ماحولیات

ماحولیاتی آلودگی اور انسانی بقاء

 گزشتہ دنوں عالمی ادارۂ صحت نے ایک رپورٹ شائع کی۔ اُس کے مطابق فضا میں موجود آلودگی کے صحت پر انتہائی ضرر رساں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور  سرطان بھی ہو سکتا ہے، دل کے امراض اس کے علاوہ ہیں۔ آپ فضائی آلودگی میں کم یا زیادہ وقت گزاریں، اس کے اثرات آپ پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے:
بچے، بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے، بوڑھے لوگوں اور غریب آبادی کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ زہریلی اور صحت کے لیے ضرر رساں آلودگی قبل از وقت موت کی ایک نمایاں اور بنیادی وجہ ہے۔ 
اسی طرح سے ویب سائٹ "Our World in Data" دنیا کو اعداد و شمار کی روشنی میں درپیش مختلف چیلنجوں کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ ویب پر چار ماہ قبل ایک محقق میکس روزر کا ایک تحقیقی مقالہ شائع ہوا جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم اس وقت حقیقی معنوں میںخطرے کی زد پر ہیں۔ خوف زدہ ہونا فطری ہے مگر گھبرانا اس لیے نہیں کہ اس دنیا میں ہم اکیلے اس تباہی کا سامنا نہیں کر رہے۔
 سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ فضا میں موجود آلودگی سے اموات کی سالانہ تعداد 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ 



میکس روزر کے بیان کیے گئے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ ''پریشان کن'' نہیں۔ دنیا کی تقریباً سات ارب آبادی میں سے محض 70 لاکھ؟ چنانچہ نئی فیکٹریاں لگانے میں حرج ہی کیا ہے تاکہ آلودگی میں مزید اضافہ ہو۔ ان فیکٹریوں میں تیار ہونے والی مصنوعات ہر طبقے کا فرد خریدتا ہے جن میں ظاہر ہے بڑی تعداد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہوگی جو کسی فیکٹری میں یا ایسے ہی کسی کاروبار سے منسلک ہوں گے۔ یوں ان کی ہی محنت سے کمائی دولت سے ہر فیکٹری اپنا ریونیو جنریٹ کرے گی اور آلودگی پھیلانے کے لیے اپنے ملک کے علاوہ افریقا اور امریکا سمیت کسی بھی ملک کا انتخاب کر سکتی ہے، کہنے کا مطلب ہے، ان خطوں میں ایک نئی فیکٹری لگا سکتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کا گھن چکر ہے جو ایک طویل بحث کا متقاضی ہے  یہ اعداد و شمار اندازوں پر مبنی ہیں۔ یہ تعداد اس سے کئی گنا بلکہ کئی سو گنا بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ 
جنوبی ایشیائی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے قبل بھارت کے حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کہنے کو ایک سرحد ہی تو دونوں ملکوں کے درمیان حائل ہے بلکہ اب تو ہندوتوا کی گہری ہوتی ہوئی جڑیں دونوں ملکوں میں دوریاں پیدا کر رہی ہیں مگر جغرافیائی نہیں۔ دنیا کے آبادی کے اعتبار سے دوسرے بڑے ملک انڈیا میں 2019 میں فضائی آلودگی سے اموات کی تعداد Statista نامی ادارے کے مطابق، 1.66 ملین رپورٹ ہوئیں جن میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا کیونکہ محض ایک برس قبل 1.64 ملین انسان چہار وانگ پھیلی زہریلی ہوا کے مضر اثرات کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔ 
ہارورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی کالج لندن اور دیگرتعلیمی اداروں کے سائنس دانوں کی  ایک نئی تحقیق کے مطابق، فوسل فیولز ،یعنی ایندھن اور کوئلہ جلانے سے صرف انڈیا میں مجموعی اموات میں سے 30 فی صد سے زیادہ لوگ فضائی آلودگی سے اگلی دنیا سدھار گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا میں سالانہ 25 لاکھ لوگ زہریلی گیسوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اُتر جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔ یہ تحقیق 9 فروری کو انوائرنمنٹل جرنل نامی تحقیقی مجلے میں شائع ہوئی جس میں یہ کہا گیا کہ ہر سال فوسل فیولز کے جلائے جانے کے باعث تقریباً80 لاکھ افراد مر جاتے ہیںا ور اوسطاً ہر پانچ میں سے ایک موت کی وجہ یہ زہریلی ہوا ہے۔ 
سادہ الفاظ میںبات کی جائے تو ہم ترقی پذیر ملکوں کے انسان بالخصوص زہر میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے ماحولیاتی آلودگی کے صرف ایک مظہر پر بات کی ہے جبکہ آبی آلودگی ایک ایسا مظہر ہے جو ترقی پذیر ملکوں میں بالخصوص اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دی ورلڈ کائونٹس نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق آلودہ پانی کے باعث ہر 10 سیکنڈ میں ایک انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 36 لاکھ لوگ اللہ تبارک تعالیٰ کی جانب سے دی گئی اس نعمت میں شامل آلودگی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں کیوں کہ اپنوں نے ہی پانی کو زہریلا کیا ہے اور ویب سائٹ پر آلودہ اور زہریلے پانی سے ہونے والی اموات رواں سال کے تین ماہ مکمل ہونے سے قبل سات لاکھ 69 ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔ 
زیادہ حیران نہ ہوں مگر پریشان ہونا فطری اَمر ہے کیوں کہ آئی کیو ایئر کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق، دنیا کے سرفہرست آلودہ ملکوں میں بنگلہ دیش پہلے(جو کبھی مشرقی پاکستان تھا) ، پاکستان دوسرے ( جو کبھی مغربی پاکستان تھا) اور انڈیا تیسرے نمبر پر ہے اور یہ تینوں ملک جنوبی ایشیا میں ہیں جب کہ اس فہرست میں افغانستان بھی شامل ہے۔ 
پاکستان کوماحولیاتی آلودگی سے متعلق خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔حکومت نے بہرحال ماحولیات کے معاملے کو خاص ترجیح دی اور ملک کے طول و عرض میں بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی ہوئی البتہ آبی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اب تک کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے گئے جو پاکستان میں بھی قبل از وقت موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ State of Global Air نامی ویب سائٹ کے 2017کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں. صرف فضائی آلودگی سے اموات کا 9 فی صد حصہ بنتا ہے ۔ فضائی وآبی آلودگی کو وطنِ عزیز میں ہونے والی اموات کی اہم ترین وجہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 
 یہ بھی حقیقت ہے کہ فضائی آلودگی سے اوزون کی سطح کو نقصان پہنچ رہا ہے یا ثقیل اصطلاحات کا استعمال کر کے بھی موضوع کی سنگینی کو بیان کیا جا سکتا تھا مگر کیا ہی اچھا ہو کہ ہم لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، آسان اور زیادہ ابلاغ کے قابل لکھ کرتاکہ ہر ذہنی سطح کے قاری سے ابلاغ ممکن ہو سکے۔ احتیاط کیجئے، کہ اسی میں عافیت ہے، کرونا ختم ہو چکا مگر ہوا میں زہر کے ذرات موجود ہیں لہٰذا ماسک ضرور پہنئے اور خوش رہئے کہ غمگین رہنا بھی ایک بیماری ہی ہے اور یہ ماحولیاتی آلودگی کی طرح ہی انسانی بقا کے لیے مہلک بھی ہے۔ ||


مصنفہ صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں اور مختلف موضوعات پر مضامین لکھتی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 237مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP