متفرقات

یوم مئی

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدورکے اوقات دہشت گردی نے ہمارے شب و روز کو بھی متاثر کیا یوم مئی کے موقع پر مزدوروں کے تاثرات پر مبنی سارہ صلاح الدین کی ہلال کے لئے ایک خصوصی رپورٹ

ہر سال یکم مئی ’’ انٹرنیشنل لیبر ڈے‘‘ کے طور پر منایاجاتا ہے‘ تقریبات میں محنت کش طبقے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے معاشرے میں ان کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔ محنت کش طبقہ معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ ذیل میں پاکستان میں کام کرنے والے چند مزدور پیشہ افراد سے کی گئی بات چیت کو نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔

سبحان علی

سبحان علی کا تعلق پشاور کے قریب ایک گاؤں سے ہے۔ اپنی روزی کے لئے دُوردراز شہروں میں کام تلاش کرنا اب اس کی ضرورت ہے۔ فی الحال اپنے بھائی کے ہمراہ یہ راولپنڈی میں رہائش پذیر ہے۔ بات کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ پچھلے 12 سال سے مزدوری کر رہا ہے۔ ’’میں اور میرا بھائی اکٹھے رہتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں بھی ملتا لیکن ہمیں گزارہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ گفتگو کرتے وقت اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ان کو مزدوروں کے لئے فلاحی کام کرنے والے اداروں کی کچھ معلومات نہیں۔ کیونکہ سبحان علی بتاتا ہے کہ فائدہ ہمیں صرف تب ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹھیکیدار کام دے دے۔ مگر اس کے بعد جب وہ چلے جاتے ہیں تو حالات پہلے کی طرح ہو جاتے ہیں۔

 

موجودہ حالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے سبحان علی نے کہا کہ دہشت گردوں کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر نہ صرف موبائل کا استعمال ممنوع ہو جاتا ہے بلکہ کئی مہینوں تک کام بھی رک جاتے ہیں۔ جس سے اُس کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔

احمد سعید

اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو چکا ہے۔ اُس کاکہنا تھا کہ اس کا سارا خاندان ہی مزدوری کرتا ہے موسم ہمارے کام پر بہت اثر ڈالتا ہے۔ کیونکہ سردیوں میں کام نہیں ملتا۔ وجہ پوچھنے پر پتا چلا کہ لوگ دھوپ کی وجہ سے تعمیراتی کام گرمیوں میں ہی کر لیتے ہیں۔ میں کام کے سلسلے میں کراچی سے لے کر پشاور تک پھرتا ہوں۔سعید احمد کے نزدیک ایک تعلیم کی کمی اور دوسری بے روزگاری ایسی مشکلات ہیں جن کی وجہ سے مزدوری کر کے دیہاڑی کمانا مشکل ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کام کرنے پر پیسہ ملتا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے مزدوری کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ امن بہترین چیز ہے میں خدا کی رحمت سے پُراُمید ہوں انشاء اﷲ جب امن ہو گا تو لوگ باہر جانے کے بجائے یہاں رہ کر بھی کمایا کریں گے۔

 

رسولہ بی بی

 60  سال کی بزرگ خاتون خود اعتمادی کی اعلیٰ مثال دکھائی دیتی ہے۔ اُس نے بتایا کہ میں 43 سال سے مزدوری کر رہی ہوں۔ کسی زمانے میں چاولوں کے کھیتوں میں کام کر کے 100 روپے ماہانہ کما لیتی تھی۔ ایسی تجربہ کار خاتون سے شہر کی زندگی میں مزدوری کے حالات دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خاتون ہونے کے ناتے وہ گھروں میں کام کر کے کما لیتی ہے۔ مگر آج کل کی مہنگائی کہاں بخشتی ہے۔ میں اکیلی ہوں اور زکوٰۃ سے سہارا رہتا ہے۔ جو کہ اسے گھروں سے ملتی ہے۔ کیونکہ سرکاری زکوٰۃ نہیں ملتی۔ مگر اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ یونینز کے خلاف نہیں۔ اس نے بے نظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام سے بیواؤں کو حاصل ہونے والے مثبت اثرات کا بھی ذکر کیا۔

 

افتخار

کی عمر 45 برس ہے۔ یہ محنتی شخص مزدوری بھی کرتا ہے اور اس کا حجام کا کام بھی ہے۔ سڑک کے کنارے اس کی دکان آج کے محنت کش کی اپنی مدد آپ کے تحت کا زندہ افسانہ ہے۔ ’’ہم ایک دن کی چھٹی کا نقصان بھی برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ اس نے کہا۔ حالات بہتر ہو جائیں تو بھی مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا میں دن کے بمشکل 400 روپے کماتا ہوں اور بال بچے دار بھی ہوں۔ مزدور فلاحی ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں ورنہ مہنگائی کے اس دور میں ہمارا حال بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا۔

 

حسنین

دیہاڑی کمانے والے کی زندگی آسان تو نہیں مگر دکانوں میں تنخواہ لینے والے مزدوروں کی بھی مشکلات کم نہیں ہیں۔ حسنین بڑے شہر میں ماہوار 10000 سے 15000 روپے تنخواہ لینے والا مزدور کہتا ہے کہ ساری تنخواہ کرایہ ادا کرنے میں لگ جاتی ہے اور مہنگائی بھی حد سے زیادہ ہے۔ موجودہ حالات کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دہشت گردی کے نقصان کی زد میں آیا ہے۔ میری طرح کے مزدور کو بھی صرف تب فائدہ ہے جب امن ہو ورنہ بہت پریشانی ہوتی ہے۔ اس لئے دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے مزدور کو فائدہ ہی ہے۔

 

محمد فاضل

 70سالہ محمد فاضل سے گفتگو ہوئی تو اس کی زبانی معلوم ہوا کہ مزدور کو اگر ماہانہ تنخواہ ادا کی جائے تو اُس کا فائدہ زیادہ ہے تاکہ وہ اپنے اخراجات کا حساب کتاب رکھ سکے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب میں مستری کا کام کر کے دن کا سو روپیہ کما لیتا تو بھی سودا سلف خرید کر بچت ہو جاتی تھی۔ مگر اب مہنگائی کی وجہ سے جو کماتے ہیں اُس سے بمشکل گزارہ ہوتا ہے۔ لیبریونینز کے بارے میں فاضل بابا تجویز کرتے ہیں کہ ہر علاقے میں ان کا ایک دفتر ہونا چاہئے جو وہاں کے مزدوروں کو شعور دے ورنہ سڑکوں پر کام کرنے والے مزدور کا تو حال ہی بر ا ہے۔دہشت گردی کے بارے میں ان کی رائے باقی سب سے مختلف نہ تھی۔وہ اس کے خاتمے سے محنت کشوں کا فائدہ بیان کرتے ہیں ’’جب دہشت گردی کا خوف و ہراس نہیں پھیلا ہوتا تو کام چلتا ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے اچھا نظام ایک پرسکون گھر کا ضامن ہوتا ہے۔ ‘

یہ تحریر 20مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP