قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان میں غیر مُلکی مداخلت

میں ایف سی کے آپریشن میں دہشت گردوں کی ہلاکت، فراری کیمپوں کی تباہی اور بھاری اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کے بعد جعفر ایکسپریس و دیگر ریل گاڑیوں اور ریلوے لائنوں پر حملوں اور اسلام آباد سبزی منڈی میں بم دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم \"یونائیٹڈ بلوچ آرمی\" کی طرف سے قبول کرنے سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ پہلا سوال یہ کہ بلوچ عسکریت پسند وں میں وفاقی دارالحکومت جیسے محفوظ علاقے میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کی استعداد کیونکر پیدا ہو گئی ؟ دوسرا یہ کہ کیا نام نہاد \"یونائیٹڈبلوچ آرمی \"کے بین الاقوامی سرپرستوں نے شرپسندوں کو دہشت گردی کی کاروائیوں کا دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک وسیع کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے ؟ ادھر امریکی محکمۂ خارجہ کی عالمی دہشت گردی سے متعلق حالیہ رپورٹ میں نہ صرف یہ کہ \"پاکستان دہشت گردی کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہا \" والا گِھسا پِٹا اور حسبِ معمول قسم کا الزام دہرایا گیا بلکہ ساتھ ساتھ یہ انوکھا \"انکشاف \" بھی کیا گیا کہ فاٹا اور بلوچستان کے مدارس افغانستان اور بھارت پر حملوں کا سبب ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات اپنی جگہ، مگر غیر جانبدار عالمی مبصرین بلوچستان کے معاملے پر کچھ اور ہی طرح کی کہانی سُناتے ہیں۔

مثال کے طور پر2اپریل 2014کو سعودی عرب کے تین دہائیوں پرانے معروف انگریزی اخبار ’’سعودی گزٹ‘‘*میں جنو ب مشرقی ایشیائی امور کے ماہر اور سابق سینئر سعودی سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی نے اپنے مضمون ’’بلوچستان اینڈ دی یونٹی آف پاکستان‘‘ میں بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے متعلق چشم کشا انکشافات کئے ہیں۔ ڈاکٹر علی الغامدی کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (BLA) پاکستان کے خلاف باغیانہ سر گرمیوں کے ذریعے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے خطرے کے طورپرابھری ہے ۔ اس عسکریت پسند گروہ نے مادی واخلاقی امداد کیلئے امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کے ذریعے امریکہ سمیت بیرونی طاقتوں سے تعلقات استوار کررکھے ہیں۔ ڈاکٹر علی الغامدی کے مطابق ایک بڑے قبائلی راہنمانے کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ایک پڑوسی ملک کی طرف سے 20لاکھ ڈالرکے اخراجات برداشت کرنے کے وعدے پر بلوچستان کے معاملے کوعالمی عدالت انصاف میں اُٹھانے کی کوشش کی ۔ امریکی کانگرس کے سامنے تین ارکان نے ایک بل پیش کیا ۔ بِل میں کہا گیا کہ \"بلوچستان اس وقت پاکستان وایران اورافغانستان میں منقسم ہے جسے اقتدارِ اعلیٰ کے حقوق نہیں دیئے جارہے۔\" ڈاکٹر علی الغامدی کے مطابق کانگر یس میں پروپیگنڈا کیا گیا کہ حق خودارادیت مانگنے والے بلو چوں کو پاکستان میں تشدد ، ماورائے عدالت ہلاکتوں اورآبائی علاقوں سے بے دخلی کاسامنا ہے ۔ کانگریس کی ایک کمیٹی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی نام نہاد خلاف ورزیوں بابت اجلاس منعقد کئے اورپاکستان سمیت وسط ایشیاء کے کچھ ملکوں کونسلی ، علاقائی ، لسانی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پرتقسیم کرنے کا ایک نیا روڈ میپ تجویز کیا۔ ڈاکٹر علی الغامدی کے مطابق امریکی حکومت نے بظاہر اِن منصوبوں سے لاتعلقی کااعلان کیا مگراندرونِ خانہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہیّا کردہ فنڈز سے چلنے والی این جی اوز اور ریسرچ سنٹر ز بلوچ عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔کوئٹہ میں قونصل خانہ کھولنے کے لئے امریکہ پاکستان پرمسلسل دباؤ ڈالتا رہا ہے تاکہ بلوچستان کے اندر بیٹھ کر سفارتی مشن کے بہانے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی تنظیموں کی خفیہ سرپرستی کی جا سکے ۔ ڈاکٹر علی الغامدی سمجھتے ہیں کہ امریکی کانگریس کی مذکورہ بالا ’’ٹی پارٹی‘‘ کے ارکان پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو الگ کر کے وہاں ایک آزاد ریاست قائم کرنے کے لئے پیہم مصروفِ عمل ہیں۔

ڈاکٹر علی الغامدی کے مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے بلوچ عسکریت پسندوں کی مالی امداد کی مد میں بڑی بڑی رقومات وہاں کے قبائلی سرداروں کی جیبوں میں آرہی ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر اگلے امریکی انتخابات میں ری پبلکن برسرِاقتدار آگئے تو بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی طرف سے پُر تشدد کاروائیوں میں مزید اضافہ ہو گا اور اُنھیں امریکی کانگریس کے’’ٹی پارٹی‘‘ارکان کی طرف سے انسانی حقوق کے تحفّظ کی چھتری تلے ڈھیروں فنڈزملیں گے۔ اِس پسِ منظر میں ڈاکٹر علی الغامدی نے بلوچستان میں سیاسی پیش رفت کرنے، امریکی کانگریس ارکان و دیگر بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو سختی سے روکنے اور مقامی میڈیا میں انسانی حقوق کے تحفّظ کے بہانے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے بین الاقوامی دوغلے پن اورامریکی کانگریس اراکین کی سازشوں کوبے نقاب کرنے کے مشورے دیئے۔ ڈاکٹر علی الغامدی سمجھتے ہیں کہ بلوچ عسکریت پسند ایک انتہائی چھوٹا گروہ ہیں جو اِس صوبے کے محبِ وطن ، جمہوریت پسند اور امن و انصاف کے متلاشی عوام کو تشدد اور علیحدگی پسندی کا راستہ اختیار کرنے پر اکسانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ تجزیہ کار موصوف کے خیال میں بلوچ عوام کی مقامی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ہی عسکریت پسند مادی و اخلاقی امدادکے لئے بیرونی طاقتوں،افراد اور غیر ملکی خُفیہ ایجنسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

سابق سعودی سفارتکار کے مشاہدات کوئی نئی بات نہیں۔ 30ستمبر 2013ء کو ہندوستان کے دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے Indian Defence Review میں اپنے طویل مضمون \"How to make Proxy War succeed in Baluchistan\" میں مختلف ممالک میں ہونے والی بغاوتوں کے حوالے دے کر ہند سرکار کو بلوچستان میں بھارتی پراکسی وار کو توسیع دینے پر زور دیا۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کا خیال ہے کہ بلوچستان میں بھارتی پراکسی وار تقریباََ 40فیصد پاکستانیوں کو متاثر کررہی ہے۔ موصوف کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے امریکیوں کو آزاد بلوچستان کے قیام کے مشورے دیئے جِن کی روشنی میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی۔6 اور امریکی سی آئی اے نے اِس صوبے میں بغاوت کیلئے تقریباََ دو بریگیڈ فوج کے برابر کم وبیش چار سے چھ ہزار لڑاکا عسکریت پسند تیار کئے ۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نامی عسکریت پسند گروہ کو 80ء کی دہائی میں سابق سوویت یونین نے تشکیل دیا تھا اور مذکورہ گروہ کے عسکریت پسندوں کیلئے روسی امداد سال 1989ء تک مسلسل جاری رہی تاہم اُس کے بعد بند ہو گئی ۔ مغربی طاقتیں بلوچ لبریشن آرمی کی امداد کرنے میں ابتدائی طور پر انتہائی محتاط تھیں مبادا اُن کی امدادغلط ہاتھوں میں چلی جائے یا غلط طورپر استعمال ہو جائے۔ تاہم سال 2002ء میں بھارتی خُفیہ ایجنسیRAW نے بلوچ باغیوں کا ایک گروہ منتخب کیا جسے امریکی اور روسی خفیہ ایجنسیوں نے گوریلا لڑائی کی تربیت فراہم کی ۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کے مطابق پاکستان کے اندر بلوچستان کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بلوچ باغیوں کے ٹریننگ کیمپ موجود ہیں تاہم موصوف کو شکایت ہے کہ ان ٹریننگ کیمپوں کی تعداد اور تربیت فراہم کرنے کی استعداد کم ہے۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کے مطابق بھارتی فوج نے 1960ء میں ناگالینڈ اور 1980ء میں بھارتی پنجاب میں علیحدگی پسندوں کو اغوا کر کے غائب کیا اور اِس طرح کے حربوں سے دونوں صوبوں میں علیحدگی کی تحریکوں کو کچل دیا جس کی وجہ سے یہ علاقے تاحال بھارت ہی کا حصہ ہیں تاہم موصوف کو خدشہ ہے کہ کہیں بھارتی فوج کی طرز پر پاکستانی حکومت بھی بلوچستان کی شورش پر قابو نہ پالے ۔ چنانچہ ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے ہند سرکار کو مشورہ دیا کہ 1850میل لمبی پاک بھارت سرحد پر بھارتی فوج اپنی توپیں مسلسل پاکستان کی طرف چلاتی رہے تاکہ پاک فوج کو مشرقی سرحدوں پر مصروف رکھ کر اُس کی توجہ بلوچستان سے ہٹائی جا سکے۔ پاکستان کی مغربی سرحد کے اس پار بھارت کے متعدد سفارت خانے اورقونصل خانے موجود ہیں جو بھارت کے مذموم مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں۔

بھارتی ایجنسی RAW کے سابق سینئر افسر اورہند سرکارکے سابق ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ سیکرٹریٹ اور حالیہ ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ فارٹاپیکل سٹڈیز ، مسٹر بی رامن نے بھی 19جولائی 2009ء کو کانگریس کی راہنما سونیا گاندھی کے نام کھلا خط تحریر کیا ۔ مذکورہ کُھلے خط میں بی رامن نے بلوچ قبائلی سرداروں کی انڈین نیشنل کانگریس کے بانی قائدین کیلئے پائی جانے والی نام نہادپسندیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی حکومت کو پاکستانی صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی کھلے طور پر امداد کرنے اور معاملے کو مختلف بین الاقوامی فورمز پر اچھالنے کی ترغیب دی۔ امریکہ میں سال 2009ء میں خارجہ امور فورم پر منعقدہ گول میزکانفرنس کے دوران جنوبی ایشیائی امور کی ماہر خاتون امریکی سکالر ڈاکٹر کرسٹین فیئر نے بھی بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بارے میں کچھ ایسے ہی انکشافات کئے تھے۔ ڈاکٹر کرسٹین فیئر کے مطابق ایرانی شہر زاہدان میں واقع انڈین سفارتی مشن کے دورے کے دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ مذکورہ \'سفارتی مشن وہاں ویزے جاری کرنے کی بجائے بلوچستان میں شورش برپا کرنے کا خفیہ آپریشن چلا رہاتھا۔* بھارتی اہلکاروں نے پرائیویٹ طور پر ڈاکٹر کرسٹین فیئر کو خود بتایا کہ وہ اِس مقصد کیلئے بلوچستان میں کثیر سرمایہ خرچ کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر کرسٹین فیئر کے خیال میں مزارِ شریف ، جلال آباد اور قندھار میں سرحد کے ساتھ ساتھ واقع بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے نہ صرف یہ کہ افغانستان میں طالبان مخالف شمالی اتحاد کی خفیہ امداد کی جارہی تھی بلکہ مذکورہ قونصل خانے پاکستانی علاقوں میں اشتعال انگیز کاروائیاں کروانے میں بھی پوری طرح ملوّث تھے جنہیں کابل حکومت کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں اِس حقیقت کا برملا اظہار کیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے اِس خطّے میں بڑھتا ہوا بھارتی اثرورسوخ مستقبل میں علاقائی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بلوچ عسکریت پسندوں کو افغانستان کے راستے اور بھارتی گاؤں کشن گڑھ میں واقع اسلحہ ڈپو اور ٹریننگ سنٹر سے ہر طرح کی مالی و فوجی امداد ملتی ہے۔ چمن بارڈر کے ذریعے بھی غیرقانونی افغان مداخلت کار بھارتی ایجنسی RAW اور افغان ایجنسی NDS کے تعاون سے بلوچ لبریشن آرمی کے شرپسندوں کو اسلحہ اورمالی امداد پہنچاتے ہیں۔ افغان علاقے کابل، نمروز، قندھار، ہلمند، شوراواک اور غزنی کے صوبوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹریننگ کیمپ ہیں۔ RAW اور NDS مل کر اپنے ایجنٹوں کو بلوچی زبان کے کورس کرواتے ہیں۔ قندھار کا بھارتی قونصل خانہ بھی بلوچ عسکریت پسندوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے متعدد بار بلوچ تخریب کاروں کے خلاف آپریشن کے دوران اُن کے قبضے سے بھارتی ساختہ اسلحہ برآمد کیا۔

بہر طور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کے نام نہاد دوست اور دُشمن دراصل ایک ہی سِکّے کے دو رُخ ہیں۔ آواران کے زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے پنجاب سے جانے والی فلاحی اداروں کی ٹیموں پر \"زلزلہ متاثرین \" کے بہروپ میں مسلح تخریب کاروں کے حملوں اور اغوا کاریوں میں بھی ایسے ہی اشارے ملتے ہیں۔ ہمارے کچھ سادہ لوح دانشور مگر لاشعوری طور پر بھارتی ایجنسیRAW کے تھیم کے مطابق نام نہاد \"ناراض بلوچوں\" کے میڈ یافر ینڈلی احتجاج اور اسٹیبلشمنٹ کے فرضی \"ظلم\" کی داستانیں مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ، اپنا آج ہمارے کل پر قربان کرنے والے سیکورٹی فورسز کے سرفروشوں پر ہی گرجتے برستے رہتے ہیں اور انھیں ظالم کے روپ میں پیش کر کے وطنِ عزیز کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ دریں حالات انتہائی ضروری ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام اپنی صفوں میں گھسے دشمن کو بے نقاب کریں اور عسکری ، سیاسی، سفارتی اور صحافتی سطح پر دشمن کے مقابلے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔

[email protected]

یہ تحریر 108مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP