متفرقات

یوکرائن کی ثقافت۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

سوویت یونین کی تقسیم کے بعد1991 میں یوکرائن کو ایک الگ ملک کی حیثیت دی گئی ۔لہٰذا 23 اگست کو یوکرائن کا قومی دن نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس دن یوکرائن کے عوام بہت اہتمام سے اپنا قومی لباس زیب تن کرتے ہیں ۔جو سفید رنگ کی خوبصورت کڑھائی والی شرٹس پر مشتمل ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گاکہ کمیونسٹ دور نے یوکرائنی ثقافت پر خاطر خواہ اثرات مرتب کئے ہیں جو آج بھی کہیں کہیں واضح انداز میں نظر آتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت متنوع اقسام کی حامل ہے ۔مگر گزشتہ چند سالوں کے دوران اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایہ ممالک کی رفاقت کی وجہ سے کچھ تبدیلی کا شکار ہے۔

 
دسویں صدی میں یوکرائنی کلچر کی تاریخ میں عیسائیت کو قبول کیا گیا ۔۔۔ چنانچہ دو طرح کے عقائد رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیتھالکس اور آرتھوڈاکس مگر یہاں یہ امر حیران کُن ہونے کے باوجود عام پایا جاتا ہے کہ سوویت یونین کی تقسیم کو ایک مدت گزر جانے کے باوجود بھی وہ ریاستیں جہاں مسلمان آباد ہیں‘ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔یوکرائن کے لوگ سادہ طبیعت اور نرم مزاج ہیں ۔واقف اور ناواقف سے سلام دعا میں پہل کرتے ہیں۔ انجان بندے کو ’’دراست وچے‘‘ جبکہ دوست، عزیز کو ’’پریوویت‘‘کہہ کر بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے ۔


یوکرائن میں عمومی طور پریوکرائنی اور روسی دو زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ یوکرائنی زبان قدیم ہے ۔ جبکہ روسی زبان جدید تصورات کی حامل ہے اور تہذیب یافتہ خیال کی جاتی ہے۔ دونوں زبانوں کی ساخت اورلہجوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ یہ لوگ اپنے تہواروں کو نہایت جوش و خروش سے منانا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ نئے سال کی آمد پر تقریبات کی رنگا رنگی کے علاوہ 7 جنوری کو عید کی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں 23 فروری کو یہاں مینز ڈے منانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔جس کے لئے تمام مرد برادری انتہائی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتی ہے۔یہاں کے لوگ تحائف لینا اور دینا بہت پسند کرتے ہیں۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر پاسیبا کہہ کر شکریہ ادا کیا جاتا ہے جو سننے والے کی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔وقت کی پابندی ان لوگوں کے مزاج کا اہم ترین حصہ ہے۔جانوروں سے خوب پیار کیا جاتا ہے اور گھر میں نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔


یوکرائن کی زمیں خا صی زرخیز ہے۔ اکژ موسمِ بہار کی بارش کے بعد قریبی ساحلی علاقوں میں زمیں خوبصورت سیپیاں اُگلتی ہے۔ موسمِ گرما کا دورانیہ مختصر ہے۔جبکہ شدید سردی کے باعث دسمبر میں برف باری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور کاروبارِ زندگی جامد نظر آتا ہے ، لیکن کبھی کبھی سورج بھی ٹھنڈی دھوپ کے ساتھ استقبال کرتاہوا دکھائی دیتا ہے۔ 
یوکرائنی کھانوں میں کوسائین کو سپیشل ڈش کا درجہ حاصل ہے ،جبکہ ان کی رسومات کی طرف نگاہ کی جائے تو نئی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے یہ لوگ اکثر توہمات کا شکار رہتے ہیں۔ شادی کے روز دولہا، دلہن کے گھر جا کر اس کی سہیلیوں سے پیسوں کے معاملات طے کرتا ہے تا کہ دلہن کو حاصل کیا جا سکے۔ مگر دلہن کے گھر بیٹھنے اور کھانے پینے کی ممانعت سمجھی جاتی ہے ، کیونکہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی آنے والی نسلیں دیر سے چلنا شروع کریں گی یا مختلف بیماریوں کا شکار رہیں گی۔۔۔اگریوکرائنی ادب کی طرف نگاہ کی جائے تو دوسرے یورپی ممالک کی طرح یوکرائن کا بھی ادبی حلقہ موجود ہے۔بہت سی کہانیاں جو زبانی کہی اور سنی جاتی تھیں‘ وہ آج یوکرائنی ادب کا حصہ ہیں۔ افسانہ نگاری، شاعری اور بچوں کا ادب مشہور اصناف ہیں۔ تاہم یہاں کا ادب انسانی کوششوں کا عکاس ہے جو معاشرے کی بہتری کے لئے کی گئیں ہیں۔


یوکرائن میں مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ انہیں یہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی بھرپُور آزادی اور اجازت ہے۔ پاکستانی بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں ،ولیدشیر حسین جو کہ انجینئرنگ کے طالبعلم ہیں‘ اُن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،۔۔۔ 

ڈاکٹر ظفر اقبال بھی یوکرائن سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان لوٹ کر اپنے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

علی مسعود ایک بزنس مین ہیں جو 12 سال سے یہاں مقیم ہیں اور پُرسکون انداز میں روزگار کا سامان کر رہے ہیں۔ 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یوکرائن میں 18 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو جنگی تربیت دی جاتی ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر ملک کی حفاظت کے لئے جنگ میں شامل کیا جاسکے۔تاہم ان دنوں نئی نسل کا رجحان بری افواج میں شمولیت کی طرف زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس یوکرائن اور روس کی خانہ جنگی کی وجہ سے کچھ علاقے توڑ پھوڑ کا شکارہوئے مگر حالات اب تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP