قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان کی سماجی اورمعاشی ترقی میں افواج پاکستان کاکردار

 افواج پاکستان کاکردار صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں،قوم کوجب بھی کسی مشکل یاقدرتی آفت کاسامناکرناپڑا پاک فوج نے اپنابھرپورکردار ادا کیا۔زلزلہ ہویاسیلاب یادہشت گردی کے خلاف جنگ فوج قوم کے شانہ بشانہ کھڑی نظرآتی ہے ۔ قوم بھی اپنی فوج سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ ملک بھرمیں ایک نہیں درجنوں منصوبے ہیں جوفوج کی وجہ سے پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ سی پیک پراجیکٹس کومکمل کرنے میں فوج کاکردارسب کے سامنے ہے۔آج ہم بات کریں گے بلوچستان کی،جس کی سماجی ومعاشی ترقی میں پاک فوج انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے جو دوست بلوچستان کے دوردرازعلاقوں کادورہ کرکے آئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان چند سال میں ہی بدل گیاہے۔جہاں کبھی کچی سڑکیں اورپگڈنڈیاں ہوتی تھیں ،اب ان پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی شاندار سڑکیں بن چکی ہیں،حیرت ہوتی ہے کہ اتنے کم عرصہ میں یہ کیاماجراہوگیاہے۔گوادر نے بھی شاندارترقی کی ہے اوریہ سفرتیزی سے جاری ہے۔ ایک نئے اور مضبوط انفراسٹرکچر کے باعث بلوچستان کے رہنے والوں کوروزگارکے نئے مواقع ملے ہیں اوران کی زندگیوں میں بھی انقلاب آیاہے۔کراچی سے چمن اورکوئٹہ جانے والی شاہراہ این 25 جسے آرسی ڈی بھی کہاجاتاہے،چند سال قبل اس کی حالت انتہائی خستہ تھی لیکن اب ایک شاندار شاہرا ہ بن چکی ہے۔یہ سڑک 813 کلومیٹرطویل ہے۔ ایک دورتھا کراچی سے کوئٹہ بائی روڈ سفرکرنے سے پہلے دس دفعہ سوچناپڑتاتھا،لیکن اب کراچی اورکوئٹہ کے رہنے والوں خاص کرمقامی سیاحوں، تاجروں اورزائرین کاان شاہراؤں پرسفر کرنامعمول بن گیاہے۔


 پاک فوج کے ذمہ داران کوسلام جنہوں نے دن رات محنت کرکے ریکو ڈک تنازعے کو حل کرکے پاکستان کو گیارہ  ارب ڈالر کے جرمانے سے بچایا اورمعاہدے کو زیادہ بہتر شرائط پر کیا۔ نئی شرائط سے بلوچستان کے لیے 8 ہزار بالواسطہ اور12 ہزار بلاواسطہ روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اس معاہدے میں بلوچستان کاخاص خیال رکھا گیاہے ،بلوچستان حکومت کوکوئی سرمایہ کاری کیے بغیر 25 فیصد منافع ملے گا اور تقریبا 60 کروڑ ڈالر سالانہ ملیں گے۔اس رقم سے بلوچستان میں ترقی کے نئے مواقع پیداہوں گے۔



   غیرملکی میڈیانے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افواج پاکستان بلوچستان کے انفراسٹرکچر کوبہتربنانے کے لیے دن رات کام کررہی ہیں،ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے کے بعد بلوچستان کے قدرتی وسائل سے بھی بھرپورفائدہ اٹھایاجائے گاجس سے بلوچ عوام کی زندگی بدل جائے گی۔ بلوچستان پاکستان کی ترقی میں ایک انجن کاکردارادا کرے گا ۔سی پیک تیزی سے مکمل ہورہاہے، توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہ کے منصوبے پاکستان میں صنعتی انقلاب کی بنیاد بن رہے ہیں۔
  پاکستان میں جہاں بھی وسائل کی کمی ہے، زمینی مشکلات یا سکیورٹی کے مسائل ہیں، ان علاقوں میں محفوظ ماحول بنانے، سماجی اور معاشی سرگرمیوں کی راہ ہموار کرنے میں فوج کا اہم کردار رہا ہے۔مسلح افواج نے  بلوچستان کی ترقی کے لیے جو متعدد منصوبے شروع کیے ہیں ،اُن سے عوام کے لیے خوشحال اور بامعنی زندگی گزارنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔  
    ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی بلوچستان کی ترقی و بہبود کے لیے سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک ایس بی ڈی پی ہے۔ جس میں 654 ارب روپے لاگت کے 199 پراجیکٹس شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت گیارہ سو کلومیٹرطویل سڑکوں کے ذریعے مواصلات کو بہتر بنایا جارہاہے،یوں 19 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ڈیڑھ  لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے اور پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے پانچ لاکھ ملین ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرے کا انتظام شامل ہے۔ قدرتی وسائل کا یہ استعمال  5  لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔روشن پاکستان منصوبے کے ذریعے  بلوچستان میں 57 فیصد علاقوں تک بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گئی،یہ حیرت انگیزکارنامہ ہے،کم آبادی اورچھوٹے شہروں ،قصبوں میں طویل فاصلہ ہونے کے باعث یہ ایک بڑاچیلنج تھا۔ ایل پی جی کی فراہمی کو 100 فیصد کیا گیا جو اس سے پہلے 61 فیصد علاقوں میں دستیاب تھی۔اسی طرح  ایک کھرب روپے مالیت کے یواے ای کے منصوبوں کے لیے فنڈنگ فوجی سفارت کاری کے ذریعے حاصل کی گئی، یہ تمام رقم بلوچستان کی ترقی پرخرچ کی گئی ،جس سے پنجگور (تمرِ پنجگور) میں کھجور کے پروسیسنگ پلانٹ مکمل کیے گئے ، اس پلانٹ سے سالانہ 1500 ٹن اعلی معیارکی کھجوریں تیار کی جاسکتی ہیں اور مقامی لوگوں کے لئے ایک باعزت روزگار بھی مہیا کیا جا رہا ہے۔اگربلوچ عوام کوصحت کی سہولیات کی فراہمی کاجائزہ لیں تو کوئٹہ میں شیخ محمد بن زاہد النیان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم کیاگیا۔آواران، ژوب، خضدار اور پنجگور میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی سہولیات کو بھی اسی منصوبے کے تحت بہتر کیا گیا۔فوج کی نگرانی میں بلوچستان میں 160 کروڑ روپے سے زائدکی فنڈنگ کے ذریعے 912 فوری اثرات کے منصوبوں،کیو آئی پی ایس پر عمل درآمد کرتے ہوئے پانی، صحت، تعلیم کی فراہمی پر توجہ دی گی ہے۔ہم سب جانتے ہیں بلوچستان کے عوام کوپینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ رہاہے۔اس مسئلے کوحل کرنے کے لیے 8.837  ارب روپے کی لاگت  سے 510 نئے صاف پانی کے منصوبے بنائے گئے۔  عوام کی سہولت کے لیے بدین، چمن اور کیچ میں بارڈر مارکیٹیں قائم کی گئیں جن سے تجارتی ومعاشی سرگرمیوں اور مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہوا۔   سچی بات ہے ہم خود میڈیا میں یہ خبریں اورنیوزپیکیج چلاتے رہے ہیں کہ حکومت اورمقامی انتظامیہ گوادرکی ترقی میں مقامی آبادی کوصاف پانی کی فراہمی اورتجارتی مواقع فراہم کرنابھول گئی ہے ۔
 فوج نے اس طرف بھی خصوصی توجہ دی۔ اب گوادرکے غریب عوام کوبھی صاف پانی کی فراہمی یقینی بنادی گئی ہے۔گوادر میں ڈی سیلینیشن پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو مقامی آبادی کے لیے یومیہ 44 لاکھ گیلن پانی مہیا کرے گا۔اکیس ارب روپے کی لاگت سے مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیرکی گئی۔
فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور ضلعی انتظامیہ نے تقریباً 2,000 مقامی خاندانوں کی دوبارہ آبادکاری کے عمل میں سہولت فراہم کی جو قبائلی لڑائی جھگڑوں اور بدامنی کی وجہ سے بے گھر ہوگئے تھے، یہ لوگ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں دوبارہ آباد ہوئے ہیں۔   
 اب ذرابات ہوجائے ریکوڈک تنازعے کی،میڈیا میں ایسی خبریں آرہی تھیں کہ ہمیں اربوں ڈالرجرمانہ اداکرناپڑے گا۔ یہ خبریں سن اورپڑھ کر پریشانی بڑھ جاتی تھی،ایک طرف پاکستان کو ڈالرز کی ضرورت ہے اوردوسری طرف اربوں ڈالرجرمانہ ادا کرنے کی تلوارسر پرلٹکی ہوئی تھی،یہ کیس ہمارے گلے کی ہڈی بن گیاتھا۔ پاک فوج کے ذمہ داران کوسلام جنہوں نے دن رات محنت کرکے ریکو ڈک تنازعے کو حل کرکے پاکستان کو گیارہ  ارب ڈالر کے جرمانے سے بچایا اورمعاہدے کو زیادہ بہتر شرائط پر کیا۔ نئی شرائط سے بلوچستان کے لیے 8 ہزار بالواسطہ اور12 ہزار بلاواسطہ روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اس معاہدے میں بلوچستان کاخاص خیال رکھا گیاہے ،بلوچستان حکومت کوکوئی سرمایہ کاری کیے بغیر 25 فیصد منافع ملے گا اور تقریبا 60 کروڑ ڈالر سالانہ ملیں گے۔اس رقم سے بلوچستان میں ترقی کے نئے مواقع پیداہوں گے۔


ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے زیر سایہ تعلیمی ادارے معیاری اور جدید تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جن میں 157 سکول، 9کیڈٹ کالجز، 2 جدید یونیورسٹیز، 3 ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور ڈسٹنس لرننگ پروگراموں کے ذریعے تقریبا سات لاکھ طلباء کو بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلیم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان آرمی فرنٹیئر کور کی زیر نگرانی 113 سکولز چل رہے ہیں جن میں 40ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔اسی طرح  12 آرمی پبلک سکولز میں تقریبا 2 ہزار طلباء کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔صوبے میں9 کیڈٹ کالج بھی قائم کیے گئے ہیں جو سوئی، پشین، مستونگ، پنجگور، جعفرآباد، کوہلو، تربت، نوشکی اور آواران میں ہیں۔ ان کیڈٹ کالجز میں  2622 سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 2022  میں تربت میں  پہلا گرلز کیڈٹ کالج قائم کیا گیا جو انفراسٹرکچر اور معیار میں اپنی مثال آپ ہے۔


    اب آجائیے تعلیم جیسے اہم شعبے پر،جسے بہتربنائے بغیرکوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔ اگربلوچستان میں تعلیم کے فروغ میں فوج کے کردار پرنظرڈالیں تووہ بھی قابل تحسین ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے زیر سایہ تعلیمی ادارے معیاری اور جدید تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جن میں 157 سکول، 9کیڈٹ کالجز، 2 جدید یونیورسٹیز، 3 ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور ڈسٹنس لرننگ پروگراموں کے ذریعے تقریبا سات لاکھ طلباء کو بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلیم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان آرمی فرنٹیئر کور کی زیر نگرانی 113 سکولز چل رہے ہیں جن میں 40ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔اسی طرح  12 آرمی پبلک سکولز میں تقریبا 2 ہزار طلباء کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔صوبے میں9 کیڈٹ کالج بھی قائم کیے گئے ہیں جو سوئی، پشین، مستونگ، پنجگور، جعفرآباد، کوہلو، تربت، نوشکی اور آواران میں ہیں۔ ان کیڈٹ کالجز میں  2622 سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 2022  میں تربت میں  پہلا گرلز کیڈٹ کالج قائم کیا گیا جو انفراسٹرکچر اور معیار میں اپنی مثال آپ ہے۔بلوچستان کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوئٹہ میں نسٹ یونیورسٹی کیمپس اور کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز قائم کیے گئے ہیں۔ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، گوادرانسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اور آرمی انسٹی ٹیوٹ آف معدنیات بلوچستان کے لوگوں کو ٹیکنیکل ٹریننگ فراہم کررہے ہیں ۔ان تمام اقدامات کے نتائج آئندہ چندسال میں آناشروع ہوجائیں گے۔ان تعلیمی اداروں کے باعث بلوچ نوجوانوں کوآگے بڑھنے اورترقی کرنے کے نئے مواقع بھی ملیں گے۔


بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بھی پاک فوج نے  نمایاں کردارادا کیا ہے۔بلوچستان میں پانچ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ، لورالائی، خضدار، ژوب اور سبی مقامی لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعدادماہانہ تقریباً دس ہزارافراد ہے جو ان کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2016 سے اب تک 650 فری میڈیکل کیمپوں میں ساٹھ ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔اسی طرح 2018 سے، ٹیلی میڈیکل سینٹرز بھی کام کر رہے ہیں جو ویڈیو لنک کے ذریعے دور دراز علاقوں میں طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک تقریباً پچیس ہزار مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔


  مجھے یاد ہے جب میں رپورٹنگ کرتاتھا ،بلوچستان کے اُس وقت کے وزیراعلی لاہورآئے ،ان سے ملاقات اورسوال وجواب کی نشست ہوئی ۔میں نے کہاکہ آپ بلوچ عوام کوتعلیم ،صحت اوربجلی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کررہے ؟ انہوں نے جواب دیاکہ ''ان کی صوبائی حکومت ترجیحی بنیادوں پریہ سب کچھ کرنے کوتیارہے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں آبادی بہت پھیلی ہوئی ہے،ان کی حکومت کے لیے ممکن نہیں کہ کوئٹہ اوربڑے شہروں کونظرانداز کرکے دوردرازعلاقوں میں رہنے والوں کے لیے اربوں اورکھربوں روپے خرچ کرے۔بجلی اورگیس پائپ لائن بچھائے۔چھوٹے شہروں میں ہسپتال بنابھی دیں توڈاکٹراورعملہ جانے کے لیے تیارنہیں ہوتا''۔ ہوسکتاہے کہ ان کے جواب میں بعض دوستوں کووزن لگے،لیکن عوام کوصحت ،تعلیم ،روزگار اورجان ومال کاتحفظ فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔اس لیے صوبائی یاوفاقی حکومت کوبری الذّمہ قرارنہیں دیاجاسکتا۔اس کا فائدہ  شرپسند عناصر اٹھاتے ہیں اورریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
روزگاراورتعلیم کی طرح صحت کی سہولتوں کی فراہمی بھی بہت ضروری ہے۔اسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بھی پاک فوج نے  نمایاں کردارادا کیا ہے۔بلوچستان میں پانچ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ، لورالائی، خضدار، ژوب اور سبی مقامی لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعدادماہانہ تقریباً دس ہزارافراد ہے جو ان کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2016 سے اب تک 650 فری میڈیکل کیمپوں میں ساٹھ ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔اسی طرح 2018 سے، ٹیلی میڈیکل سینٹرز بھی کام کر رہے ہیں جو ویڈیو لنک کے ذریعے دور دراز علاقوں میں طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک تقریباً پچیس ہزار مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
    دوستوں ہم جانتے ہیں چین،پاکستان اقتصادی راہداری ،پاکستان اورخاص کر بلوچستان کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہے،اس سے ہمارے دشمنوں کوسب سے زیادہ تکلیف ہے۔ افواجِ پاکستان کی قیادت پر اعتماد کی وجہ سے چین نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔بلوچستان میں گزشتہ پانچ سال سے افواجِ پاکستان اور صوبائی انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے  اس راہداری کے 17 پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 18 منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں۔افواجِ پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت پندرہ سو کلومیٹرکی سڑکوں کا جال بچھا کر بلوچستان کے عوام کی بڑی منڈیوں تک رسائی یقینی بنائی گئی۔اس کے علاوہ ملکی پیداوار میں  پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی شمولیت بھی اسی راہداری کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے کی جائے گی، جس میں سر فہرست حب میں کوئلے سے چلنے والے 1,320 میگاواٹ پاور پلانٹ کی تکمیل ہے۔سولہ ارب روپے لاگت سے گوادر ڈیپ سی پورٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور خصوصی اقتصادی زونز کا قیام بھی افواج پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ان تمام منصوبوں کی پر امن تکمیل کے لیے دو سپیشل سکیورٹی ڈیویژنز بنائے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد سی پیک منصوبوں کو سکیورٹی مہیاء کرنا ہے۔منصوبوں کی یہ وسیع فہرست اس بات کا ثبوت ہے کہ افواجِ پاکستان بلوچستان کے عوام کی بہتری کے  لیے ہر شعبے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس عزم کی تجدید کر چکے ہیں کہ  بلوچستان کا امن اور خوشحالی پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے۔
      ہمارے یہاں بعض لوگ خواہ مخواہ یاخود کونمایاں کرنے اورخبروں میں رہنے کے لیے اداروں کوتنقید کانشانہ بناتے ہیں۔میڈیا،سول سوسائٹی اورفوج کے درمیان کوآرڈینیشن یاتعاون ہرملک  میں ہوتاہے۔یہ بہت ضروری بھی ہے،تمام ادارے ایک پیج پرنہ ہوں توترقی ممکن نہیں۔امریکہ کی ہی مثال لے لیں ،میں نے  وہاں دیکھا امریکی فوجی ہیڈکوارٹرپینٹاگون کی راہداریوں میں اخبارات اورجرائد میں شائع ہونے والی رپورٹس اورٹائٹلزکوانتہائی فخر اورخوبصورتی کے ساتھ سجایاہوا ہے،جن میں انکی فوج کے کارناموں کوسراہاگیاہے۔ہالی ووڈ کی فلمیں بھی آپ کے سامنے ہیں، یہاں تک کہ سٹیج ڈراموں میں بھی امریکی عوام میں اپنی  فوج سے محبت کاجذبہ جگانے اوربڑھانے کے لیے خصوصی مناظرشامل کیے جاتے ہیں۔میں واشنگٹن میں تین سوڈالر کاٹکٹ لے کرسٹیج ڈرامہ دیکھنے گیا تواس ڈرامے کی مرکزی کہانی بھی امریکی فوج کے بہادری کے قصوں کے گر د گھوم رہی تھی ،وہاں موجود امریکی آبدیدہ بھی ہوئے اورخوب تالیاں بھی بجائیں۔شاید اس کامقصدامریکی عوام کویہ بتاناہے کہ فوج ان کے ملک کے دفاع اورترقی میں کتنااہم کرداراداکررہی ہے۔امریکی صحافیوں میں یہ بات بھی مشہورہے کہ دوبڑے اخبارات واشنگٹن پوسٹ اورنیویارک ٹائمزکے دودروازے ہیں ایک اخبارکے دفترمیں کھلتاہے اوردوسرا پینٹاگون میں ۔وال سٹریٹ جرنل کے بارے میں بھی کچھ ایساہی مشہورہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں چند لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ فوج ،عوام اورسول اداروں کاایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ۔ سوشل میڈیا کو بھی ایک خاص ایجنڈے کے تحت اداروں کے خلاف استعمال کیاجارہاہے ۔ بات کسی اورطرف نہ نکل جائے میں اصل موضوع کی طرف واپس آتاہوں۔امریکہ،برطانیہ اوردنیاکے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح افواج پاکستان بھی ملک کی تعمیروترقی میں زبردست کردارادا کررہی ہیں ،ہمیں کھلے دل کے ساتھ اس کااعتراف کرناچاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو فوجی جوان اورافسراپنی جانوں کی قربانیاں دے ہیں انھیں ہمارا سلام ہے۔ اسی طرح بلوچستان سمیت خیبرپختونخوا اورملک کے دوسرے حصوں میں تعمیر وترقی کے لیے دن رات جو کام ہورہاہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔کبھی برفانی چوٹیوں اوربل کھاتے دریاکے درمیان گذرتی عظیم شاہراہ قراقرم کے بارے میں سوچیں جس کی تعمیر پر مغربی دنیا کے انجینئرزبھی حیران ہیں۔اس شاہراہ کی تعمیرمیں کتنے جوانوں نے اپناخون پیش کیا،شایدہمیں یاد بھی نہیں۔بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں جوجدیدترین انفراسٹرکچربن رہاہے وہ ایک خوشحال اورترقی یافتہ پاکستان کی نوید ہے۔
خونِ دل دے کرنکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ||


 مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 114مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP