قومی و بین الاقوامی ایشوز

یومِ تکبیر۔۔۔ عزم و استقلال اور عہدو پیماں

عزم و استقلال اور قوت ِ ایمانی سے سرشار اہلِ پاکستان مئی 2020 میں 22 واں یومِ تکبیر منارہے ہیں۔ اگر چہ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پوری دنیا ایک وبائی مرض کے خطرے سے دوچار ہے لیکن اہلِ پاکستان ان مشکل ترین حالات میں بھی اپنا تاریخی ''یومِ تکبیر'' قومی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں۔28مئی1998 کا دن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے اعزاز اور فخر کا دن ہے جب اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر اُبھرا اور پوری دنیا کو اس کی ایٹمی صلاحیت بادلِ ناخواستہ قبول کرنا پڑی۔ یہ وہ دن ہے جس نے پاکستان اور اہلِ پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا اور اقوامِ عالم کی فہرست میں پاکستان کی اہمیت اور وقار میں نمایاں اضافہ کرکے اسے دنیا کے اہم ترین ممالک کی فہرست میں شامل کردیا۔ آج دنیامیں پاکستان کا جو مقام اور مرتبہ ہے اس کی بڑی وجہ اس کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ 
28 مئی1998 کا دن پاکستان کی تاریخ میں نہایت اہم ہے جب پاکستان نے پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے اور دنیا کی تسلیم شدہ نیوکلیئر پاور بن گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے یہ ایٹمی تجربات دراصل بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے تھے جو مئی98 کے دوسرے ہفتے میں بھارت نے کئے تھے۔ بھارت اسی طرح کی حماقت 1974 میں بھی کرچکا تھا۔ بھارت کا جنگی جنون ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کے ممالک کے لئے خطرہ رہا ہے اور خطے میں طاقت کے عدم توازن کا سہرا بھی بھارت کو ہی جاتا ہے۔  یوں تو وہ ہروقت پاکستان کے خلاف کسی منصوبے پر مصروف رہتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا جنگی جنون عقل و خرد کی تمام حدود پامال کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے لئے بہت سے دفاعی مسائل پیدا کردیتا ہے۔1998 میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال تھی جب بھارت نے 6 ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کی امن پسند اقوام کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ان حالات میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں پاکستان بھی اپنے نیوکلیئر تجربات کرے۔ عالمی طاقتیں اس حق میں نہ تھیں اس لئے انہوں نے پاکستان پرسماجی، دفاعی اور معاشی دبائو ڈالنا شروع کردیا۔ پاکستان کو ایٹمی تجربات نہ کرنے کا مشورہ دیاگیا اور مشورہ مان لینے کی صورت میں امداد کا لالچ بھی دیاگیا۔ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے کی صورت میں عالمی طاقتوں کی طرف سے بہت سی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن خود میدان میں آگئے اور انہوںنے اس وقت کے وزیراعظم کو فون کرکے ایٹمی تجربات نہ کرنے کوکہا۔ انہوںنے ہر ممکن لالچ بھی دیا لیکن پاکستان نے کوئی بھی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی پاکستان کے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور پوری قوم کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے پاکستانی قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کرنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے دور دراز ضلع چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی تجربات کرکے پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا اور یوں دنیا کے ایٹمی ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کرکے یہ اعزاز حاصل کیا۔ کامیاب ایٹمی تجربات کی خبر نشر ہوئی تو ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر پوری اسلامی دنیا کے ممالک میں خوشی کے ساتھ سنی گئی۔ تاریخی حقائق گواہ ہیں کہ بھارت نے پہلے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ بھی ایسا کرے۔ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جس نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات رکھے۔ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر آج تک دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کا پیغام پھیلایا اور اسی پر خود بھی کاربند رہا ۔ پاکستان نے کبھی خوشی سے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی اور پاکستان کو اپنا دفاع کرنا پڑا۔ 1948،1965 اور1971 کی جنگیں بھارت کی جارحانہ پالیسی  کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہو یا بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ،بھارت نے ہر جگہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ اگر چہ بھارت کا کوئی بھی ہمسایہ ملک اس کی شرانگیزیوں سے محفوظ نہیں لیکن اس کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہے۔ دہلی، کلکتہ ، آگرہ، احمدآباد اور دوسرے بھارتی شہروں میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ انہیں نہ تو دو وقت کا کھانا میسر ہے اور نہ ہی رہنے کی جگہ لیکن ان کی حکومت کو اس کی پروا نہیں۔ اس کا تمام تر زور پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں پر ہے۔ عالمی اداروں نے بار ہا بھارتی حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کم کرکے سماجی ترقی کا بجٹ بڑھائے لیکن وہ ایسا نہیں کررہی ۔ بھارت کے اندر رہنے والی اقلیتیں بھی اس کے مظالم سے محفوظ نہیں اگر چہ بھارت1974 میں ایٹمی دھماکہ کرچکا تھا لیکن جنگی جنون میںمست ہو کر اور جنوبی ایشیا میں اپنا غلبہ جمانے کے لئے اس نے مئی 1998 میں پھر چھ دھماکے کردیئے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے پُرامن مقاصد کے لئے تھا اور ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اس کی تین ہزار سے زائد کلومیٹر مشرقی سرحد ایک ایسی مملکت سے ملتی ہے جس نے کبھی بھی پاکستان کو صدقِ دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے جنگی جنون کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ہرحال میں مؤثر رکھے۔ اسی تناظر میں 1970 کی دہائی میں پاکستان نے اپنا پُرامن ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ اس وقت کی سیاسی قیادت کی بصیرت تھی کہ انہوںنے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی شخصیت کی حوصلہ افزائی کی اور بعدازاں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ پاکستان کا بڑا اثاثہ ہے جس نے سخت محنت کرکے پاکستان کو نیوکلیئر پاوربنایا۔ پاکستان کے ایٹمی تجربات نے نہ صرف ہندوستان بلکہ مغربی دنیا پر بھی لرزہ طاری کردیا۔ اگرچہ ملک کو بہت سے سماجی اور معاشی مسائل درپیش ہیں لیکن پھر بھی ہمارا سر فخرسے بلند ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں جو ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو 72 سال سے بھارت کے جنگی جنون کا مقابلہ جرأت اوردانش مندی کے ساتھ کررہی ہیں۔ جذبہ ایمانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سرشار پاک فوج آج  نیوکلیئر ہتھیاروں کے ساتھ مسلح ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی۔ پاک فوج اور ایٹمی توانائی کمیشن جیسے ادارے پاکستان اور اہلِ پاکستان کا سرمایہ ہیں۔
امریکہ میںاپنے  قیام کے دوران میں نے 2012 کے امریکی صدارتی انتخابات میں صدارتی امیدوار رومنی کو یہ کہتے سنا کہ ہم پاکستان جیسے ملک کو اس لئے نظرانداز نہیں کرسکتے کہ اس کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا اُمیدوار بارک اوبامہ بھی بیٹھا تھا اور پوری امریکی قوم یہ مناظر براہِ راست سن رہی تھی۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے اس کی اہمیت اور مقام میں کتنا اضافہ کیا ہے۔ 
اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مل کر اس عالمی وقار کو نہ صرف قائم رکھیں بلکہ اسے مزید کامیابیوں کی طرف لے جائیں۔ پاکستانی قوم امن، محبت اور اخوت پر یقین رکھتی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے چیلنج نہیں کرسکتی۔ اہلِ پاکستان کو  22 واں یومِ تکبیر مبارک ہو!!


مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں  شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ہیں۔

[email protected]


 

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP