قومی و بین الاقوامی ایشوز

یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ایشین جونیئر اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ٹرپل جمپ میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے جونیئر اتھلیٹ محمدافضال سے ہلال کی خصوصی گفتگو

دنیا کے ہر میدان میں اس پاک وطن کے کھلاڑی اس کے سز ہلالی پرچم کو سربلند کرتے چلے آئے ہیں جو ایک خوش آئند امر ہے ۔ کھیلوں کی سرپرستی کے حوالے سے پاک فوج بھی ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے کہ اس کے زیرِ تربیت کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں اپنے وطن کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ حال ہی میں دوہا قطر میں ایشین جونیئر اتھلیٹکس چیمپئن شپ منعقد کی گئی جس میں مختلف ممالک کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ پاکستان آرمی کی طرف سے سترہ سالہ محمدافضال نے ٹرپل جمپ کے مقابلے میں ملک کی نمائندگی کی اور سونے کا تمغہ حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا۔ہلال نے اپنے قارئین کے لئے محمدافضال سے خصوصی گفتگو کی جو پیشِ خدمت ہے۔

ہلال: آپ قارئین کو اپنے متعلق کچھ بتائیں؟

محمدافضال: میرا تعلق ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں ورن سے ہے میرے والد محمداشرف زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔

ہلال: آپ اپنی اس کامیابی کے متعلق کیا کہنا چاہیں گے؟

محمدافضال: میرے لئے یقیناًیہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا موقع ملا ۔ ایک عالمی سطح کے مقابلے میں شرکت کرنا اور ملک کی نمائندگی کرنا میرے لئے بڑے فخر کی بات تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ بھی میرے احساس کو بیدار کررہا تھا کہ جس ملک نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے تو میرا بھی فرض ہے کہ میں اس کے نام کو سربلند کرنے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں۔ بین الاقوامی مقابلوں میں اس بات کا احساس اور بھی بڑھ جاتا ہے‘ عزم مزید پختہ ہو جاتا ہے اور جیت کا جذبہ اپنی انتہا کو چھونے لگتا ہے مگر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اﷲ کی مہربانی ‘ ماں باپ کی دعاؤں اور اساتذہ کی شفقت اور رہنمائی سے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اور ملک کا نام روشن کیا۔

اس چیمپیئن شپ میں میرا مقابلہ انڈیا‘ سری لنکا‘ چین‘ ایران‘ قطر اور ملائشیا کے اتھلیٹس سے تھا۔ اس وقت بطور پاکستان کا نمائندہ اتھلیٹ ہونا میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

ہلال : مقابلے کے وقت آپ کے کیا عزائم تھے۔

محمدافضال :مقابلہ کوئی بھی ہو اور حریف جیسا بھی ہو جیت کا جذبہ توضرور ہوتا ہے مگر میرے لئے یہ مقابلہ اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس میں دیگر ممالک کے علاوہ روایتی حریف انڈیا بھی شامل تھا۔ میرا حوصلہ بلند تھا‘ میرا عزم جیت تھا۔ اس چیمپیئن شپ میں میرا مقابلہ انڈیا‘ سری لنکا‘ چین‘ ایران‘ قطر اور ملائشیا کے اتھلیٹس سے تھا۔ اس وقت بطور پاکستان کا نمائندہ اتھلیٹ ہونا میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

ہلال: آپ اپنی اب تک کی کارکردگی کے متعلق کیا کہنا چاہیں گے؟

محمدافضال: میں نے پاکستان میں ہونے والے مختلف سطح کے مقابلوں میں حصہ لیا اور ہمیشہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مگر اس چیمپئن شپ میں میری کارکردگی ملکی سطح سے بہتر رہی پاکستان میں میری سب سے اچھی پرفارمنس 15.07 میٹر جمپ ہے بلکہ قطر میں ہونے والے مقابلے میں میری کارکردگی 15.44 میٹر رہی اور یوں میں اس سطح کے مقابلوں میں25 سال بعد گولڈ میڈل کے اعزاز کا حقدار ٹھہرا۔

ہلال: آپ اپنی اس کامیابی میں سب سے اہم کردار کس کا سمجھتے ہیں؟

محمدافضال: میں اپنی اس کامیابی میں سب سے بڑا اور اہم کردار پاکستان آرمی کا ہی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ پاک آرمی ینگ بوائز جیسی سکیموں کے ذریعے ملک میں ینگ ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرتی ہے اور یوں مختلف کھیلوں کے لئے بہترین سپورٹس مین سامنے آتے ہیں۔

آرمی چیف نے مجھے گلے سے لگا کر میری پذیرائی کی اور میری اس کامیابی کو نوجوان نسل کے لئے مثال قرار دیا۔ میرے لئے بھی یہ بات قابل فخر تھی کہ میں پاک فوج کے سربراہ سے ملا۔ میں جانتا ہوں کہ پاک فوج کی تربیت میں جذبہ‘ محنت اور کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور مجھے خوشی بھی تھی کہ میں اُن کی توقعات پر پورا اترا ہوں۔ اُس وقت بھی میرے وہی جذبات تھے جومیرے چیمپئن شپ جیتنے پر قومی ترانہ کے موقع پر تھے۔ میری پُرنم آنکھیں ہی میرے اس جذبے کی عکاسی کرسکتی تھیں۔

ہلال: آپ کو پاک آرمی ینگ بوائز پروگرام کے لئے کب منتخب کیا گیا؟

محمدافضال: مجھے 4 جولائی 2011ء کو پاک آرمی ینگ بوائز پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا۔ اُس سال آرمی کی جانب سے22 سٹیشنز کا وزٹ کیا گیا۔ جس میں18805 بچوں کا ٹرائل لیا گیا اور آخری مرحلے میں صرف 100 کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا مَیں بھی اُن میں شامل تھا۔

ہلال: بطور اتھلیٹ یہ کب انکشاف ہوا کہ آپ کو ٹرپل جمپ میں قسمت آزمائی کرنا چاہئے؟

محمدافضال: پاک آرمی ینگ بوائز میں اتھلیٹکس کے کھلاڑی کے لئے مختلف شعبے ہیں شروع میں مختلف کھیلوں کا حصہ بنایاجاتا ہے اور اس دوران ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے پھر اُن میں سے منتخب ہونے والوں کو اس کھیل سے متعلقہ ٹریننگ دی جاتی ہے اوراُن کی فٹنس پر توجہ دی جاتی ہے۔ میرا بھی پہلا سال فٹنس کے معیار کو بہتر بنانے میں گزرا۔ میری ٹریننگ 3 سال 8 ماہ میں مکمل ہوئی اسی دوران میرے کوچز اور مجھے اندازہ ہوا کہ اتھلیٹکس کی باقی کیٹیگریز کے مقابلے میں لانگ جمپ میں بہتر ہوں بلکہ خصوصی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہوں۔ میری جمپ ٹریننگ کی مدت 2 سال 8 ماہ ہے۔ میں اپنے سینئر ٹرینئر لیفٹیننٹ کرنل ناصر تونگ اور اپنے اساتذہ نائب صوبیدار مقصود‘حوالدار قادر یار اور نائب صوبیدار وسیم کا شکرگزار ہوں جن کی محنت کی بدولت یہ اعزاز حاصل کرنے کے قابل ہوا۔

ہلال: چیف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کرنا کیسا لگا؟

محمدافضال: میرے لئے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہ تھی میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کا شرف حاصل ہوگا اور مجھے زندگی میں کسی موقع پر اس قدر سراہا جائے گا۔ آرمی چیف نے مجھے گلے سے لگا کر میری پذیرائی کی اور میری اس کامیابی کو نوجوان نسل کے لئے مثال قرار دیا۔ میرے لئے بھی یہ بات قابل فخر تھی کہ میں پاک فوج کے سربراہ سے ملا۔ میں جانتا ہوں کہ پاک فوج کی تربیت میں جذبہ‘ محنت اور کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور مجھے خوشی بھی تھی کہ میں اُن کی توقعات پر پورا اترا ہوں۔ اُس وقت بھی میرے وہی جذبات تھے جومیرے چیمپئن شپ جیتنے پر قومی ترانہ کے موقع پر تھے۔ میری پُرنم آنکھیں ہی میرے اس جذبے کی عکاسی کرسکتی تھیں۔

ہلال: آپ اپنے مستقبل کے ارادوں سے کچھ آگاہ کریں گے۔

محمدافضال: میں مستقبل میں بھی اپنے ملک و قوم کا نام روشن کرنا چاہوں گا اس کے علاوہ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ انشاء اﷲ میں پاکستان آرمی کو جائن کر کے ملک کی خدمت کروں گا۔

یہ تحریر 24مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP