یوم پاکستان

یوم پاکستان پریڈ۔ 23مارچ 2016

ماضی کی طرح اِس سال بھیملک بھر میں یوم پاکستان روایتی جوش و خروش سے منایا گیا۔اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب کا مرکز شکرپڑیاں اسلام آباد کا پریڈ گراؤنڈ تھا جہاں قومی وقار اور یکجہتی کی علامت ہماری مسلح افواج نے شاندار مارچ پاسٹ کرکے ایک طرف قوم کے دلوں کو جذبہ تازہ بخشا تو دوسری طرف پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دیا کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی کوئی آنکھ سلامت نہیں رہے گی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں جو گزشتہ سال سے پریڈ ایونیو ہے، وہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظاما ت کئے گئے تھے۔ پریڈ گراؤنڈ میں سب سے پہلے تینوں مسلح افواج کے سربراہان تشریف لائے اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنر ل راشد محمود پھر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ان کے بعد وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف سلامی کے چبوترے پر تشریف لائے۔ پھر بگل کی آواز نے مہمان خصوصی کی آمد کا اعلان کر دیا۔صدر پاکستان ممنون حسین روایتی بگھی میں پریذیڈنٹ باڈی گارڈ کے دستے کے جلومیں پریڈ گراؤنڈ میں آتے دکھائی دیئے ۔وزیر اعظم نے صدرمملکت کا استقبال کیا۔صدر مملکت جونہی سلامی کے چبوترے پرپہنچے پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر مجید نے انہیں پریڈ کے معائنے کی دعوت دی ۔ مہمان خصوصی نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ مختلف دستے بڑی تمکنت اور وقار سے صف آراء تھے ۔ فضا نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ پریڈ کے معائنے کے بعد گراؤنڈ میں اعلان ہوا کہ چند لمحوں میں فلائی پاسٹ شروع ہوگا جس کی قیادت چیف آف ائیر سٹاف ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کی ۔ائیر چیف ایف 16 طیارے پر سوار جب سلامی کے چبوترے کے اوپر سے گزرے تو اس کی گھن گرج نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے شاندار فلائی پاسٹ نے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ حاضرین نے شاندار مظاہرے پر دل کھول کر داد دی۔ کچھ دیر کے بعد ائیر چیف مارشل سہیل امان بھی سلامی کے چبوترے پر آکھڑے ہوئے ۔

اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ سلامت نہیں رہے گی ۔مسلح افواج ملکی دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے ۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل چاہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے ، اپنے وسائل کو ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے استعمال کرتا ہے اور ملک کے دفاع اور مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کے لئے روایتی دفاع میں خود انحصاری کی منازل طے کرتے رہیں گے۔صدر مملکت نے شاندر پریڈ پر مسلح افواج کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پریڈ کا معیار جوانوں کی تربیت اور ذہنی ہم آہنگی اور نظم و ضبط قابل تحسین ہے ۔ ہماری مسلح افواج پاکستان کی سلامتی استحکام اور بقاء کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاک فوج کا آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بدامنی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں جو مسائل درپیش ہیں ان کی وجہ معاشرے میں نا انصافی اور اقربا پروری ہے۔ ان معاشرتی بیماریوں کے سد باب کے لئے جہالت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، تحقیق اور انصاف کی فراہمی کے ایجنڈے پر کام کیا جار ہا ہے تاکہ نئی نسل کو جدید تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے تیار کیا جا سکے۔ صدر مملکت کے خطاب کے بعد پریڈ میں شامل دستے سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھے۔علم بردار دستہ پاکستان کا پرچم تھامے تمام دستوں کی قیادت کررہا تھا۔پاک فوج ، بحریہ ،فضائیہ ،ایف سی،این ایل آئی ،مجاہد فورس،اسلام آباد پولیس ،تینوں سروسز کی خواتین آفیسرز،نرسنگ سروس،گرلز گائیڈ، بوائے سکاؤٹس کے دستے انتہائی متاثر کن انداز سے سلامی کے چبوترے کے سامنے گزرے۔ ان کا ہر قدم پراعتماد اور جوش سے بھرا ہوا تھا۔ ایس ایس جی کمانڈوز کا دستہ اللہ ہو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے گزرا تو حاضرین میں جوش و جذبے کی نئی لہر دوڑ گئی۔پیدل دستوں کے بعد آرمرڈ کور کادستہ گزراجو الخالد ٹینک ، ٹی اے ٹی یو ڈی ٹینک ، الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا۔ آرٹلری کے بکتر بند، ایس پی گنز، آرمی ایئر ڈیفنس میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم 90 ،کور آف انجینئرز، کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی مہمان خصوصی کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین ٹو میزائل سسٹم، بغیر پائلٹ طیارے، شہپر، براق سمیت دفاعی سامان حرب کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ آرمی ایوی ایشن اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا ،ایم آئی 17، ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستوں نے بھی تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا اور شیردل ٹیم کے شاہینوں نے فضا میں خوبصورت رنگ بکھیرے۔ طیاروں کو آواز سے دوگنی اور کم ترین رفتار سے دائروں میں گھومتے ،اُلٹی پروازوں کا ورٹیکل رول بناتے، حیرت انگیز کرتب سے حاضرین انتہائی محظوظ ہوئے اور انہوں نے شاہینوں کو خوب داد دی۔پاک فضائیہ کے طیاروں کے شاندار مظاہرے کو جڑواں شہروں کے نوجوانوں ،بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی بڑی تعدادنے اپنے گھروں کی چھتوں پرسے بھی دیکھا۔ پاکستان آرمی کے سپیشل سروسز گروپ اور پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے کمانڈوز کا 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ بھی انتہائی شاندار تھا ۔ تینوں مسلح افواج کے پیرا شوٹرز میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میں یکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اترے۔ صدر مملکت نے فرداََفرداََ تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔

 

پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کانمایاں حصہ تھے اور انہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔ کشمیر کے فلوٹ میں لوک فنکاروں نے کشمیری لباس پہن رکھا تھااور کشمیر ی نغمے گا رہے تھے ۔بلوچستان کا فلوٹ بلوچیوں کی روایتی تہذیب کی عکاسی کرتا ہوا جب سلامی کے چبوتر ے کے سامنے سے گزرا تو بلوچی لوک فنکار بلوچی لباس میں نغمے گاتے ہوئے اپنے صوبے کی ثقافت کو اجاگر کررہے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ ،پنجاب، گلگت بلتستان کے فلوٹس نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی ثقافت اور خوبصورتی کو خوب اُجا گر کیا ۔ پریڈ کے اختتام پر بچوں نے قومی و ملی نغمے پیش کئے اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نئی نسل بھی اپنے بڑوں اور بزرگوں کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔یوں جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے یہ پریڈ اختتام پزیر ہو گئی۔ وفاقی دارالحکومت میں اس ولولہ انگیز پریڈ کے علاوہ ملک کے تمام صوبوں میں بہت سی تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا تھا جس میں پاکستان، تحریک پاکستان، جدوجہد پاکستان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔


[email protected]

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP