کی۔''
قائداعظم محمدعلی جناح نے قوم کا سرواقعی بلند کردیا۔ آج کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ وہ کس طرح کے حالات سے نبردآزما تھے۔ مسلمان پسماندگی کی انتہاکوپہنچے ہوئے تھے ۔ایک طرف انگریزتھے جومسلمان کودیکھنے کے بھی روادارنہیں تھے۔ان کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں جاری تھیں۔ دوسری طرف ہندوتھے جن کامسلمانوں سے ازلی بیرتھا۔ گویامسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے تھے۔ بظاہر ایسامحسوس ہوتاتھا کہ مسلمان آزادی کی منزل پر کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ ہندواور انگریز کاگٹھ جوڑ یہ سمجھ رہاتھا کہ مسلمانوں کی کوئی کوشش کامیا ب نہیں ہوسکے گی مگریہ انداز ے بالکل غلط ثابت ہوئے کیونکہ ان کامقابلہ ایک ایسے شخص سے تھا جو پیکراستقلال تھا، جو کہتاتھا وہ کرکے دکھاتاتھا۔ وہ ظاہری طورپر دبلاپتلااورکمزوردکھائی دیتاتھالیکن اصول پسندی، خوش مزاجی، عزم ویقین کی پختگی، صاف گوئی، انصاف پسندی، پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کاحصہ تھیں اور ان خوبیوں کا اعتراف ہمیشہ دشمن بھی کرتے تھے اور پھریہ وقت بھی آیا کہ انگریزوں اور ہندوؤں کے بڑے بڑے رہنما ان کے آگے سرجھکانے پرمجبورہوگئے۔ قائداعظم کی زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑا آدمی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس سلطنت یامال ودولت زیادہ ہو۔ بڑاآدمی وہ ہوتا ہے کہ جواصول پسند ہو، جس کووقت کااحساس ہو۔قائداعظم واضح قسم کے اصولوں پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی اصول پسندی کاایک واقعہ مشہور ہے۔ ایک دفعہ گورنرجنرل ہائوس کے ایک لان میں قائداعظم چہل قدمی کررہے تھے، ان کا ملٹری سیکرٹری تھوڑے فاصلے پران کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا۔ سیرکے دوران خلافِ معمول تھوڑاآگے نکل گئے۔ جہاں ایک ایساگارڈ موجودتھا جس کے روبروقائداعظم اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ گارڈ نے قائداعظم کواسی جگہ پرروک دیا اور آگے جانے سے منع کردیا۔ قائداعظم کوفوراًاحساس ہوگیا، رک کر بولے: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ گارڈ نے کہا جناب یہ ٹھیک نہیں، کسی کواس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے یہی حکم ملاہے اور اس حکم کی پابندی کروانا میرافرض ہے۔اس پر قائداعظم نے اثبات میں سرہلادیااور گارڈ کی تعریف کی۔ان کافرماناتھا کہ اگر وہ خود اصولوں کی پاسداری نہیں کریں گے توکوئی دوسرا بھی نہیں کرے گا۔ اگر وہ خودوقت کی پابندی نہیں کریں گے توکوئی دوسرابھی نہیں کرے گا۔اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں۔ 



یہ قائداعظم کاذاتی کردار تھا جس نے انھیں عظمت ورفعت سے آشناکیااور ہرموڑ پر سرخروکیا۔ ہم اندازہ نہیں کرسکتے کہ قائداعظم کوکتنی مخالفتوں کاسامناکرناپڑا۔ ہندوستان کی تقسیم کوانگریزاپنی شکست سمجھتے تھے اور کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور ملک بنے اور اس میں اسلامیانِ ہند آزادی سے زندگی بسر کریں۔ انھوں نے سازشیں تیار کیں۔ ہندوؤں سے مل کر مسلم دشمنی پر مبنی بے شمار منصوبے تشکیل دیئے مگرقائداعظم اوران کے مخلص ساتھیوں نے ایک سازش بھی کامیاب نہیں ہونے دی۔ ہندوؤں نے انگریز حکمرانوں کی بے پناہ خوشامد کی تاکہ تقسیمِ ہند سے روکاجاسکے۔ قائداعظم کواس موقع پر بے شمارلالچ دیئے گئے۔ انھیں متحدہ ہندوستان میں بڑے بڑے عہدوں کی پیشکش کی گئیں مگر وہ کسی لالچ میں نہیں آئے۔ جب انگریز اور ہندوؤں کاکوئی حربہ کامیاب نہ ہوسکاتوانھیں مختلف قسم کی دھمکیاں دی گئیں مگرانھیں پھربھی کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ حتیٰ کہ ان سب حربوں کے الٹے اثرات برآمد ہوئے۔     
قائداعظم کی ولولہ انگریز قیادت میں قوم آگے بڑھتی گئی اورآزادی کی منزل قریب آتی گئی۔ علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آبادکی بنیادپرتحریکِ پاکستان کے نقشے میں رنگ بھرے جارہے تھے۔ آخریہ نقشہ قرار داد کی شکل اختیارکرگیااور1940 میں یہ قرار دادمنٹوپارک کے جلسۂ عام میں پیش کردی گئی۔ اس جلسے میں پورے ہندوستان سے مسلمانوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ قائداعظم محمدعلی جناح نے اس عظیم الشان جلسے کی صدارت فرمائی۔ قرارداد کاپیش ہونا ایک یادگار لمحہ تھا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ قائداعظم کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھے جاسکتے تھے۔ قرارداد اور قائداعظم کے حق میں فلک شگاف نعرے گونج رہے تھے۔ اسلامیانِ ہند کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ تاہم ابھی سفرختم نہیں ہواتھا۔ قافلے کومزیدآگے بڑھناتھا۔ایک نئے عزم سے سفرکاآغاز ہوگیاتھا۔ منزل اب دکھائی دینے لگی تھی جس سے ولولوں میں شدت آگئی تھی۔ قائداعظم کی جرأت، ہمت ،عزم واستقلال ،اخلاصِ عمل، عوام دوستی، صداقت، بے باکی، نظم وضبط اوراحساسِ وفا ایسی خوبیاں ہیں جوانسان کوانسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچادیتی ہیں۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے ملتِ اسلامیہ کاہرفردقائداعظم کے قافلے میں اعتمادکے ساتھ شریک ہوتاگیا۔ 



1940 سے1947 تک بہت مختصرعرصے میں قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ قائداعظم مسلسل محنت ومشقت کی وجہ سے بیمار رہنے لگے اور بہت کمزورہوگئے تھے۔ پاکستان کے قیام کی منزل بھی قریب آگئی اور آپ کی صحت کاچراغ بھی ٹمٹمانے لگاتھا۔14اگست قیامِ پاکستان کادن تھااوراس کے ایک سال بعد١١ستمبر کوآپ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ پاکستان کی منزل تک پہنچنااور اسے اسلامیانِ ملت کے حوالے کرناقائداعظم کی اَن تھک جدوجہد، محنت اور مشقت کے باعث ممکن ہوا۔ ہم جس ملک کے باسی ہیں، یہ قائداعظم کی امانت ہے۔ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایک عظیم رہنمامیسر آیا۔ جس کے عزم نے ایک عظیم ملک کاقیام ممکن بنایا۔ انھوں نے اپنی صحت کی پروا بھی نہیں کی اور جدوجہد کوکسی لمحے رکنے نہیں دیا۔ آخروقت تک کسی کے علم میں نہیں تھا کہ مسلمانوں کاعظیم رہنما موت کے قریب ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر کسی سازشی کواس کاعلم ہوجاتاتو پاکستان کے قیام میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکتی تھی: 
حیات و مرگ کی پُرپیچ رہگزاروں میں 
کوئی ہوا کوئی آندھی تجھے نگل نہ سکی 
کسی طرح نہ خریدا گیا خلوص ترا 
چٹان جھوم کے ٹوٹی مگر پگھل نہ سکی
 قائداعظم نے مسلمانوں کی عظیم مملکت کی بنیادرکھی۔ انھوں نے حقیقت میں دنیا کانقشہ تبدیل کردیا۔ عزت وعظمت کے معیارتبدیل کردیئے۔ انسان کوانسانیت اورآدمی کوآدمیت کے سلیقے سمجھادیئے۔ آزاداورمحکوم کافرق بتادیا۔ ہم پراتنابڑااحسان کیا ہے کہ ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے تاہم ہمیں یہ سوچناچاہیے کہ ہم کس طرح اس احسان کابدلہ چکاسکتے ہیں۔ میرے خیال میں قائداعظم کے اصولوں پر عمل کرکے اس عظیم مملکت کوعظیم تربنانے کی جدوجہد کرتے ہوئے۔ 
اگر میں مختصر لکھوں حیاتِ قائداعظم 
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم ||


مضمون نگار  اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 518مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP