قومی و بین الاقوامی ایشوز

یومِ آزادی

ہلال کے قارئین کو یوم آزادی مبارک ہو۔ اس سال الحمدﷲ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 68 برس مکمل ہو جائیں گے۔ وطن عزیز کے قیام سے لے کر آج تک ایک طویل عرصہ گزرا ہے اور اس تمام مدت میں نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان بننا آسان نہ تھا۔ اس کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے تاریخی جدوجہد کی۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بے لوث قیادت میں غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن کی جو تحریک شروع کی تھی اس کے لئے انہیں بے انتہا مصائب جھیلنا پڑے۔ بلوائیوں کے حملے‘ گھر بار کا اجڑنااور جلنا‘ یہاں تک کہ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھنا‘ ان سب مشکلات کے باوجود مسلمانوں کے حوصلے پست نہ ہوئے اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے بعد بالآخر 14اگست 1947کو مملکت خداداد پاکستان کی شکل میں انہوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر پالی۔

ہمارے بچپن میں 14اگست کو سکول و کالج کھلے رہتے تھے۔ درسگاہوں میں یوم آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ انگریزی اردو تقریری مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ملی گیت گائے جاتے تھے۔ اساتذہ قیام پاکستان کے حوالے سے معلوماتی لیکچر دیا کرتے تھے۔ پورے سکول کو سبز ہلالی جھنڈیوں سے سجایا جاتا تھا اور سب بچوں میں مٹھائی تقسیم ہوا کرتی تھی۔ ان سرگرمیوں سے نہ صرف جذبہ حب الوطنی کو تقویت ملتی تھی بلکہ طالب علم پاکستان کی تاریخ اور اسے حاصل کرنے کی جدوجہد سے بھی آگاہ ہوتے تھے۔

14اگست یقیناًہمارے لئے نہایت خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ ہر سال اس موقع پر سرکاری اداروں میں پرچم کشائی کی تقریب ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ عام تعطیل کا دن ہے۔ مگر ہمارے بچپن میں 14اگست کو سکول و کالج کھلے رہتے تھے۔ درسگاہوں میں یوم آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ انگریزی اردو تقریری مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ملی گیت گائے جاتے تھے۔ اساتذہ قیام پاکستان کے حوالے سے معلوماتی لیکچر دیا کرتے تھے۔ پورے سکول کو سبز ہلالی جھنڈیوں سے سجایا جاتا تھا اور سب بچوں میں مٹھائی تقسیم ہوا کرتی تھی۔ ان سرگرمیوں سے نہ صرف جذبہ حب الوطنی کو تقویت ملتی تھی بلکہ طالب علم پاکستان کی تاریخ اور اسے حاصل کرنے کی جدوجہد سے بھی آگاہ ہوتے تھے۔ قیام پاکستان میں جن عظیم قومی رہنماؤں نے اپنا کردار ادا کیا ان کے بارے میں بھی معلومات میں اضافہ ہوتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ یوم آزادی کی ایسی ہی ایک تقریب میں میں نے مباحثے میں حصہ لیا اور اول انعام حاصل کیا۔ انعام کے طور پر ملنے والی پاکٹ سائز ڈکشنری آج بھی میرے پاس بطور یادگار موجود ہے۔ نجانے اب گزشتہ چند سالوں سے کیوں یہ سلسلہ رک گیا ہے۔ لوگ چھٹی کا دن یا تو سو کر گزارتے ہیں یا ٹیلی ویژن کے آگے بیٹھ کے فضول ناچ گانا دیکھتے ہیں۔ یہاں بہت بوجھل دل کے ساتھ میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ سارا دن ٹی وی پر بھارتی فلمیں اور ڈرامے دیکھ دیکھ کر ہندوانہ رسمیں‘ ان کی ثقافت اورتہذیب سے ہماری نوجوان نسل کے ذہن آلودہ ہو رہے ہیں۔ دوقومی نظریہ جس کے نتیجے میں پاکستان کے حصول کی کوشش کی گئی اس کے بارے میں نہ بچوں کو بتایا جاتا ہے نہ انہیں بھارتی ثقافتی یلغار سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ زہر بری طرح پھیل رہا ہے جس کا ذمہ دار ہمارا میڈیا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پورے رمضان المبارک مذہبی پروگرام کرنے کے بعد چاند رات سے جو بھارتی فلمی ایوارڈ‘ بھارتی فلمیں اور بھارتی ڈرامے چلنے شروع ہوئے تو عید کے تینوں دن یہی خرافات چلتے رہے۔ وہی اینکرز جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دین کی باتیں کرتے رہے‘ عید پہ گویا شیطان سے چھٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔ کمر لچکا مٹکا کے وہ دھماچوکڑی مچائی کہ استغفار۔ عید الفطر ہو یا کوئی اور موقع‘ ہمارے میڈیا نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے کے بجائے صرف پیسا کمانے کا سوچ رکھا ہے۔ عید کا ذکر نکلا ہے تو یہ بھی تحریر کروں گی کہ ہمارے منتخب نمائندے جو ہمارے لیڈر بھی ہیں‘ تعطیلات منانے ملک سے باہر چلے گئے۔ کچھ تو پہلے ہی باہر تھے باقی نے بھی وطن عزیز میں اپنے ہموطنوں کے ساتھ عید منانے کے بجائے بیرون ملک تفریح کرنے کو ترجیح دی اور قومی خزانے پر ذاتی سفر کے اخراجات سے بوجھ ڈالا۔ایسے میں ایک قیادت ایسی بھی تھی جس نے عید الفطر اپنے جوانوں کے ساتھ محاذ پر منائی۔ جی ہاں ہماری فوجی قیادت یعنی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں فوجی جوانوں کے ساتھ عید منائی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ برس بھی عید فوجیوں کے ساتھ محاذ پر منائی۔ جہاں انہوں نے میران شاہ کیمپ میں رات قیام بھی کیا۔ جس قوم کا سپہ سالار ایسا جری‘ بہادر اور دردمند ہو اس کو اﷲ کے فضل سے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جنرل راحیل شریف کی رگوں میں وہ خون دوڑ رہا ہے جو شرافت‘ شجاعت اور متانت کا آئینہ دار ہے۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جسے بہادری کا سب سے بڑا قومی اعزاز یعنی نشان حیدر ملا ہے۔ نشان حیدر پانے والے دو عظیم پاکستانی سپوت میجر شبیرشریف اور میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جنرل راحیل شریف کے قرابت دار ہیں۔ پاکستانی قوم اپنے اس عظیم سپہ سالار پر فخر کرتی ہے اور ان کی درازی عمر کے لئے دعا گو ہے۔

گزشتہ پانچ سات برسوں میں کراچی کو دانستہ برباد کیا گیا۔ لوگ بلکتے رہے‘ سسکتے رہے‘ فریاد کرتے رہے‘ مرتے رہے مگر شنوائی نہ ہوئی۔نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اہلیان کراچی بالکل مایوس ہو گئے۔ پھر یوں ہوا کہ امید کی کرن پھوٹی اورجرائم کی بیخ کنی شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور ہر طرف سے رینجرز کے لئے دادوتحسین کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ہمارے سکیورٹی اداروں کو خدا سلامت رکھے۔ اس شہر کا امن بحال ہو رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف پر پاکستانی عوام کو اعتماد ہے۔ ان کی جانب سے اٹھایا جائے والا ہر قدم قابل صد تحسین ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں شاندار کامیابی انہی کی مرہون مت ہے۔ دفاع وطن میں مصروف ہماری سپاہ کو سلام جو ملک اور اس میں بسنے والوں کے لئے بہادری سے لڑ رہے ہیں اور جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ یہاں میں رینجرز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جن کی بے مثال کوششوں سے کراچی کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ کراچی کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے باعث اس کی اہمیت سے انکار نہیں۔روشنیوں کے اس شہر کو جانے کس کی نظر لگی کہ یہ تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ چوری‘ ڈکیتی‘ راہزنی‘ قتل و غارت گری‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغوا برائے تاوان‘ بھتا مافیا‘ قبضہ مافیا‘ نے اسے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی خصوصاً گزشتہ پانچ سات برسوں میں کراچی کو دانستہ برباد کیا گیا۔ لوگ بلکتے رہے‘ سسکتے رہے‘ فریاد کرتے رہے‘ مرتے رہے مگر شنوائی نہ ہوئی۔نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اہلیان کراچی بالکل مایوس ہو گئے۔ پھر یوں ہوا کہ امید کی کرن پھوٹی او رجرائم کی بیخ کنی شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور ہر طرف سے رینجرز کے لئے دادوتحسین کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ہمارے سکیورٹی اداروں کو خدا سلامت رکھے۔ اس شہر کا امن بحال ہو رہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے وطن کو اس کی فوج کو فوجی قیادت کو شاد و آباد رکھے۔ آ مین

پاک فوج زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ دو کتابوں کی خالق ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 53مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP