قومی و بین الاقوامی ایشوز

نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور بھارتی سیاست

1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام عالم کو ایک ایسا ادارہ بنانے پر مجبور کر دیا جو مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی کاروبار کی شناخت اور پرامن مقاصد کے نام پر پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کر سکے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام عالم ایک ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئیں جسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا نام دیا گیا۔


نیوکلیئرسپلائرز گروپ کے رکن ممالک میں امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، ترکی اور کینیڈا سمیت کم و بیش 48ممالک شامل ہیں۔ سال 2016-17 کے لئے این ایس جی کی صدارت ریپبلک آف کوریا کے پاس ہے۔ اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے چنداصول و ضوابط بنائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے
*****

نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔
*****


i۔ ایٹمی مواد ترسیل کرنے کی مکمل صلاحیت۔
ii۔ این ایس جی کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر پابندی اور ان پر من و عن عمل کرنا۔
iii۔ ایک یا ایک سے زیادہ نیوکلیئرنان پرولیفریشن معاہدوں کا پابند ہونا۔
iv۔ مقامی برآمدات کے کنڑول سسٹم کی مکمل پاسداری این ایس جی کی مکمل ہدایات کے مطابق کرنا۔
v۔ مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور ان کی ترسیل کی مشینری کی بیرونی منتقلی کو روکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرنا۔
یہ وہ چند بنیادی اصول و ضوابط ہیں جن کے تحت کوئی ملک اس گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اب اگر کوئی ملک ان ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کرے گا تو یہ ان ممالک کے ساتھ ناانصافی ہو گی جو ان ضوابط پر عمل کرنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہوئے اور دوسرا اس گروپ کی اپنی شفافیت پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔
نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے۔ دیگر اسباب کے علاوہ سب سے اہم اور بڑی وجہ مغرب میں موجود کاروباری لابی ہے جو کہ مستقبل قریب میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دوسری وجہ رعایات دینے کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسا کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ کا سب سے بڑا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی کی ترسیل ان ممالک میں روکنا ہے جو یا تو پہلے سے اسے استعمال کر رہے ہیں یا پھر بین الاقوامی ایٹمی تحفظ کے ادارے کے قوانین کے مطابق عمل نہیں کر رہے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ایٹمی مواد یا ری ایکٹر ابھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے۔


نئے بدلتے حالات اور عالمی برتری کی دوڑ میں امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں کہ امریکہ اور بھارت سول نیوکلیئرڈیل کے بعد اب ایک دوسرے کے سٹریٹجیک پارٹنرز ہیں۔ نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے بھی بھارت کو امریکی پشت پناہی اور حمایت حاصل تھی۔ ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اگرچہ 11اور 12نومبر 2016کو این ایس جی کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی رائے کو اگر مدنظر رکھیں تو بھی بھارت کی مخالفت میں بہت سے ممالک تھے جن میں خاص طور پر آئرلینڈ، چین اور آسٹریا نے بھارت کے خلاف اپناموقف بدلنے سے انکار کیا اور اصول و ضوابط پر اترنے والے تمام ممالک کو اس میں شامل کرنے پر زور دیا۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔


نیوکلیئرسپلائرزگروپ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ کی جانب سے یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ چین نے پاکستان کو این ایس جی میں شمولیت پر اُکسایا اور پاکستان تو جیسے نیوکلیئرگروپ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ تاثر پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے تو بھارت کی اس گروپ میں شمولیت سے پہلے ہی 2004میں
Export Control Act 
پر عمل شروع کر دیا تھا۔ ایک اور تاثر جو پاکستان کے خلاف دیا گیا کہ پاکستان نے صرف بھارت کو دیکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی درخواست دی یہ بھی سراسرجھوٹ کا ایک پلندا اور من گھڑت بات تھی کیونکہ این ایس جیمیں شمولیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو بتایا گیا کہ کوئی بھی
Non-NPT
ملک اس گروپ میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن جب بھارت کو امریکہ کی طرف سے مئی میں اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دینے کا کہا گیا تو پاکستان نے 6دنوں کے اندر اندر 300صفحات پر مشتمل ایک مکمل دستاویز بنا کر اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دی۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ پاکستان نے اپنا ہوم ورک پہلے سے کیا ہوا تھا۔ ظاہر ہے بھارت اگر 
Non-NPT
ہوتے ہوئے اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دے سکتا ہے جس کا اپنا نیوکلیئرپروگرام بھی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق محفوظ نہیں سمجھا جاتا تو پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تو دنیا محفوظ اور موثر ہونے کا اعتراف بھی کرتی ہے تو پھر پاکستان یا دیگر ایسی اہلیت کے ممالک اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیوں نہیں کر سکتے۔ یہ تو اب بین لاقوامی کمیونٹی کو سوچنا ہو گا کہ چند ممالک کے ساتھ برتی گئی ناانصافی دنیا میں عدم توازن بڑھائے گی اور دنیا میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔

یہ تحریر 297مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP