متفرقات

یوگا۔ سب کے لئے

مادی اور روحانی زندگی میں تمام کامیابیوں کی بنیادی شرط صحت ہے اور اچھی صحت کے لئے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں جسمانی ورزشوں کے متعدد نظام پائے جاتے ہیں جن میں ایروبک، زُونبا اور یوگا مشہور ہیں لیکن یوگا کا نظام ان میں مکمل ترین اور بے مثال ہے۔ عام جسمانی ورزشیں جسم کے سطحی یا بیرونی پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں لیکن یوگا ان تمام داخلی اعضا اور عضلات کی بھرپور ورزش زیرعمل لاتا ہے جو صحت برقرار رکھنے میں نظام ہضم و جذب میں، نشوونما میں اور جسم کے مختلف خلیوں اور بافتوں کے ٹھیک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آسن، مدرائیں اور کریائیں ایک مضبوط اعصابی نظام تعمیر کرتے ہیں۔


ذہن یا شعور کے پیچھے موجود ذہانت یا روشنی صرف اس وقت اپنا آپ دکھاتی یا ظاہر کرتی ہے جب ذہن اور شعور پُرسکون اور ہم آہنگ ہوں اور یوگا یہ کیفیت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایک صحت مند جسم اور شفاف ذہن زندگی میں ہر طرح کی جدوجہد کے لئے ضروری اور بنیادی شرط ہے۔ ایک صحت مند جسم صحت مند ذہن کو یقینی بناتا ہے۔ یوگا کی باقاعدہ مشقیں چاہے روزانہ صرف پندرہ منٹ کے لئے ہوں بے پناہ توانائی‘ پٹھوں کی طاقت‘ اعصابی قوت‘ پرکشش شخصیت اور طویل زندگی مہیا کرتی ہیں۔ یوگا کے آسن (انداز) تمام بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں اور مشق کرنے والے کو جسمانی، ذہنی طاقت اور قوت فراہم کرتے ہیں۔ یوگا کی مشقیں کرنے والے چاق چوبند اور چست ہوتے ہیں ان کی ریڑھ کی ہڈی اور کمر لچک دار ہوتی ہے۔

 

یوگا‘ خواتین و حضرات‘ دونوں‘ کے لئے ایک جیسا فائدہ مند ہے۔ عمومی ہدایات میں یوگا کو باقاعدگی سے کرنا چاہئے اس کے علاوہ وقت، مقام، رویے اور حدود کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ یوگا شروع کرنے سے پہلے آپ اپنے ذہن کو یہ پیغام دے دیں کہ یوگا کے دوران آپ اپنی ساری توجہ یوگا پر ہی رکھیں گے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کیا کر رہے ہیں یا کر رہی ہیں۔ کیونکہ اس کا اثر جسم کے کسی ایک حصے پر نہیں پڑتا بلکہ پورے جسم پر پڑتا ہے۔ یوگا ہر عمر کے لوگوں کے لئے اور زندگی کے ہر مرحلے سے گزرنے والوں کے لئے آئیڈیل ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ان یوگیوں کو دیکھتے ہیں جو اس کام میں بہت پختہ ہو چکے ہیں اور یوگا کی سخت قسم کی مشقیں کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص فِٹ نہیں ہے تو وہ بھی یوگا شروع کر سکتا ہے۔ اگر آپ صبر اور مستقل مزاجی سے یوگا کریں گے تو آپ کی جسمانی لچک بہتر ہو سکتی ہے۔ یوگا ایک دلچسپ ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنی زندگی بہتر اور پرمسرت بنا سکتے ہیں۔یوگا کرتے ہوئے کبھی بھی جسم کو جھٹکا نہ دیں خاص کر جب ریڑھ کی ہڈی تناؤ میں ہو۔ اسی طرح یوگا مشقوں کے دوران طاقت لگا کر یا زور لگا کر کوئی عمل نہ کریں۔ اور نہ جسم کو تناؤ میں لائیں۔


غذا کا خاص طور پر خیال رکھیں غذا ہمیشہ سادہ ہونی چاہئے۔ غذاؤں میں توازن اور اعتدال رکھیں کھانا کھاتے وقت آدھا پیٹ صحت بخش غذاؤں سے بھریں۔ ایک چوتھائی پیٹ پانی سے اور بقیہ جگہ ہوا کی نقل و حرکت کے لئے رہنے دیں۔ کبھی بھی اپنا معدہ بوجھل نہ کریں۔ بے تحاشا کھانا صحت نہیں بیماریاں دیتا ہے۔ دن کا کھانا خاص طور پر ہلکا پھلکا اور کم مقدار میں کھانا چاہئے۔ یوگا کے مطابق اعتدال بہت ضروری ہے۔ اس ہدایت پر یوگا مشقیں کرنے والوں کو سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ صحت مند زندگی کے لئے کچھ چیزوں کو اپنائیں اور کچھ کو چھوڑیں ۔

 

اچھی خوراک یوگا کے آسنوں کو کرنے میں بہت فائدہ مند ہے۔ وزن میں کمی بھی اچھی خوراک اور یوگا سے ممکن ہے کیونکہ 80فیصد وزن کم کرنے میں 
Balance Diet
کا کمال ہے۔ اس لئے اس بات کوسمجھنا نہایت ضروری ہے کہ 20فیصد ورزش اور 80فیصد خوراک ہوتی ہے جسم سے چربی پگھلانے کے لئے لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بیس فیصد ورزش انسانی جسم پر عجیب کمالات دکھاتی ہے۔
صبح کی سیر، ورزش، یوگا کے بے شمار آسن کرنے سے دماغی تناؤ ختم ہوتا ہے اور انسان زیادہ ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ یوگا کے آسن کرنے سے آپ مثبت سوچ رکھتے ہیں اور دوسروں کے نظریے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بلاوجہ کا چڑچڑاپن اور غصہ ختم ہو جاتا ہے جوکہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔


رائٹر مختلف اداروں میں فٹنس انسٹرکٹر ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 12مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP