متفرقات

یہ موسم کب بدلے گا ؟

اگرکسی کو کینیڈا آنا ہو تو اُسے چاہئے جولائی اگست میں آئے۔ موسم کے اعتبار سے یہ بہترین وقت ہوتا ہے۔ ونکوور میں خاص طور پر یہ سیزن بہترین ہوتا ہے۔ سیاحوں کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں‘ مختلف فیسٹول بھی ہوتے ہیں‘ سیر و تفریح کے لئے یہ مہینے موزوں ہیں۔ دن لمبے ہوتے ہیں‘ گھومنے پھر نے کے لئے زیادہ وقت ملتا ہے‘ سکولوں میں تعطیلات بھی ہوتی ہیں لہٰذا ہلاّ گلاّ رہتا ہے۔


یکم جولائی کو کینیڈا ڈے کے موقع پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ کینیڈا ڈے کو نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن میں میلا لگتا ہے اور اس کی سب سے خاص بات وہ پریڈ ہے جس میں کینیڈا میں بسنے والے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی ثقافت کا پرچار کرتے ہیں۔ اس مرتبہ مجھے یہ پریڈ دیکھنے کا موقع ملا‘ وقت شام کا تھا مگر میں میلا ٹھیلا دیکھنے صبح دس بجے ہی ڈاون ٹاؤن پہنچ گئی۔ خوب رونق تھی‘ میوزک‘ کنسرٹ‘ کھانوں کے اسٹال‘ دلکش پہناوے‘ مجھے اچھا لگا۔ ایک اسٹال پہ فری میک اپ اور ہیئراسٹائل بنایا جارہا تھا‘ میں نے بھی شوق پورا کیا اور میک اپ کروایا‘ پھر دیکھا فری پیزا کے لئے قطار لگی ہے‘ میں نے بھی پیزا کھایا‘ پھر ایک مشہور جم کا اسٹال دیکھا جو ہفتے بھر کی فری ممبر شپ دے رہے تھے۔ یہ مفت کا آئٹم بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ایک اسٹال تھا جہاں خواتین ٹوٹی پڑ رہی تھیں۔ بس عورتوں کے رش نے حوصلہ توڑ دیا ورنہ میں بھی گل بوٹے ضرور بنواتی۔ دراصل یہ جو لفظ ’فری‘ ہوتا ہے اس میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ میں‘ جتنے فری اسٹال تھے‘ جوس کے‘ چائے کے‘ دودھ کے‘ کھانے کے‘ تقریباً سبھی سے مستفید ہوئی۔ بس ایک مہندی رہ گئی۔ خیر کوئی بات نہیں۔ شام سات بجے پریڈ تھی جس میں پاکستان قونصل کی جانب سے وطنِ عزیز کی نمائندگی ہونی تھی۔ میں نے سوچا کیا کروں کیا سڑک کے اطراف کھڑے لوگوں میں شامل ہو کر تمام ممالک کی پریڈ دیکھوں یا پھر پاکستان کا جھنڈا اٹھائے اپنے ملک کی نمائندگی کروں؟ ظاہر ہے پاکستانی گروپ کا حصہ بننا باعثِ فخرہے‘ جھٹ اپنا سبز ہلالی پرچم تھاما اور پریڈ میں شامل ہوگئی۔ پاکستانی گروپ میں بچے سب سے آگے تھے‘ پھر ایک کھلی گاڑی میں ایک صاحب کو شیروانی اور جناح کیپ پہناکر کھڑا کیا گیا تھا۔ اسی گاڑی میں ایک نوجوان رباب بجا رہا تھا۔ پریڈ میں حصہ لینا ایک شاندار تجربہ تھا‘ ہم سب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ پریڈ کے اختتام پر قونصل خانے میں تواضع کا اہتمام تھا۔

 

کچھ اور پروگراموں کا حال تحریر کرتی ہوں۔ ایک تو کینیڈا اُردو ایسوسی ایشن کی جانب سے محفلِ طنزو مزاح تھی دوسری مہدی حسن خان صاحب کی یاد میں محفلِ موسیقی۔
محفلِ طنزو مزاح ایک دلچسپ تقریب تھی جس میں شرکاء مزاحیہ شاعری‘ لطائف‘ چٹکلے اور طنزو مزاح سے بھرپور اقتباسات پڑھ کے سناتے رہے۔ مشتاق احمدیوسفی‘ ضیامحی الدین‘ معین اختر‘ کمال احمد رضوی اور رفیع خاوریعنی ننھا کو اس موقع پر یاد کیا گیا۔ انور مسعود‘ عبدالحکیم ناصفؔ اور دیگر شعرا کا مزاحیہ کلام بھی سنایا گیا۔ 
اب کچھ احوال محفلِ موسیقی کا جو شہنشاہِ غزل مہدی حسن خان صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی۔ اس میں پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور اپنے اپنے انداز سے مہدی حسن کی گائی ہوئی مقبول غزلیں پیش کیں۔


میں سوچتی ہوں ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ مہدی حسن پاکستانی تھے‘ ایک عالم ان کے فن کا معترف ہے‘ سبھی ان کی آواز کے قدر دان ہیں‘ اب چاہے کوئی کسی ملک کا رہنے والا ہو یا کسی مذہب کا ماننے والا ہو وہ مہدی حسن کا پرستار ہے۔ دل خوشی کے احساس سے بھر جاتا ہے جب لوگ اُستاد نصرت فتح علی‘ مہدی حسن‘ غلام علی‘ ملکۂ ترنم نور جہاں‘ عالم لوہار‘ کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ ابرار الحق‘ راحت فتح علی اور استاد امانت علی کے خانوادے کو بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ عارف لوہار‘ ریشماں‘ اور تصور خانم کے علاوہ مسرت نذیر کو بھی بے حد مقبولیت حاصل ہے۔
قارئیں کرام ! کینیڈا میں ہونے والی ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کے بارے میں تومیں آپ کو باخبر رکھتی رہوں گی‘ مگر اس مضمون میں مَیں اپنے سفر کیلونا کے بارے میں بھی بتانا چاہوں گی۔گزشتہ دنوں میرا دو روز کے لئے کیلونا جانے کا اتفاق ہوا۔


کیلونا شہر کینیڈا کے صوبے برٹش کو لمبیا کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ اوکناگن ویلی میں ہے۔ اس شہر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمارے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ کوہِ زرغون‘ کوہِ تکاتو‘ کوہِ چلتن اور کوہِ مردار کے دامن میں واقع وادئ کوئٹہ اپنے بے مثال موسم‘ تازہ پھلوں‘ دلکش پہاڑوں‘ چشموں‘ ہنہ جھیل کے باعث مشہور ہے۔ کیلونا بھی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے‘ یہاں بھی ایک وسیع و عریض جھیل ہے‘ یہاں نہایت عمدہ‘ تازہ اور رسیلے پھل ملتے ہیں۔ خاص طور پر چیری اور سیب بہت ذائقہ دار ہیں۔ کیا خوب اتفاق ہے کہ کوئٹہ کے بھی سیب اور چیری لاجواب ہوتے ہیں۔ مجھے کوئٹہ سے خاص انسیت ہے۔ اپنے شہر کراچی کے بعد اگر کہیں میرا دل لگتا ہے تو وہ کوئٹہ ہے۔ کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ‘ گلاب کی جھاڑیاں‘ سرد اور خشک موسم میرے لئے سحرانگیز ہے۔ یہاں کی لوک موسیقی‘ پکوان‘ لباس بھی شاندار ہے۔ پتا نہیں کیوں‘ لیکن شاید کوئٹہ سے لگاؤ کے باعث کیلونا بھی مجھے اچھا لگا۔ یہاں آبادی دیگر شہروں کے مقابلے میں گنجان نہیں‘ سبھی ایک دوسرے کو جانتے ہیں‘ زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ونکوور سے کیلونا بائی روڈ چار گھنٹے کی مسافت ہے۔ کینیڈا میں اگر سفر کرنا ہو تو بندہ بائی روڈ ہی سفر کرے۔ خوبصورت نظارے‘ کشادہ سڑکیں‘ جگہ جگہ پٹرول پمپ اور اس سے ملحقہ اسٹور‘ کہیں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی‘ راستے آسان ہیں اگر خدانخواستہ کسی کی گاڑی کے بریک فیل ہو جائیں تو سائیڈ پہ پہاڑوں میں اضافی راستہ بھی بنایا ہوا ہے۔ گاڑی کی رفتار مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے تو فوراً ٹکٹ مل جاتا ہے‘ زیادہ اوور اسپیڈنگ کی جائے تو گاڑی بند کر دی جاتی ہے۔ اگر کسی کی گاڑی بند کردی گئی تو سمجھیں لمبا خرچہ ہے۔ بند کرنے سے مراد یہ ہے کہ گاڑی کو پولیس اپنے قبضے میں لے لیتی ہے‘ اسے چھڑانے کے لئے ہرجانہ دیناپڑتا ہے اور جتنے دن گاڑی بند رہے گی اس کا کرایہ بھی روزانہ کے حساب سے بھرنا کرنا پڑے گا۔ قانون کی عملداری دیکھنا ہو تو کینیڈا میں دیکھیں۔ یہاں خاص و عام کی تفریق نہیں‘ قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ انصاف کسی بھی معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہاں پولیس اگر کسی کو گرفتار کرلے تو کوئی وزیر یا سیاسی شخصیت اُسے فون کرکے یا اثر و رسوخ استعمال کرکے نہیں چھڑوا سکتی۔ پولیس بھی یہاں نہایت فرض شناس اور مہذب ہے۔ کبھی کبھار ہی کوئی پولیس والا کہیں نظر آتا ہے‘ لوگ پولیس کی عزت کرتے ہیں‘ پولیس بھی عوام سے بدسلوکی نہیں کرتی‘ یہاں پولیس میں سیاسی بھرتیوں کا کوئی تصور موجود نہیں۔ چونکہ نہ سفارش ہے نہ رشوت لہٰذا ہر کام شفاف طریقے سے ہوتا ہے۔


ابھی اخبار میں خبر آئی کہ پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جو جعلی پستول لئے بس میں گھوم رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی سہی مگر کسی کو کیا معلوم کہ پستول اصلی ہے یا نقلی‘ اس کے خطرناک نتائج ہو سکتے تھے لہٰذا نقلی پستول بھی کوئی ساتھ لے کے نہیں گھوم سکتا۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد میرا دل چاہا کہ کراچی کا کوئی اخبار اٹھاؤں اور یہاں کے لوگوں کو پڑھواؤں‘ پھر انہیں پتا چلے گا کہ اسلحہ لے کر گھومنا کیا ہوتا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ‘ موبائل چھیننے پر گولی مارنا‘ قتل و غارت گری‘کیا ہوتی ہے؟ دولتمندوں اور سیاسی شعبدہ بازوں کا ذاتی محافظوں کو کھلی گاڑی میں لے کے پھرنا کیا ہوتا ہے؟ بڑی بڑی بندوقوں اور خوفناک مونچھوں والے یہ گارڈ کسی کو بھی مار سکتے ہیں‘ کینیڈا والوں کو کیا پتا کہ وی آئی پی کس چڑیا کا نام ہے۔ یہ بیماری تو ہمارے یہاں عام ہے۔ یہ وہ لاعلاج مرض ہے جو روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ میں حیران ہوں وہ لوگ جو وطنِ عزیز میں وی آئی پی کلچر کے باضابطہ نمائندے ہیں‘ جو عوام کے لئے محض باعثِ آزار ہیں‘ وہی ملک سے باہر جا کے ’بندے کے پتر‘ بن جاتے ہیں‘ وہاں کوئی پروٹوکول کا تماشا نہیں لگتا‘ کوئی اسلحہ بردار غنڈے ان کے ساتھ نہیں ہوتے‘ راہ چلتے عام لوگ بھی ان سے کلام کرلیتے ہیں۔ (یہاں میں نے ’کلام‘ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے لکھا ہے) پھر جانے کیوں پاکستان میں یہ سب فرعون کے وارث بن جاتے ہیں۔۔۔؟ کاش کبھی ایسا بھی ہو کہ ہم بھی دنیا کی دیگر قوموں کی طرح مہذب‘ تعلیم یافتہ‘ اپنے حقوق وفرائض سے باخبر ہو جائیں۔ کاش ہمارے معاشرے سے کرپش کا ناسور ختم ہو جائے۔ کاش ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو جائے‘ اعلیٰ عہدوں پر صرف اہل لوگ ہی ہوں۔ سیاسی بھرتیاں‘ سیاسی انتقامی کارروائیاں‘ سیاسی بندربانٹ‘ جرائم اور مجرموں کی سرپرستی ختم ہو جائے۔
اے کاش کوئی عوام کا درد سمجھے‘ کاش دولت کی ہوس ختم ہوجائے‘ کاش نظام ٹھیک ہو جائے اور اﷲ نے چاہا تو وہ دن ضرور آئے گا جب سب درست ہو جائے گا۔ جب کوئی غربت و فاقہ کشی سے تنگ آکر خود کشی نہیں کرے گا‘ جب غریب کا بچہ بھی اچھے سکول میں تعلیم حاصل کرے گا‘ جب سب پاکستان میں ہی اپنا علاج کروانے سرکاری ہسپتال جائیں گے‘ جب تعلیم ‘ صحت‘ پانی‘ بجلی‘ گیس‘ سکیورٹی جیسے بنیادی حقوق عوام کو ملیں گے‘ جب قانون پر عمل درآمد ہوگا‘ جب کوئی قوم کا پیسہ نہیں لوٹ سکے گا‘ جب کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکے گا۔ انشاء اﷲ وہ دن ضرور آئے گا۔


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP