قومی و بین الاقوامی ایشوز

یہ قدم نہیں رکنے والے

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کا شکار بننے والا آرمی پبلک سکول پشاور جب موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھلا تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اپنی اہلیہ کے ہمراہ بچوں کوخوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھے۔ آرمی چیف اور ان کی اہلیہ نے بچوں کے ساتھ قومی ترانہ اور دعا بھی پڑھی۔ سکول کے طالب علموں کو آرمی چیف کے آنے سے بہت تقویت ملی۔ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا کہ وہ تشدد کے نظریے کو ہر صورت میں شکست دیں گے۔ انہوں نے سکول کے طالب علموں کو دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ اب کوئی انہیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا۔

فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ماہ سردی کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور برف پگھلنے لگتی ہے۔ نرم دھوپ کی کرنیں جسم و جاں میں تازگی بھر دیتی ہیں اور بہار دستک دینے لگتی ہے۔ ہوائیں پھولوں کی خوشبو کا پیغام لاتی ہیں اور چمن میں نیا سبزہ اگتا ہے۔ سرما کی تعطیلات ختم اور سکول دوبارہ کھل گئے ہیں‘ پشاور کا آرمی پبلک سکول بھی پھر کھل گیا ہے مگر اس درسگاہ کے وہ پھول جو دسمبر کی کڑکڑاتی ٹھنڈک میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مرجھا گئے‘ وہ اب اس بہار میں تو کیا کسی بھی موسم گل میں نہ کھل سکیں گے۔

میں ان ماؤں کے بارے میں سوچتی ہوں جن کے بچے سفاکی سے قتل کئے گئے۔ جانے کیسے اُن کے دل کو قرار آیا ہو گا؟ شہید بچوں کے لاشے اوندھے منہ زمین پر گرے تھے۔ ہائے بے بس‘ کیسے ان معصوموں کو اٹھایا ہو گا اور کسی دل سے دفنایا ہو گا۔ زمین پھٹی نہ آسمان گرا‘ مگر والدین کی دنیا لُٹ گئی۔ شہید ہونے والے بچوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو صبح صبح جلدی میں بغیر ناشتہ کئے اپنے گھروں سے سکول کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ چند بچے ایسے بھی جن کے ٹفن یا لنچ بکس میں فرنچ ٹوسٹ اور سینڈوچ یونہی بند ہی رہ گئے۔۔ کچھ بچوں کے والدین انہیں صبح سکول کے گیٹ پر چھوڑ کے، الوداع کہہ کے، روانہ ہوئے اور کچھ وہ بچے تھے جو سکول وین میں سوار ہو کے سکول پہنچے تھے۔ چند گھنٹوں میں دہشت گردوں نے سب کچھ اجاڑ دیا۔ فرش پہ پھیلے خون‘ ٹوٹی کرسیاں‘ کرچی کرچی شیشے‘ دیواروں پہ گولیوں کے نشانات اور سہمے ہوئے بچوں کی دلدوز چیخیں‘ سوچ سوچ کے دماغ سن ہونے لگتا ہے۔ کیا گزری ہو گی۔ اُن بچوں پر اچانک بڑے بڑے خطرناک ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو اپنے اوپر حملہ آور ہوتے دیکھ کر ننھے دلوں کا کیا حال ہوا ہو گا۔ کس کس نے خوف سے ماں کو پکارا ہو گا۔ کتنوں نے اپنے سے چھوٹے طالب علموں کو شفقت سے لپٹا کر ظالموں سے چھپایا ہو گا۔ وہ کمسن طالب علم جو آڈیٹوریم میں جمع تھے‘ جو سکول کی لیب میں موجود تھے‘ یا وہ جو اپنے کلاس روم میں تھے‘ اُن فرشتوں کے سروں پر گولیاں برساتے درندوں کو اُن پر ذرا رحم نہ آیا۔ ایک کے بعد ایک بچہ شہید ہوتا گیا مگر ظالموں کی پیاس نہ بجھی۔

اُن ماؤں کے دل سے بلند ہونے والی آہ اور فریاد کے بارے میں سوچتی ہوں تو کلیجہ کانپ جاتا ہے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کی خون آلود یونیفارم اپنی آنکھوں سے لگائی ہو گی۔ زمین پہ بکھری کاپیوں اور کتابوں کو سینے سے لگایا ہو گا۔ اپنے لال کو لہو میں لت پت دیکھا ہو گا۔ کون سی ایسی دوا ہے جو اس درد کا مداوا کر سکے۔ کون سا مرہم ہے جو ان زخموں کو بھر سکے۔ کہتے ہیں وقت کے ساتھ ہر گھاؤ بھر جاتا ہے۔ مگر سانحہ پشاور ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہ ہو سکے گا۔ شہداء کے لواحقین کے گھاؤ عمر بھر کا روگ ہیں۔ اگرچہ اس اندوہناک واقعے کو بیتے کئی ہفتے گزر چکے ہیں‘ وقت تیزی سے سرکتا جا رہاہے مگر جو دکھ قوم نے اس سانحے کے باعث جھیلا ہے‘ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ مصیبت اور دکھ کی اس گھڑی میں پاک فوج اور اس کے سالار نے جس طرح غمزدہ خاندانوں کی داد رسی کی ہے‘ وہ قابل تعریف ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے حملہ آوروں کو نیست و نابود کر دیا اور ان کے رفقاء سہولت کاروں کو بھی انجام تک پہنچانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کا شکار بننے والا آرمی پبلک سکول پشاور جب موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھلا تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اپنی اہلیہ کے ہمراہ بچوں کوخوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھے۔ آرمی چیف اور ان کی اہلیہ نے بچوں کے ساتھ قومی ترانہ اور دعا بھی پڑھی۔ سکول کے طالب علموں کو آرمی چیف کے آنے سے بہت تقویت ملی۔ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا کہ وہ تشدد کے نظریے کو ہر صورت میں شکست دیں گے۔ انہوں نے سکول کے طالب علموں کو دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ اب کوئی انہیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا۔ بچوں کو جنرل راحیل شریف کے اس دورے سے نیا عزم و حوصلہ ملا۔ بچوں نے برملا اس بات کااظہار کیا کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی پڑھائی جاری رکھیں گے اور ہمت نہیں ہاریں گے۔ آرمی چیف اور ان کی اہلیہ کی آمد سے سکول کے طالب علموں اور ان کے والدین کے علاوہ شہید بچوں کے لواحقین کو بھی نیا عزم ملا۔ جنرل راحیل شریف نے طالب علموں میں اپنا دستخط شدہ پمفلٹ بھی تقسیم کیا جس پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بارے میں احتیاطی تدابیر درج تھیں۔ اس کے علاوہ شہید بچوں کے والدین کو بھی جنرل راحیل شریف کی طرف سے خصوصی خط بھی ملا جس میں شہد اء کے بلندی درجات کے لئے دعا کی گئی تھی اور پاک فوج کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ آرمی چیف کے ان اقدامات کو نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے عوام اور شہداء کے خاندان رنج و الم سے چُور ہیں‘ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے آرمی پبلک سکول کے دورے اور بچوں سے اظہار شفقت نے انہیں نیا حوصلہ دیا ہے۔ تعطیلات کے بعد سکول کے پہلے دن آرمی چیف کو اپنے درمیان پا کر بچے مسرور تھے۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو 16دسمبر کے حملے میں زخمی ہوئے تھے اور پھر چند دن اسپتال میں داخل رکھ کر انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ کسی کے بازو پہ پلاسٹر چڑھا ہوا تھا تو کسی کے ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کسی کے پیر میں چوٹ لگی تھی تو کوئی چلنے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ اتنے بڑے سانحے سے گزرنے کے بعد بچوں کا ذہنی طور پر تناؤ یا یاسیت کا شکار ہونا فطری ہے مگر پاکستان کی غیور قوم کے بہادر بچے اس صدے کو بے جگری سے سہہ گئے۔ مزید برآں ان کی ہمت و حوصلے کو آرمی چیف کی آمد نے خوب بڑھایا۔ بے شک قوم اپنی فوج پر اور اس کے سربراہ پر نازاں ہے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر چاہا تھا کہ انہیں خوف زدہ کر دیں مگر آفریں ہے ہمارے بچوں پر جو یہ ظالمانہ وار بہادری سے سہہ گئے۔ وہ ڈرنے والے نہیں‘ وہ خوفزدہ نہیں اور اس بات کا ثبوت وہ جوش و خروش ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے سکول کھلنے کے دن کیا۔ یہ بچے نہ سکول جانا ترک کریں گے نہ پڑھائی کو خیرباد کہیں گے۔ ہمارے بچے علم حاصل کریں گے اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انشاء اﷲ

یہ تحریر 104مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP